Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

جب باکمال لوگ واقعی لاجواب تھے

SAMAA | - Posted: Feb 6, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 6, 2016 | Last Updated: 6 years ago

تحریر: شہباز احمد

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اسلامی دنیا کے سب سے بڑے ملک کی قومی ائر لائن کا دنیا میں طوطی بولتا تھا۔ اپنے قیام کے چند سال میں ہی اس ائر لائن نے ایسا نام اور مقام پیدا کیا کہ بڑی بڑی فضائی کمپنیاں اس کے آگے پانی بھرتی نظر آتی تھیں ۔یہ کمپنی دنیا کی دس بہترین ائرلائنز میں شامل اور جیٹ اور بوئنگ جہاز آپریٹ کرنے والی ایشیا کی پہلی ائرلائن تھی۔ دنیا کی نامی گرامی فضائی کمپنیوں کو کھڑا کرنے میں اسی کا ہاتھ ہے۔

pia1

آپ حیران و پریشان تو ضرور ہوں گے کہ میں قومی ائرلائن پی آئی اے کی بات کر رہا ہوں ۔ قیام پاکستان سے قبل اوریئنٹ ائرویز کے نام سے قائم ائرلائن کو 1955 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کارپوریشن بنا دیا گیا۔ شروع میں سات طیاروں کے ساتھ کام کرنے والی ائرلائن جلد ہی ہوا بازی کے شعبے میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گئی۔ جب 1959 میں ائرمارشل نور خان نے اس نوزائیدہ ائرلائن کی کمان سنبھالی۔ انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر6 سال کے مختصر عرصے میں ہی اسے دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں کی صف میں کھڑا کردیا۔ آج بھی اس زمانے کو ”پی آئی اے کے سنہرے دور” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

 noor khan

ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا تو کمپنی نے بوئنگ 707 سروس شروع کی۔ اور یوں جیٹ ایئرکرافٹ استعمال کرنے والی ایشیا کی دوسری ایئرلائن بن گئی۔ کمپنی نے جلد ہی بوئنگ 720، فوکرز اور سکرسکائی ہیلی کاپٹرز بھی اپنے فلیٹ میں شامل کر لئے ۔ سکرسکائی ہیلی کاپٹر تجارتی، صنعتی اور فوجی استعمال کے لئے دنیا کا سب سے جدید ہیلی کاپٹر تھا۔ تاہم ناگہانی آفات کی وجہ سے بعد میں یہ سروس بند کر دی گئی۔۔

pia3

کسی بھی کمرشل ائرلائن کی تیز رفتار پرواز کا ریکارڈ بھی پی آئی اے کے پاس ہے۔ 1962 میں کیپٹن عبداللہ بیگ نے لندن سے کراچی کے سفر میں بوئنگ 720 کو  938.78 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ اکر عالمی ریکارڈ قائم کیا جو آج تک کوئی نہیں توڑ پایا۔ 1964 میں چین میں پرواز کرنے والی پہلی “نان کمیونسٹ” ائرلائن کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ پی آئی اے کی کامیابی کا اندازہ اس دور کے اشتہارات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

pia4

1970 میں ائرمارشل نور خان کو دوسری مرتبہ ائرلائن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ جس کے بعد ادارے کے منافع اور استحکام کا روشن دور شروع ہوا۔ پی آئی اے کے انجینئرز بھی دنیا کے بہترین انجینئرتصور کئے جاتے تھے۔

pia5

ملکہ الزبتھ کے کپڑے ڈیزائن کرنے والے مشہور ڈیزائنر سر ہارڈی امیز نے 1975 میں پی آئی اے کی ائرہوسٹس کیلئے  نیا یونیفارم ڈیزائن کیا۔

pia6

1972 میں تریپولی کے لئے آپریشن، 1974 میں پہلی مرتبہ کارگو سروس شروع کی گئی ۔ بوئنگ 747 کی شمولیت سے پی آئی اے کا بیڑہ مزید پھیلتا چلا گیا اور یہ ایشیا کی بہترین سروس بن گئی ۔ دوسرے ممالک بھی اپنی ائرلائن کی تشکیل کے لئے پی آئی اے سے مدد حاصل کرنے لگے ۔ موجودہ دور کی بہترین ائرلائنز میں شمار ہونے والی ایمریٹس کو پی آئی اے نے نہ صرف تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کی بلکہ دو طیارے بھی لیز پر دیے۔ فلپائن ، صومالیہ ، مالٹا اور یمن کی ایئر لائنز کو بھی پی آئی اے نے ہی پاؤں پر کھڑا ہونا سکھایا۔

pia7

انیس سو ترانوے میں ایک اور قابل افسر فاروق عمر نے ادارے کی باگ دوڑسنبھالی ۔انہوں نے ائرلائن میں کئی اہم تبدیلیاں کیں۔ دبئی کے لئے پروازوں کا آغاز کیا اور بارہ نجی ائرلائنز کو ملک میں ڈومیسٹک آپریشن کی اجازت دی گئی۔ اس سے پی آئی اے پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا لیکن مقابلے کی فضا میں وہ پھر سرخرو رہی۔ نجی ائرلائنز سے مقابلے کے لئے درجنوں نئے روٹس متعارف کرائے گئے اور پرانے روٹس میں تبدیلیاں کی گئیں۔ 1996 میں فاروق عمر ادارہ چھوڑ کر گئے تو صرف آخری 6 ماہ کا منافع ہی ساڑھے 5 کروڑ روپے تھا۔

pia8

اور پھر اس عظیم قومی ادارے کا زوال شروع ہوا۔ ٹھیک بیس برس پہلے جس ادارے کو بلندیوں پر پہنچنے میں  40سال لگے وہ  بیس سال میں تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ بیس سال تک ٹاپ ٹین میں شامل ائرلائن کا سالانہ خسارہ آج 40ارب روپے ہے۔ اندرون ملک 23 اور ایشیا، یورپ، شمالی امریکا کے 30 شہروں تک سروس دینے والی ائرلائن کا فلائٹ آپریشن پانچ روز سے بند پڑا ہے۔

نئی ائرلائن بنانے کا اعلان کرنے والی حکومت اور کام چھوڑ کر نجکاری کے خلاف احتجاج کرنے والے ملازمین کو اس کی بدحالی کے اسباب پر بھی ضرور غور کرنا چاہیے۔ دونوں فریق سوچیں کہ درخشاں ماضی رکھنے والا یہ ستارہ کیوں اندھیروں میں ڈوب رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube