Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

خواتین، سائنسی میدان میں بھی آگے نکلنے کیلئے کوشاں

SAMAA | - Posted: Feb 11, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 11, 2016 | Last Updated: 6 years ago

Sci1

تحریر: ثمرہ افضل

خواتين اورلڑکيوں کو گزشتہ چند دہائيوں ميں جتنی پزيرائی ملی ہے اتنی پہلے کبھی نہيں ملی ۔ دور حاضر میں دنيا کے ہرشعبہ ميں خواتين اور نوجوان لڑکياں مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہيں۔ گو ان کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے ليکن اس ميں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے مشرق ہو يا مغرب، خواتين کو ان کے حقوق دلوانے اور برابری کی بات ہر وقت زير بحث رہتی ہے اورعوام کی بڑی تعداد اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ خواتين ہر شعبہ ميں مردوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھيں۔ اسی حوصلہ افزائی کی وجہ سے خواتین تمام شعبوں میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ مسلح افواج کی سخت ڈیوٹی ہو یا خلائی سفر ہرجگہ پر صنف نازک کی خدمات نمایاں ہیں۔

سائنسی میدان ميں ابھی خواتين کی تعداد کم ہے اسی لئے اقوام متحدہ نے گذشتہ سال دسمبر میں ہر سال 11 فروری کو ’’انٹرنيشنل ڈے آف وومن اينڈ گرلز ان سائنس ‘‘منانے کا فیصلہ کیا تا کہ خواتين اور لڑکياں اپنی صلاحيتوں کا لوہا سائنسی ترقی ميں بھی منوا سکيں۔

sci6

انیس سو بہترميں مردوں اور خواتین کے مابين سائنسی خدمات ميں تعداد کا فرق بالترتیب 97 فیصد کے مقابلے ميں 3 فيصد تھا۔ 1998 ميں یہ فرق 90 کے مقابلے ميں 10 فيصد رہ گيا۔ وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کی سائنس میں دلچسپی بڑھی تو اس میدان میں مردوں اور خواتین کی شمولیت میں فرق بھِی یکم ہو گیا۔ 2013 ميں امريکی خواتین کی سائنس کے میدان میں نمائندگی 21 فيصد ، پاکستان میں 18 فيصد تھی جبکہ بوليويا 63 فیصد خواتین سائنسدانوں کے ساتھ سرفہرست تھا۔ مجموعی طور پر دنيا بھر میں 28 فیصد خواتین سائنسدان تھیں۔

يہ امر قابل ستائش ہے کہ پاکستان کی کل خواتین سائنسدانوں کی 25.6 فيصد  تعداد نيچرل سائنس سے منسلک ہے۔ اقوام متحدہ اس شرح کو مردوں کے برابر لانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور ان کی اميدوں کے مطابق 2030 ميں يہ فرق ختم ہو جا‎ئے گا۔ گويا يہ کہا جا سکتا ہے کہ 2030 میں سائنس کی دنيا ميں خواتين مردوں کی برابری کريں گی۔

سائنس ميں قابل قدر خدمات سر انجام دينے پر 15 خواتین کو نوبل انعامات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اميد کی جا رہی ہے کہ اس تعداد ميں مستقبل قريب ميں خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔

sci2

دنیا بھر کی طرح پاکستانی خواتین بھی سائنسی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔  پاکستانی خاتون سائنسدانوں کی بات کی جائے تو کئی نام قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹربينا شاہين جنہوں نے 250 سے زائد ريسرچ آرٹیکل لکھے اور 12 پيٹنٹ ان کے نام پر موجود ہيں۔ انہیں کئی ايوارڈز سے بھی نوازا گيا۔ ڈاکٹر رابعہ حسين نے برسن ييلو ايوارڈ کے علاوہ اور کئی ايوارڈ بھی حاصل کیے اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے يونيورسٹی آف لندن کا فیلو بھی بنايا گيا۔

Credit: Barbara Kinney / Clinton Global Initiative CGI Annual Meeting 2013 HRC Photo Line

سابق وفاقی وزيربرائے سائنس اينڈ ٹيکںالوجی ڈاکٹر ثانيہ نشتر نے بھی ملک کا نام خوب روشن کيا اور ايوارڈز کے علاوہ انہیں رائل کالج آف فزيشن کا فيلو بھی بنايا گيا۔ ڈاکٹرحناچوہدری نے بھی کئی ايوارڈز اپنے نام کیے جن میں سے کلينشين سائنٹسٹ ايوارڈ سرفہرست ہے۔ صرف يہی نہيں ان کے علاوہ بھی کئی پاکستانی لڑکیاں سائنسی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

پاکستانی خواتین سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے متعارف کردہ ’’انٹرنيشنل ڈے آف وومن اينڈ گرلز ان سائنس ‘‘پاکستان میں بھی حکومتی سطح پر منایا جائے تاکہ ںوجوان خواتین روایتی تعلیم کے بجائے سائنسی علوم میں زیادہ دلچسپی لیں اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube