Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

ہم کوئی شہادت بھولے نہیں

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2016 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Apr 7, 2016 | Last Updated: 5 years ago

3f9a75ec220bd1a3f551cf6002419cc2

مقامی زبان میں اسے کہتے تو سیاہ گلاب ہیں، مگر یہ برف کا ایک ایسا گلاب جس کا سن کر ہی آپ سردی سے ٹھٹھرنے لگیں، جی ہاں، سیاچن۔

ہماری شادی کے ایک مہینے بعد ہی ان کی سیاچن کے علاقے گیاری کی پوسٹنگ آگئی تھی، وہ تو خوش تھے، مگر مجھے جانے کیوں ایک مہینے پہلے سے ہی اپنے چاروں جانب برف ہی برف نظر آنے لگی، کہتے ہیں کہ فوجی کی بیوی کو ہر وقت سامان باندھنے کی پریکٹس کرنی ضروری ہے، اللہ جانے کب ، کیوں، کیسے  اور کہاں کا بلاوا آجائے،ہاں مگر شاید میں نے اس مقولے کو سنجیدگی سے نہ لیا، ایک مہینہ کب گزرا ، کیسے گزرا سمجھ ہی نہ آیا، پھر ایک روز ان کا بیگ تیار  کیا، ضروری اشیاء ساتھ کیں، اور گاڑی آگئی، وہ سب سے ملے، گاڑی میں بیٹھے اور منزل مقصود کی جانب بڑھ گئے۔

siachen-1

مجھ سے وعدہ کرکے گئے تھے، ہر ہفتے نہ سہی مگر ہر مہینے خط ضرور لکھیں گے، مگر سیاچن جانے والے سب جانتے ہیں،کتنے لوگ زندہ واپس آتے ہیں، کچھ سبز ہلالی پرچم لہرا کر اور کچھ سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر، جاتے ہوئے گھر والوں سے ادھورے وعدے کرنے والے کہ ہم لوٹ آئیں گے!!،مختصرسامان کیساتھ چھوٹا بکسہ تیار کیا، یادوں کے نام پر فقظ تصاویر ساتھ رکھیں اور چل دیئے، حکم کے منتظر یہ جانباز جاتے تو اپنی مرضی سے ہیں، مگر واپسی کس کے حکم سے ہوتی ہے یہ سب کو پتا ہے۔

A Pakistan army soldier looks at the hea

وہ چلے گئے اور دن گویا کچھوے کی چال کے مانند گزرنے لگے، ہر گھنٹی کی آواز پر مجھے یہ ہی گماں ہوتا کہ ان کا خط آیا ہے، ہر فون کی آواز پر لگتا شاید یہ ان کی کال ہے، ایک ہفتے ، دو ہفتے اور پھر تیسرا ہفتہ بھی گزر گیا، گھر والوں کو تو ان کے غائب رہنے کی عادت تھی،عادت تو مجھے بھی تھی کہ فوجی ابا اور فوجی بھائیوں کو شروع ہی سے ایسا دیکھا تھا، مگر یہ تجربہ گویا عجیب ہی نوعیت کا لگ رہا تھا۔

Celebrate-National-Letter-Writing-month-with-HelloLucky

پھر ایک روز ان کا (ایروگرام ) خط آ ہی گیا، جس میں انہوں نے مختصراً اپنے حالات لکھے ہوتے تھے،مختصر سے خط میں گھر سے نکلنے سے پوسٹ تک پہچنے کا تمام احوال،قسط نمبر ایک کر کے بھیجا تھا۔ خط پڑھ کر ایسا لگا کہ سیاچن صرف لفظ نہیں، یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں کروڑوں کہانیاں دفن ہیں، اور ابھی انگنت داستانوں نے جنم لینا ہے،ایسا صحرا جس کے حد نگاہ تک صرف برف ہی برف ہے، مگر یہاں موجود فوجیوں کے جذبوں کے آگے یہ برف کا سمندر کچھ نہیں، وہاں موجود سپاہی کو بس پتا ہوتا ہے تو اتنا کہ وطن کی مٹی نے پکارا اور انہوں نے لبیک کہا ہے۔

اکیس ہزار فٹ کی بلندی پر موجود یہ فوجی ازلی دشمن کی ہر سازش ناکام بنانے کیلئے سخت ترین موسم سے نمبرد آزما ہوتے ہیں،اپنی سرحد کی حفاظت کیلئے چوبیس گھنٹے تعینات رہتے ہیں، ہاں، مگر ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے لوگ کیا جانیں کہ برف کے درمیان منفی 60 ڈگری کے درجہ حرارت کے بیچ اٹھنے والے برفانی طوفان سے مقابلہ اور اس میں جینا کتنا مشکل ہوتا ہے؟؟۔

Pak Army Namaz

پہلے خط میں لکھا تھا کہ آبادی سے کوئی ایک سو کلو میٹر دور ان کا بٹالین ہیڈکواٹرز تھا، مگر سڑک صرف پچاس کلو میٹر تک ہی ساتھ دیتی ہے، اس سے آگے جانے کیلئے چھوٹے ٹرک اور جانور زندہ باد۔اس علاقے میں بھارت سے بڑا دشمن موسم ہوتا ہے، یہاں تعینات فوجی اتنی دشمن کی گولیوں سے نہیں مرتے جتنے موسم کی سختیوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔

siachen

خط میں مزید لکھا تھا کہ انہیں اور دیگر فوجیوں کو بٹالین ہیڈکواٹرز سے بیس تک جانے میں کئی دن لگے، اور بیس سے پوسٹ تک چڑھائی میں بھی گھنٹوں صرف ہوئے، بس ایک قطار میں سب رسی کو پکڑے چلتے رہے اور تمام فوجی اسی ایک رسی سے ایک دوسرے سے جڑے رہے۔ پوسٹ بلندی پر ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی سپلائی مشکل تھی، یعنی ہماری لڑائی، دشمن، برف اور آکسیجن سے بھی تھی، ہر وقت موٹے موٹے انسولیٹڈ سوٹس پہنے ہوتے ہیں۔

اگلو کی بنی پوسٹ کے اندر ہر وقت کیروسین آئل کا اسٹوو جلاتے ہیں، جس سے اگلو کے اندر اتنا کاربن بھر جاتا ہے کہ تھوک تک کالا ہو جاتا ہے، ہفتے ہفتے بعد ہیلی کاپٹر آتا ہے اور کھانا سپلائی کرکے چلا جاتا ہے، یہاں ملنے والی ہر چیز جمی ہوئی ہوتی ہے، برف کو پگھلا کر پانی بناتے ہیں، جمے ہوئے انڈوں کو گرم پانی میں پگھلاتے ہیں، اس پر بھی سردی سے منجمد ہو جانے کا خطرہ ہر وقت رہتا ہے،مگر کتنی ہی سردی کیوں نہ ہو، حوصلے اور جذبے لہو گرماتے ہیں، ویسے یہاں زیادہ تر حادثات سردی سے اعضاء کے منجمد ہونے سے  ہوتے ہیں، جسے فروسٹ بائیٹ کہتے ہیں،جس میں اکثر اعضاء جیسے انگلیاں وغیرہ تو ایسے ٹوٹ جاتی ہیں جیسے سوکھی لکڑی ٹوٹتی ہے،مگر تم پریشان نہ ہونا، میں خیریت سے ہوں اور مزے میں ہوں، ہم سب فوجیوں کیلئے دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کامیاب کرے اور ہم شہید کا رتبہ پائیں، کتنی آسانی سے وہ مجھے یہ دعا کرنے کیلئے کہہ رہے تھے، اور میں لاکھوں میل ان سے دور ایسے لمحے کا سوچ کر ہی کانپ گئی تھی اس بات سے بے خبر کے وہ مجھے آنے والے دنوں کیلئے تیار کر رہے ہیں۔

ap050201012940

دو مہنیے بعد ان کا دوسرا خط آیا، جو پہلےسے بھی مختصر تھا، بس اتنا لکھا تھا کہ وہ پوسٹ سے گیاری میں بٹالین ہیڈکواٹرز آگئے ہیں، ایسے ہی چار مہینے گزر گئے، مگر دوسرے خط کے بعد تیسرا خط نہ آسکا،شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، اچانک برف کے اٹھے طوفان سے گلیشیئر نے ایسی کروٹ لی کہ رات کے اندھیرے میں جو جہاں تھا وہی کا ہو کر رہ گیا اور پورا 6 ناردرن لائٹ انفنٹری کا بٹالین ہیڈکواٹرز 80 فٹ کی بلندی سے گرنے والے گلیشیئر کا لقمہ بن گیا۔ آن کی آن میں سب کچھ مٹ گیا اور موت نے کسی کو بھی سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ بس زمین پھٹی اور سب کچھ برف کی تہہ میں دفن ہوگیا، چشم زدن میں حادثہ ہوا میرے شہید سوتے ہی رہ گئے۔

IndiaTvff29f2_avalanche1234

فوج کو اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں مدد کو پہنچیں، مگر خراب موسم کے باعث کچھ نہ ہوسکا، گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ امیدیں کم ہونے لگی، فوج کی جانب سے ہر ممکن وسائل استعمال میں لائے گئے، ہر ممکن کوشش کی گئی، برف کاٹنے والے آلات سے لے کر سنسر اور نہ جانے کیا کیا مشینیں بھیجی گئیں، مگر کوئی بھی کوشش بار آور ثابت نہ ہوسکی۔

حادثے کے وقت وہاں رات کا درجہ حرارت گر کر منفی 42 ڈگری اور دن میں منفی 25 ڈگری تک ہو جاتا تھا، خراب موسم کے باوجود ریسکیو ٹیموں کی کوششیں جاری تھیں، لیکن وہ فوجیوں کو بچا نہیں سکیں، بھلا دل کو کون سمجھاتا، جسے اب بھی کسی معجزے کی آس تھی۔

Pakistan military spokesman Major Genera

اور پھر ایک شام فوج کی جانب سے پریس کانفرنس میں 135 فوجیوں اور سویلین کی شہادت کا اعلان ہوگیا۔ میں اور اماں اس وقت بھی مصلیٰ بچھائے اپنے رب کے حضور معجزے کے انتظار میں تھے مگر ایک پل میں ہی اس اعلان نے دنیا بدل ڈالی۔

Veiled women place flowers underneath thیہ کہانی صرف میری ہی نہیں ایسی ہزاروں بیویوں، ماؤں اور خاندانوں کی ہے، جن کے سیاچن جانے والے فوجی اپنے گھر والوں سے ادھورے وعدے کرکے آتے ہیں کہ میں تیری شادی پر آؤں گا، بیٹا میں تیرے پاس ہونے پر آؤں گا، میں تیری سالگرہ پر آؤں گا،اب میں اپنی شادی پر ہی آؤں گا، ان کے مکانوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں، کھڑکیاں کھلی رہتی ہیں، مگر وہ واپس نہیں آتے اور انتظار کی راہ دیکھتی آنکھیں ایک دن ہمیشہ کیلئے بند ہوجاتی ہیں مگر وہ پھر بھی نہیں آتے، آتے ہیں تو سینے پر شجاعت کا تمغہ سجا کر اور سبزہلالی پرچم میں لپیٹ کر۔

میرے وطن کہ یہ عظیم جانباز مقدس فریضے کو انجام دیتے دیتے جانوں سے گزر جاتے ہیں، ان شہداء کے شاداب و تاباں چہرے آج بھی میری نگاہوں میں گھوم رہے ہیں۔ یہ وہ بہادر سپوت ہیں جو ہماری دعاؤں ہمارے دل میں بستے ہیں، یہ ہمارا فخر کہلاتے ہیں، ہمارے نغموں ترانوں کو جوش دیتے ہیں، حوصلوں کو جلا بخشتے ہیں، گلابوں کی طرح ان کے چہرے ابد تک کیلئے مہکتے رہیں گے۔

ghgf

خوش نصیب ہیں وہ مائیں، وہ باپ جن کے ہاں ایسے جانبازوں نے جنم لیا، اپنا خون اس ملک کے چپے چپے کی حفاظت کی نذر کیا۔ ہمارے شہداء کی قربانی ہمارے اوپر قرض ہے، ہمیں ان کی کہانیوں اور ان کی شہادتوں کو زندہ رکھنا ہے، مان رکھنا ہے،ہمیں انہیں تادم قیامت یقین دلانا ہے کہ “ہم کوئی شہادت بھولے نہیں”۔  سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube