Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

فلمی مٹیاراں

SAMAA | - Posted: May 15, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: May 15, 2016 | Last Updated: 5 years ago

—–**  تحریر: منصور احمد  **—–

1

پاکستان فلم انڈسٹری کے اُفق پر بے شمار چہرے ايسے گزرے ہيں جہنوں نے اپنی لازوال اداکاری کے ذريعے ديکھنے والوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے، اگر ماضی کے جھروکے ميں جھانک کر ديکھا جائے تو ان ميں ايسی اداکارائيں بھی شامل ہيں جن کے کردار آج بھی زندہ و جاويد ہيں۔

فردوس

1a

اداکارہ فردوس کا اصل نام پروين ہے، فردوس کی فلم ہير رانجھا نے بے پناہ مقبوليت حاصل کی، پنجابی فلموں کی کامیاب اداکارہ فردوس پر ملکہ ترنم نور جہاں کے لازوال نغمے فلمائے گئے، فردوس کی مشہور فلموں ميں باؤجی، ہير رانجھا، جاگ اٹھا انسان، دو مٹياراں، مرزا جٹ، چن تے چکوری، انسانيت، ملنگ عورت شامل ہيں، اداکارہ فروس کے نام سے لاہور ميں ايک مارکيٹ بھی منسوب ہے۔

آسيہ

1b

“مولا جٹ کی مکھو جٹی” آسیہ بیگم 1951ء میں بھارتی پنجاب میں پیدا ہوئیں، پاکستانی فلم انڈسٹری میں “پری چہرہ” کے نام سے مشہور آسیہ کا اصل نام فردوس تھا، ہدایت کار شباب کیرانوی کی فلم انسان اور آدمی سے کيریئر کا آغاز کيا، ہدایت کار رنگیلا کی فلم “دل اور دنیا “میں آسیہ نے اندھی لڑکی کا کردار اس خوبصورتي سے نبھايا ہے جو مدتوں ياد رکھا جائے گا، آسیہ  کا انتقال 9 مارچ 2013ء کو کينيڈا ميں ہوا۔

ديبا بيگم

1g

اداکارہ دیبا  کا اصل نام راحیلہ ہے، مونا ليزا سے مشابہہ مسکراہٹ والی اداکارہ نے اپنے فنی کيریئر کا آغاز 1959ء فلم فيصلہ سے کيا، بطور ہيروئن ان کی پہلی فلم چراغ جلتا رہا ہے، اداکارہ ديبا حيات ہيں اور پاکستان ميں قيام پذير ہيں۔

مسرت نذير

1c

مسرت نذیر 13 اکتوبر 1940ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں، 1950ء کے عشرے میں وہ ریڈیو پاکستان سے گیت گاتی رہیں، مسرت نذير نے اپنے فلمی سفر کا آغاز 1955ء ميں انور کمال پاشا کی فلم ”قاتل” سے کيا۔ مسرت نذير کی فلم يکے والی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے ریکارڈ کامیابی حاصل کی اور فلم پروڈيوسر باری ملک نے اس کی کمائی سے باری اسٹوڈیو تعمیر کیا، مسرت نذير نے بطور گلوکارہ بھی بے پناہ شہرت حاصل کی ان کے مشہور گيتوں ميں میرا لونگ گواچا، لٹھے دی چادر اُتے سلیٹی رنگ ماہیا، چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر اور ديگر شامل ہيں۔ مسرت نذیر بيرون ملک مقيم ہيں۔

شميم آرا

1d

روشنیوں کے شہر کراچی میں 1938ء میں پیدا ہونیوالی پتلی بائی نے 1956ء میں شمیم آرا کے نام سے پہلی مرتبہ بطور ہیروئن فلم کنواری بیوہ میں کام کیا، شمیم آراء نے اداکاری ہدایتکاری اور فلمسازی کے شعبوں میں اپنا لوہا منوایا، بطور ہیروئن ان کی شاہکار فلموں میں اک تیرہ سہارا، قیدی، نائلہ، صائقہ، سالگرہ اور دوراہا جبکہ بطور ہدایتکارہ پلے بوائے، مس ہانگ کانگ، بیٹا، ہاتھی میرے ساتھی ہیں۔ شميم آراء بيماری کے باعث اسپتال ميں زير علاج ہيں۔

رانی

1e

رانی کا اصل نام ناصرہ اور وہ 1946ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں، ہدایتکار انور کمال پاشا نے رانی کو 1962ء ميں فلم محبوب میں متعارف کرایا ليکن اس فلم کو کوئی خاطر خواہ کاميابی نہ مل سکی۔ اداکارہ رانی کی یکے بعد دیگرے 10 فلمیں بری طرح ناکام ہوئیں جس کی وجہ سے رانی پر بدقسمت اداکارہ کا ٹھپہ لگ گیا۔ 1967ء میں ہدایتکار حسن طارق کی فلم دیور بھابی نے رانی کی قسمت کا ستارہ چمکا ديا۔ اس کے بعد انہيں بے پناہ مقبوليت حاصل ہوئی رانی کی مشہور فلموں ميں بہن بھائی، انجمن، اُمراﺅ جان ادا، بہارو پھول برساﺅ، ناگ منی، ثریا بھوپالی اور ديگر شامل ہيں۔ اداکارہ رانی کينسر کے باعث 27 مئی 1993ء کو انتقال کرگئيں۔

نادرہ

1f

اداکارہ نادرہ کا اصل نام فرح تھا، نادرہ کو ہدایت کار یونس ملک نے 1986ء میں اپنی فلم ‘آخری جنگ’ میں متعارف کرایا، دلکش حسن، متناسب سراپے اور رقص میں مہارت کے باعث وہ بہت جلد فلم شائقين کے دلوں میں گھر کر گئیں۔ 6 اگست 1995 کی شام لاہور کی معروف مارکیٹ میں نامعلوم ڈاکوؤں نے ڈکیتی کی واردات کے دوران فائرنگ کرکے نادرہ کو قتل کردیا۔

فلم انڈسٹری ميں ان کے علاوہ بھی ايسے کردار گزرے ہيں جہنيں مدتوں رکھا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube