Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

کوڑا چننے والے ہاتھوں میں قلم

SAMAA | - Posted: Feb 12, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 12, 2016 | Last Updated: 6 years ago

school2

تحریر: ثمرہ افضل

ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے بڑے بڑے منصوبے بنانا،بلند وبانگ دعوے کرنا اورمعمولی کی سپورٹنگ اسکیمیں متعارف کرانا معمول بن چکا ہے۔ غریبوں کو ماہانہ چند سو روپے، قسطوں پر ٹیکسی، یا قرضہ دے دینے سے ملک سے غربت نہیں مٹ سکتی۔ حقیقت میں یہ سب طریقے سیاسی یا فلاحی اداروں کو سستی شہرت تو دلوا سکتے ہیں لیکن غریبوں کے حالات نہیں بدل سکتے۔ کیونکہ یہ سب منصوبے وقتی ہیں،ان سے غریب عوام کے جھونپڑوں میں چھائے جہالت کے اندھیرے نہیں مٹائے جا سکتے۔

نمود و نمائش اور سستی شہرت کے اس دور میں بھی چند ایسے لوگ موجود ہیں جو  بنا کسی تشہیر کے غربت کے خاتمے کیلئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لاہور کا رخسانہ فاؤنڈیشن اسکول بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جو دو ہزار آٹھ سے کچرا چننے اور جھگیوں میں رہنے والے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے۔ اسکول میں پرائمری تک تعلیم دی جاتی ہے۔

school1

رخسانہ فاؤنڈیشن اسکول  جسے لاہور کی ایک درد دل رکھنے والی خاتون نے قائم کیا، عام فلاحی اداروں سے خاصا مختلف ہے۔ یہاں غریب بچوں کو نہ صرف انگریزی میں تعلیم دی جاتی ہے بلکہ انکی پسماندہ سوچ کو بھی بدلا جا رہا ہے۔

مستحق بچوں کو دور حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی سکھایا جاتا ہے۔ ہر کلاس میں پروجیکٹر اورسمارٹ بورڈ لگائے گئے ہیں۔ بچوں کو سائنس کے موضوعات بہترطورپرسمجھانے کے لیے معاون ویڈیوز بھی دکھائی جاتی ہیں۔ احساس محرومی ختم کرنے کیلئے بچوں کے ہاتھوں میں کمپیوٹر اور ٹیبلٹس بھی تھمائے گئے ہیں۔

school3

اسکول کی دنیا غربت میں آنکھ کھولنے والے بچوں کے چھوٹے چھوٹے جھونپڑوں اور کچے گھروں سے بہت مختلف ہے۔ یہاں ہر طرف ماڈرن ٹیکنالوجی ہے اور بچوں کو اٹھنے بیٹھنے اور بول چال کے آداب بھی سکھائے جاتے ہیں۔ ماں باپ کے ان پڑھ ہونے کے باعث طلباکو گھر کا کام بھی اسکول میں ہی کرایا جاتا ہے۔

اسکول پرنسپل کہتی ہیں کہ سب سے بڑا چیلنج بچوں کو اردو اور پھر انگریزی زبان سیکھانا ہے، کیونکہ یہاں زیادہ تر بچے پنجابی یا پشتو بولنے والے ہیں۔ پھر ان بچوں کو صاف ستھرا رکھنا اور بڑوں سے عزت سے پیش آنے کا درس دیناخاصے مشکل کام ہیں۔

نرسری اور پریپ کے بچوں کیلیئے میوزک ٹیچربھی  موجود ہیں جو بچوں کو اردو اور انگلش کی نظمیں سکھاتی ہیں۔

school5

تیسری اور چوتھی جماعت کے بچے کافی سمجھدار ہو چکے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر بن کے اپنی جھگیوں کے غریب لوگوں کا مفت علاج کرنا چاہتا تو کسی کو ماہر تعمیرات بن کر اپنے والدین اور بستی کے دیگر بے گھر لوگوں کیلئے پکے گھر بنانے کی خواہش ہے۔

تیسری جماعت کی طالبہ یاسمین نے بتایا کہ اسکے گھر والوں نے کم عمری میں ہی اسکا رشتہ طے کر دیا تھا کیونکہ انکے ہاں لڑکیوں کو جلد بیاہنے کا رواج ہے۔ لیکن اب یاسمین جلد شادی نہیں کرنا چاہتی، اسکی آنکھوں میں پڑھ لکھ کر ٹیچر بننے کے بعد اپنے جیسی غریب بچیوں کو پڑھانے لکھانے کا خواب بس چکا ہے۔

school4

معاشی تنگدستی کے باعث آج بھی اس سکول کے کئی بچوں کو گھر واپس جاتے ہوئے راستے سے کوڑا چننا پڑتا ہے۔ لیکن یہ سب طالبعلم پُرامید ہیں کہ تعلیم جلد انکے حالات بدل دے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube