Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

سڑکوں پر اسپتالوں کو ترجیح دیں

SAMAA | - Posted: Jun 6, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 6, 2016 | Last Updated: 6 years ago

GR8A6017_0

تحریر: جہانزیب منہاس

وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف سرجری کے بعد اللہ کے فضل اور پاکستانی عوام کی دعاوں سے تیزی سے صحتیاب ہو رہے ہیں اور ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ پاک ان کا سایہ ان کے خاندان ہر ہمیشہ سلامت رکھے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ مشکل اور پریشانی کے ان لمحات میں جس طرح پاکستانی عوام نے اپنے لیڈر کا ساتھ دیا ہے شاید ہی اس کی دنیا میں کہیں اور مثال ملتی ہو کیونکہ ایک ایسے وقت جب وزیراعظم کے خاندان کا ہر شخص کرپشن میں ملوث پایا گیا ہے تب پاکستانی عوام نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر جناب وزیراعظم کے حق میں دعائیں کیں۔ ایک ایسے وزیراعظم کےلئے دعا کی جو تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم بنے مگر ملک میں ایک بھی ایسا اسپتال نہیں تھا جہاں وہ اپنا علاج کرواتے۔

وزیراعظم کی بیرون ملک سرجری نے بہت سارے سوالا ت کو جنم دیا ہے جن کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا پاکستان میں صحت کے شعبہ پر عدم اعتماد، جس پر وہ  ہمیشہ سڑکوں اور میڑو  کو ترجیح دیتے  رہے ہیں؟ غریب پاکستانی کو یہ باور کروایا کہ بھائی تیری تو زندگی رب کے کرم کی وجہ سے بچ رہی ہے ورنہ یہ اسپتال اس قابل کہاں کہ ایک عظیم الشان گھر کا چشم و چراغ یہاں علاج کرائے تمہاری تو کوئی مجبوری ہوگی جو ان گلے سڑے بستروں پر پڑے ہو مجھے کیا مجبوری ہے؟ اسپتال کی اہمیت ہمارے ایلیٹ کلا س کے ذہن میں شاید اس لئے بھی نہیں آتی کیونکہ ان  کا اور ان کے اہل خانہ کا معمول کا چیک اپ بھی پردیس میں ہوتا ہے اور پاکستان کے لیے سڑکیں اور موٹر ویز اس لئے بھی ضرور ی ہیں تاکہ عظیم الشان ریسنگ ٹریکس پر یہ اعلیٰ نسل کے شہزادے اپنی مہنگی گاڑیاں دوڑا سکیں۔

PM SURGERY PKG 31-05

جناب وزیراعظم اللہ نے آپ کی سرجری کامیاب کی ہے مگر یاد رکھیں اس وقت پاکستان میں آبادی کے تناسب سے 1500 لوگوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے 3644 لوگوں کے لئے ایک نرس ہے۔ پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز بھی مجبور ہیں جنہیں اپنے مطالبات کے لئے  سڑکوں پر آنا پڑتا ہے ۔ ینگ ڈاکٹرز آئے دن ہڑتال پر ہوتے ہیں اور شاید حکومتی رویے سے مایوس ہو کر آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب سجائے مڈل ایسٹ اور لندن کا رخ کر رہے ہیں۔ اسپتالوں کی او ۔ پی ۔ ڈی میں اسٹاف کی کمی، جان بچانے والی ادویات کی عدم فراہمی، ابتدائی طبی سہولیات کی کمی حتیٰ کہ آیکو ٹیسٹ کی سہولت تک میسر نہیں جس میں پتہ لگ سکے کہ مریض کے دل کی کیا حالت ہے یا انجیوگرافی جس نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کتنے عرصے بعد مریض کی سرجری کرنی ہے۔ اس ٹیسٹ کی تاریخ ایک سال کے بعد کی دی جار ہی ہے اور بے شمار لوگ  بیچارے مر رہے ہیں اور ہم صرف اتنا کہہ پاتے ہیں کہ اچانک ہارٹ اٹیک آیا اور مر گیا۔

مگر اب ایک امید پیدا ہوئی ہے میاں صاحب اور ان کے خاندان پر گزرا یہ کڑا وقت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وہ سمجھ سکتے ہیں کہ 80 ارب کی میڑو اور کشادہ سڑکوں پر سے گزر کر اگر مریض جلدی سے اسپتال پہنچ بھی جائے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مشین، ادویات اور اسٹاف کا ہونا بھی ضروری ہے۔ محترمہ مریم صاحبہ پلیز آپ یہ جان لیں کہ ہر بیٹی کا دل اپنے باپ کے لئے اسی طرح دھڑکتا ہے جیسے آپ اداس تھیں۔ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ آپ کو باور ہو گیا ہوگا کہ ایک عورت کا مجازی خدا جب زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہا ہوتا ہے تو منگنی سے لے کر آپریشن تھیڑ کے بستر تک کے دن رات کیسے آنکھوں کے سامنے رقصاں ہوتے ہیں۔

01-5-910x455

پاکستان جیسے ملک میں جہاں روزانہ پچاس سے زیادہ لوگوں کی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری کی جاتی ہے وہاں پر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ روزانہ 200 سے 250 لوگ صرف دل کے عارضہ میں مبتلا ہو کر موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں جن میں اکثر کی عمریں 30سے 55 سال کی ہوتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میاں صاحب اپنا علاج لندن کے بجائے لاہور یا راولپنڈی کے کسی اسپتال سے کرواتے تو وہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے یا محسوس کرسکتے کہ ان کی بیماری میں ایک عام پاکستان کے ساتھ کیا بیتی ہے، شاید پھر وہ سڑکوں پر اسپتالوں کو ترجیح دیتے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube