Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

کھٹے میٹھے فالسے اور کٹھن زندگی

SAMAA | - Posted: Jun 12, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 12, 2016 | Last Updated: 6 years ago

1

تحریر: ثمرہ افضل

صبح 5 بجے منہ اندھیرے ہم سب عورتیں اور بچے فالسے کے باغ میں آتے ہیں، پودوں سے کالے رنگ کے پکے ہوئے فالسوں کو چنتے ہیں، کچا سبز رنگ کا فالسہ ٹوٹ جائے تو باغ کا مالک ناراض ہوتا ہے، 70 سال کی ہوگئی ہوں، آنکھیں تھک جاتی ہیں سارا دن فالسے کے دانے چنتے چنتے، ایک کلو فالسہ توڑنے میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے اور مالک کلو فالسہ چننے کے 25 روپے دیتا ہے۔ پودے کی ٹہنیوں کو ہٹا کر پکے ہوئے فالسے کے دانے چنتی مائی حنیفاں مزید بولی کہ دوپہر 3 بجے تک 200 روپیہ بنا لیتی ہوں، 200 روپے کمانے کے بعد ہاتھوں میں مزید فالسے چننے کی ہمت نہیں بچتی، پھر سارا دن سورج کی آگ برداشت کرنا کونسا آسان کام ہے۔

1a

مائی حنیفاں جانتی ہے کہ گرمیوں کی یہ سوغات لو اور گرمی سے بچاتی ہے، فالسے کا شربت پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے، فالسے کھانے سے معدے اور جگر کو طاقت ملتی ہے، لیکن اماں حنیفاں کا کہنا ہے کہ یہ سب فائدے تو فالسے کھانے والوں کیلئے ہیں، چننے والوں کیلئے نہیں۔ میرے لئے تو یہ گھر کا چولہا جلانے کا ایندھن ہے۔

دوپٹے کے پلو سے ماتھے کا پسینہ پونجھتی مائی حنیفاں بولی کہ 3 بیٹے ہیں لیکن تینوں اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، میں اور میری بیٹی سارا دن فالسے چنتی ہیں تاکہ اپنی دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرلیں۔

1b

لاہور کے سگیاں پل کے بائیں جانب آباد فالسے کے باغات میں کام کرنیوالی درجنوں خواتین اور بچوں کیلئے یہ موسم کمائی کی نوید لاتا ہے، فالسے چننے والی خواتین کا کہنا ہے کہ مئی اور جون کے دوران فالسے اور لیچیوں کے باغات میں مزدوری مل جاتی ہے اور ان موسمی پھلوں کے بعد انہیں پھر کوئی اور مزدوری ڈھونڈنی پڑتی ہے۔

چھ ماہ کے بیٹے کو گود میں اٹھائے فالسے چنتی شکیلا بولی کہ خاوند نشہ کرتا ہے، بچے چھوٹے ہیں اور کوئی کمانے والا نہیں، میں سارا دن اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ بھوکے پیٹ کڑی دوپہر میں کام کرتی ہوں اور شام کو بمشکل اتنا کماتی ہوں کہ رات کی روٹی کا بندوبست ہو پاتا ہے۔

1c

شام تک زیادہ سے زیادہ فالسے چننے کی لالچ میں کئی کئی چھوٹے چھوٹے بچے بھی ماؤوں کے ہمراہ مزدوری کرتے ہیں، ننھے ننھے ہاتھوں سے فالسے توڑتے بچے شام تک بمشکل ڈیڑھ سے 2 کلو فالسہ ہی چن پاتے ہیں، غربت سے لڑتی خواتین کہتی ہیں کہ دل تو کرتا ہے کہ بچوں کو مزدوری کی بجائے گھر میں کھیل کود کرنے دیں لیکن مہنگائی اتنی ہے کہ سب کمائیں تو بھی گزارا نہیں ہوتا۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ دوسروں کیلئے گرمیوں کا کھٹا میٹھا تحفہ چننے والی خواتین خود یہ پھل نہیں کھا سکتیں، ایک تو باغ کے مالک کا ڈر اور دوسرا چنے ہوئے فالسوں کا وزن کم رہ جانے کی فکر، ان غریبوں کو اس پھل کے مزے سے دور ہی رکھتا ہے۔

1d

باغات کے مالکان ان خواتین کو تو ایک کلو فالسہ چننے کے 25 روپے دیتے ہیں لیکن خود بازار میں یہ پھل 150 سے 250 روپے فی کلو کے حساب سے بیچ کر خوب مال کماتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube