Tuesday, March 2, 2021  | 17 Rajab, 1442
ہوم   > بلاگز

چھوٹا ملک، بڑوں کیلئے مثال

SAMAA | - Posted: Jun 6, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 6, 2016 | Last Updated: 5 years ago

1

۔۔۔۔۔**  تحریر : شہباز احمد  **۔۔۔۔۔

بھوٹان ہمالیہ کی سر سبز وادیوں میں جادوئی حسن سے مالا مال سرزمین، حسین ثقافت اور قدرت کے شاہکار نظاروں کے باوجود بھوٹان دنیا کی نظروں سے جان بوجھ کر اوجھل رہتا ہے، سیاحوں کیلئے اس نے اپنے دروازے بند رکھے ہیں اور صرف مقررہ حد تک سیاحوں کو ہی آنے کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود بھوٹان کے حوالے سے اچھی خبریں دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنتی رہتی ہیں۔
forest 1 (shahbaz graph )

سال2014ء کے ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس میں یہ ملک پہلے نمبر پر رہا اور اس کے باسیوں کو دنیا کا سب سے خوش و خرم شہری قرار دیا گیا،سا بھوٹان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں جی ڈی پی کی بجائے گراس نیشنل ہیپی نیس انڈیکس یعنی قومی مسرت کو ترقی کا پیمانہ بنایا گیا ہے۔

1a

اور اب بھوٹان دنیا کا پہلا “کاربن نیگیٹو” ملک بن گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ یہاں کے جنگلات جذب کر لیتے ہیں، یہاں سالانہ ڈیڑھ ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے جبکہ وسیع رقبے پر موجود جنگلات 6 ملین ٹن استعمال کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحولیات کی تبدیلی میں سب سے اہم عنصر ہے جبکہ درخت آکسیجن کا اہم ترین ذریعہ ہیں جو ایکو سسٹم کو بہتر بناتے ہیں اور ہمارا تعلق فطرت سے قائم رکھتے ہیں، بھوٹانیوں نے بھی اسی نسخے پر عمل کرتے ہوئے گلوبل وارمنگ کو ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے، اسی لئے یہاں شجرکاری پر خاص توجہ دی جاتی ہے، ملک کا 72.3 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، بھوٹان نے اپنے آئین میں ضروری ترمیم کی کہ جنگلات کو ملک کے 60 فیصد رقبے سے کسی صورت کم نہیں ہونے دیا جائے گا۔

1b

شجر کاری کو خوبصورتی، لمبی زندگی اور خدا ترسی یا رحم کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، بھوٹانیوں کا ماننا ہے کہ ماحولیات کا انسانی خوشی میں اہم کردار ہے، یہاں بادشاہ کے پہلے بچے کی پیدائش پر جشن منایا گیا اور ملک میں چھٹی کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ خوشی کے اس موقع پر 82 ہزار نئے درخت لگائے گئے، بھوٹان والوں ںے صرف درخت لگانے پر ہی زور نہیں دیا بلکہ ماحول کو بچانے کیلئے کئی اہم اقدامات بھی کئے جو دیگر ملکوں کیلئے باعث تقلید ہیں، مثال کے طور پر فوسل فیولز کی بجائے متبادل ذرائع سے توانائی پیدا کی جاتی ہے، دیہاتوں میں مفت بجلی دی جارہی ہے تاکہ آگ جلانے اور کھانا پکانے کیلئے لکڑیوں پر انحصار ختم کیا جائے، ماحول کو بچانے کیلئے یہاں پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عائد ہے اور تمباکو نوشی بھی تقریباً غیر قانونی ہے، سیاحوں کی آمد پر پابندی بھی ماحولیات اور ثقافت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کیلئے محدود رکھی گئی ہے۔

1c

ایک ایسا ملک جو ماحولیات کے بچاؤ کیلئے پہلے ہی دنیا میں شہرت رکھتا ہے وہ اس منصوبے کو اس سے بھی کہیں آگے لے کر جانے کا ارادہ رکھتا ہے، بھوٹان ملک میں چلنے والی تمام کاروں کو بجلی پر شفٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور مستقبل قریب میں یہاں صرف الیکٹرک کاریں ہی چلیں گی، 2030ء تک زیرو نیٹ گرین ہاؤس گیس کے پلان پر بھی کام کر رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا سے کٹے ہونے کے باوجود بھوٹانی کتنے ترقی پسند، تخلیقی اور مثبت سوچ کے مالک ہیں۔

1d

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور ماحولیاتی استحکام کیلئے اس کے مجموعی رقبے کا 25 فیصد جنگلات پر مشتمل ہونا چاہئے، لیکن ہمارے لئے شرم کا مقام ہے کہ پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم رقبے پر جنگلات ہیں اور ہم درخت لگانے کے بجائے انہیں مسلسل کاٹنے پر لگے ہوئے ہیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان میں جنگلات کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سال میں پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 0.8 فیصد کم ہوگیا ہے، 2001ء میں جہاں جنگلات کا رقبہ 2.7 فیصد تھا، 2005ء میں کم ہو کر 2.5، 2011ء میں 2.1 جبکہ 2015ء میں محض 1.9 فیصد رہ گیا ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنیوالے دنوں میں جنگلات ویسے ہی ناپید ہو جائیں گے۔

دوسری جانب ہمارے ہمسائے ملک بھارت میں 24 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں  اور وہاں کمی کی بجائے درختوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، 2001ء میں اگر یہ تعداد 22.1 فیصد تھی تو 2015ء تک بڑھ کر 23.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

1e

اس پر ستم یہ کہ بڑے بڑے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور قدرتی آفات بھی ہماری آنکھیں نہیں کھول سکیں، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی خطرناک حد میں شامل ہیں، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سالانہ 67500 ایکڑ جنگلات سے محروم ہورہا ہے، جنگلات کم ہونے سے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، وہیں فضائی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے، اسی سال اپریل میں شمالی علاقہ جات میں لینڈ سلائیڈنگ سے 140 افراد لقمہٴ اجل بن گئے اور کئی بستیاں تباہ ہوگئیں، لیکن اس کے باوجود درختوں کی کٹائی روکنے یا نئے اُگانے کے حوالے سے کبھی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے، ہر سال سیلاب آتے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر تباہی مچاتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے مستقبل میں بڑے سیلاب آنے کا اندیشہ بھی بڑھ گیا ہے، خیبرپختونخوا حکومت نے ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے لیکن اب بھی ماحولیاتی تبدیلی کے سبب قدرتی آفات اور تباہی سے بچنے کیلئے ڈیڑھ سے 2 ٹریلین درخت لگانے کی فوری ضرورت ہے۔

1f

پاکستان کی کل آبادی کا 20 فیصد بنیادی سہولتوں سے محروم ہے جبکہ دیہات میں بجلی و توانائی کی سہولتیں میسر نہ ہونے کے باعث لکڑیاں جلا کر گزارہ کیا جاتا ہے اور لکڑیوں کے حصول کیلئے درخت کاٹے جارہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر جنگلات کی کمی کے باعث زمین بنجر ہوجائے گی جو زراعت کیلئے بھی تباہ کن ہے مگر ہمارے ہاں درخت کی نہیں بلکہ اس کی لکڑی کی اہمیت زیادہ ہے، نہ جانے ہم کب سمجھیں گے کہ اک رُکھ سو سکھ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube