ہوم   >  بلاگز

لکھے پڑھے ہوتے اگر

SAMAA | - Posted: Mar 12, 2016 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 12, 2016 | Last Updated: 4 years ago

leter writing

تحریر: راضیہ سید

کارنس پر سجا ہوا ریڈیو زور و شور سے بج رہا تھا ، پرانے گیتوں کے پروگرام میں ایک گانا چل رہا تھا۔

‘‘لکھے پڑھے ہوتے اگر, تو خط تمہیں لکھتے ’’

بات تو کمال کی ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ خطوط نویسی کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے تاہم انداز بیان بھی سلجھا ہوا ہی ہونا چاہیے اور یہی چیز اہم بھی ہے ۔خط تو لکھے جناب ہمارے اور آپ کے ہر دل عزیز شاعر غالب نے جنہوں نے اردو زبان کو ایک نئے اسلوب سے متعارف کرایا اور جدید اردو نثر کی بنیاد رکھی ۔غالب کے تمام خطوط کو پڑھا جائے تو ایک مکمل آپ بیتی تیار ہو جاتی ہے۔

ghalib2

لیکن افسوس کیوں نہ کریں کہ وقت کی کمی اور جدت نے ہمیں براہ راست میل ملاپ سے تو روک ہی دیا لیکن جناب خطوط نویسی بھی کم متاثر نہیں ہوئی ۔ ہم نے بھی یہ نہ سوچا کہ جناب کسی سے مل نہیں سکتے تو چلیے اپنے رشتہ داروں اور احباب کے لئے دو سطریں ہی کاغذ پر لکھ ڈالیں ۔ مزے کی بات دوست احباب بھی اسی مناقفانہ دور کی پیداوار ہیں کہ خط لکھتے جاؤجواب ندارد ۔اب اس سب کا نقصان کیا ہوا ؟ پہلے تو ہماری زبان و بیاں کی خوبیاں ہی ختم ہو گئیں ، اردو جو پہلے ہی ایک مظلوم زبان کا درجہ رکھتی ہے اسے اب خطوط نویسی ترک کر کے ہم نے ایک محروم زبان بھی بنا ڈالا ۔

دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ہم اب آدھی ملاقات سے بھی محروم ہو گئے ، جب کسی چاہنے والے کو اس کے پیاروں کا خط ملتا تھا تو اسکی مسرت دیدنی ہوتی تھی ۔ عیدین اور اہم تہواروں پر کارڈرز بھی ایک رسم ہوتی تھی ۔ خیر خطوط تو وہ بھی تھے جو خوشبؤوں میں بسے ہوئے ہوتے تھے اور ان میں خشک پھول بھی موجود ہوتے تھے لیکن یہاں بات عمومی خطوط کی ہو رہی ہے ۔ بچپن میں ننھیال او ردوستوں کی جانب سے آنے والے خط بہت دل چسپ ہوتے تھے ، ہم سب بہن بھائی چھوٹے تھے ، اتنا اچھا خط تو نہیں لکھنا آتا تھا بس چند اشعار ٹوٹے پھوٹے لکھ لیتے تھے یا تصاویر بنا کر بھیجتے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ ایک بار میری پھوپھو کی بیٹی نے مجھے خط میں ایک شعر لکھاتھا۔

گرم گرم پکوڑے توڑے نہیں جاتے
ماموں جی کے بچے چھوڑے نہیں جاتے

letter writing3

سادگی کے زمانے میں ایسے بے معنی شعر بھی بہت دلفریب محسوس ہوتے تھے ۔ صرف یہی ہوتا تھا کہ چلو جی محبت ہے اپنی محبت ہی دوستوں تک پہنچا دیں ، اس وقت کہاں کی فارملیٹیز ، کہاں کی ای میلز ، موبائل پیغامات ؟ اب جب کچھ لکھا ہی نہیں جاتا تو لکھائی کیسے خوش خطی میں تبدیل ہو سکتی ہے ؟ ای میل اور موبائل بیٹری اور بجلی کا محتاج ، موڈ کا محتاج ۔۔؟سب سے بڑا نقصان تو بے چارے ڈاک بابو کا ہوا ناں جو جب گلی میں لدے پھندے تھیلے کے ساتھ آتا تھا سب بڑے بچے خوش ہوتے تھے ۔ لیکن اب تو وہی حساب ہے کہ چٹھی نہ کوئی سندیس ۔

letter writing2

ڈاک خانے والے بے چارے اب بجلی ، گیس اور فون کے بل ہی ڈیلیور کرتے ہیں کیونکہ پارسل کا ذمہ بھی کوریئر سروس والوٕں نے لے رکھا ہے ،خدارا ان کے کارروبار کا بھی تو سوچیے ۔ہم سے اچھے تو وہ سیاسی رہنما ہیں جن کا عملہ میڈیا اور ان کے کارکنوں کے نام خطوط تحریر کرتا ہے اور آخر میں جناب لیڈر صاحب کے دستخط ہوتے ہیں ۔چلو اسی طرح بندے کی کوئی تسلی تو ہو ہی جاتی ہے ناں ۔

طالب علمی کے زمانے میں درخواست گذاری کے ساتھ ساتھ خطوط نویسی بھی سکھائی جاتی تھی اب معلوم نہیں نصاب کا کیا حال ہے ؟ایک خط تو اس وقت بہت ہی مشہور تھا کہ ایک طالب علم دوسرے شہر جا کر تعلیم حاصل کرتا ہے اور اپنی تمام مشکلات سے گھر والوں کو آگاہ کر کے کتابوں کے لئے خرچ اور اپنا ذاتی جیب خرچ بھی مانگتا ہے ۔ واہ کیا حسن تھا ان سادہ سے جملوں میں ۔قصہ مختصر آج کل فرصت کہاں ہے ؟ لیکن خط لکھ کر انہیں بھی تو اپنی موجودگی اور محبت کا احساس دلائیے ناں جو ابھی اتنے جدید نہیں کہ انٹر نیٹ اور موبائل بھی استعمال کر سکیں ۔

محبتوں کے پیغام کے لئے کچھ تو ہونا ہی چاہیے ناں، تو پھر آئیں آج خط ہی لکھ لیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube