ہوم   >  بلاگز

تم ایسے روٹھے کہ مدرزڈےپربھی نہ آئے

SAMAA | - Posted: May 16, 2016 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: May 16, 2016 | Last Updated: 4 years ago

mom2

مدرز ڈے کو گزرے کتنے دن ہو گئے ۔ یہ تو گزرگیا ہے، ناجانے اب اور بھی کتنے گزریں گے۔ اس دفعہ بھی میرے کان  اس دستک کو سننے کے لیے بے قرار تھے جو تم کئی سالوں سے مدرز ڈے کی رات میرے دروازے پر دیتے تھے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی بڑی گرم جوشی سے  مجھ سے لپٹ جاتے اور ہیپی مدرز ڈے کہتے ہوئے میرے ہاتھوں اورماتهے کو چومتے نہ تھکتے تھے۔کتنی دیر اپنی بانہوں کے حصار میں لے کر مجھ سے چپکے بیٹھے رہتے تهے۔اپنی سال بهر کی پا کٹ  منی میں سے بچا بچا کر  میرے لیے تحفہ بهی لاتے تھے۔جس کو دیکھتے ہی میں  تم سے خفا ہوتی اور کہتی کہ اس کی کیا ضرورت  تھی ۔ یہ کہتے ہوئے میں تمہارے ماتھے کو چومتی،  تمہارے سر کو سہلاتی اور مسکرا کر تمہاری طرف دیکھ کر کہتی تم ہو نا میری زندگی کا خوبصورت ترین اور سب سے قیمتی تحفہ اور تمہیں لمبی زندگی کی دعائیں دیتی تھی ۔

صبح ہوتے ہی  سرپرائز کے طور پر تم اپنے ہاتھوں سے میرے لیے ناشتہ بنانے میں لگ جاتے۔باورچی جانے میں شور شرابے  کی وجہ سے میں نیند سے بیدار ہوجاتی مگر کمرے سے باہر نہ آتی تاکہ تمہارا سرپرائز قائم رہے۔اس بعدناشتہ کی ٹرے سجائے جب تم کمرے میں  داخل ہوتے تو میں سونے کی اداکاری کرتی اوریہ ظاہر کرتی کہ تمہاری آوازسےمیری آنکھ  کھلی  ہے۔ اس پر تم ایک بارپھر ہیپی مدرز ڈے کہہ کرمجھ سےلپٹ جاتے۔ محبت بهری ٹرے میں ناشتہ سجائے میرے آگے کرتے، اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر میرے منہ میں ڈالتے اور ساتھ ساتھ مذاق مذاق میں وه تمام ہدایات دی جاتیں جوکہ بچپن میں  کھانا کھاتے ہوئےتم کو دی جاتی تھیں کہ نوالہ چبا چبا کر کھانا ہے،ناشتہ سارا ختم کرنا ہے،شاباش منہ کھولیں یہ آیا یہ آیا امی کا نوالہ اوراس ہی ہنسی مذاق میں تم مجھے ناشتہ کروا دیتے۔

MOM1

اس بار میں مدرز ڈے پر سارے دن سے بھوکی تهی۔ بہت کوشش کی کہ نوالہ حلق سے نیچےاترجائے پر یہ ممکن ہی کیسے تھا کیونکہ میرا حلق اس دن تمہارے ہاتھ  سے بنائے ہوئے ناشتے کاعادی تھا۔ میں دن بهر تمہاری راه تکتی رہی مگرتم ایسے روٹهے کہ مدرز ڈے پر بهی نہیں  آئے۔ حالانکہ مدرز ڈے اتوار کو تها۔ باچا خان یونیورسٹی میں بھی چھٹی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود بھی تم گهرنہیں آئے۔ میں جانتی ہوں کہ اب تم کبھی بهی گھر نہیں آؤ گے کیونکہ دہشت گردوں نے تم کواس جہاں  بھیج دیا ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا ۔

mom3

تمہیں اس دنیا سے گئے ہوئے کئی ماه  گزر چکے ہیں  پر اب بهی میرا دل کبهی کبهی اس خوفناک سانحے کوماننے سےانکاری ہوجاتاہے۔ ہر دستک پر،ہر آہٹ پر،ہر چاپ پر نظریں تمہیں تلاش کرتی ہیں مگرتم کوکہیں نہیں پاتیں۔

مدرز ڈے پر تم تو نہ آئے مگر تمہارے دوست ہمارے گهرآئےتهے۔ گھنٹوں  بیٹھے بهی رہے لیکن ان کو اور مجهے یہ سمجھ نہیں آرہی تهی کہ کون کس کو دلاسہ دے،کون کس کو تسلی دے۔ ہم آنسوکی زبان میں گفتگو کرتے رہے۔تمہارے دوست کل بهی تمہارے ہی کمرے میں بیٹھے تهے۔ میں نے تمہارے کمرے کی ایک ایک چیز بڑے قرینہ سے سجا کررکھی ہے۔کمرے کی ہرچیزتمہیں چیخ چیخ کر پکارتی ہے۔

تمہارے کپڑوں  اور کتابوں سے بهرا بیگ  جو تمہارے دوستوں نے اپنے لرزتے  ہاتھوں سے  میرے سپرد کیا تها، وه بهی تمہارے کمرے کے  ایک کونے میں رکھا ہے۔تمہارے جوتے پالش کروا کر الماری میں رکھے ہیں ۔ کپڑوں کی الماری تمہاری بے ترتیبی کی کب سے منتظر ہے۔ تمہارا موبائل جس کی بےوقت کی گهنٹیوں سے میں اکثر  پریشان رہتی تهی،اب ایک عرصہ سے خاموش تمہارے بستر کے ساتھ والی میز پررکھاہے۔ کمرے کی دیواروں پر تمہارے ہاتھ کے بنائے گے پورٹریٹ بهی آویزاں ہیں۔ تمہاری من پسند گھڑی بهی دیوار پر لگی ہے۔ تمہارے علاوہ ہر چیز جوں کی توں اپنی جگہ برقرار ہے۔ ان تمام تر چیزوں کے باوجود ایک خوفناک سی خاموشی تمہارے کمرے میں راج کرتی ہے۔

mom4

تمہارے کمرے کی خاموشی میں گھڑی کی  ٹک ٹک  میرے اندر طوفان برپا  کر دیتی ہے ۔اس خاموشی کے طوفان کے آتے ہی کمرے میں سسکیوں اور آہوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ گھرمیں ایک ہو کاعالم رہتا ہے۔ خاموشی کا سکوت ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتا۔اگرچہ گھرمیں لوگوں کا تانتا بندھا  ہی رہتا ہے، ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی تسلی  میری خالی گود میں ڈال کر چلا  جاتا  ہےمگر میری اجڑی ہوئی گود ان کی دلجوئی کے باوجود بهی خالی رہتی ہے۔ ان کے حرف تسلی سے نہ تو میرے دل کو قرار آتا ہے اور نہ ہی میرے گهر کی  ویرانی میں کمی ۔کیونکہ میں جانتی ہوں کہ اب کسی مدرز ڈے پر تم نہیں آؤ گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube