Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

موٹر سائیکل پر دنیا کی سیر

SAMAA | - Posted: Feb 7, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 7, 2016 | Last Updated: 6 years ago

a

دنیا کی سیر کا شوق تو بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے لیکن ہیوی بائیک پر دنیا گھومنے کا مہنگا اور ہمت والا شوق کوئی کوئی ہی پالتا ہے۔ جرمن مکینک کرسٹائین کا شمار بھی ایسے ہی باہمت لوگوں میں ہوتا ہے، جن کے لیئے ہزاروں میل پر محیط اونچی نیچی راہیں دو پہیووں کی سواری پر عبور کرنا مقصد حیات ہے۔

چونتیس سالہ کرسٹائین ابھی تک اپنی ہیوی بائیک پر دنیا کے بائیسں ممالک گھوم چکا ہے۔ جن میں یورپی ممالک سمیت امریکہ، کینیڈا، روس، منگولیا، پاکستان اور دیگر کئی ممالک شامل ہیں۔ جرمن بائیکر کو یہ شوق سولہ سال پہلے ہوا جب اس نے کئی یورپی ممالک کی سیر اپنی ہیوی بائیک پر کی۔ کامیاب سفر نے جرمن بائیکر کے ارادوں کو اور بھی بلند کر دیا اور یہ منچلا بائیک پر ہی دنیا کے سفر پر نکل پڑا۔

b

مئی دو ہزار پندرہ میں امریکہ سے سفر کا آغاز کیا اور آٹھ ماہ کے دوران گیارہ ممالک سے گھومتا گھماتا چین کے راستے پاکستان پہنچا۔ بائیکر نے بتایا کہ دو پہیووں کی سواری پر دنیا کی سیر کا ارادہ کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ آپکو راستے کی دشواریوں، موسم کی سختی، خوراک کی کمی، اور مختلف ممالک میں امن و امان کو لاحق خطرات کا تن تنہا ہی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے سفری سامان میں فسٹ ایڈ کٹ، ضروری ادویات، اور موٹر سائیکل ٹھیک کرنے کے آلات ہمیشہ ساتھ رکھتا ہے۔

لاہور آمد پر کرسٹائین سے ملاقات ہوئی تو اسکے سفر کی کئی دلچسپ اور خطرناک کہانیاں سننے کوملیں۔۔۔ انڈیا میں اسکا اتنا بڑا ایکسیڈنٹ ہوا کہ ساری بائیک ٹوٹ گئی۔ جسکے بعد جرمن مکینک کو اپنی ہیوی بائیک دوبارہ سے جوڑنے میں تین ماہ کا عرصہ لگ گیا۔ نیپال میں پٹرول کے بحران کے باعث بھی اس مہم کو بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور آئے اس پردیسی کو یہاں کی پرانی عمارتیں اور شہریوں کی زندہ دلی بہت متاثر کر رہی ہے۔۔۔ کرسٹائین پنجابی کھانوں کا دیوانہ بن گیا ہے اور اسکا کہنا ہے کہ وہ جرمنی واپس جا کر جلدی سے شادی کریگا اور اپنی بیوی کیساتھ دوبارہ پاکستان ضرور آئیگا۔

c

کرسٹائین اب جلد از جلد جرمنی واپس جانا چاہتا ہے کیونکہ ایکسیڈنٹ کے باعث اسکا سفر لمبا ہو گیا اور پیسے ختم ہونیوالے ہیں لہذا وہ اپنے وطن واپس پہنچنا چاہتا ہے۔ اسے واپسی کیلیئے ڈھائی سے تین ماہ کا سفر کرنا ہو گا اور وہاں جا کر وہ اپنے اس ایڈونچر ٹور پر ڈاکیومنٹری بنائے گا تاکہ وہ اپنے جیسے دیگر بائیکرز کی ہمت بندھا سکے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube