Friday, October 30, 2020  | 12 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

بھارتی وزیرکی دھمکی پرپاکستانی حکومت خاموش کیوں؟

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2016 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2016 | Last Updated: 5 years ago

India's DM Parrikar addresses the media in New Delhi

تحریر: ظہیر احمد

پٹھان کوٹ ائربیس پرحملے کے بعد بھارتی وزیردفاع منوہر پارکر کا یہ بیان کہ پاکستانی ٹیم کو ائربیس کے اندر جانے کی اجازت نہیں دیں گے، سن کر ہمارا صبرجواب دے گیا ہے۔ دنیا ایک سال کے اندر اس حملے کے نتائج دیکھے گی جیسے الفاظ مودی سرکار کی اصل ذہینت اورنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسے مضحکہ خیز بیانات دے کر پاکستان کے خلاف زہر اگلا گیا بلکہ اس سے پہلے بھی مودی حکومت کے وزرا ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات بلا کسی روک ٹوک کے دیتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل بھارتی وزیرداخلہ گورداسپور حملوں کا الزام بھی پاکستان پر عائد کرچکے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ بھی جنگ کی دھمکی دے چکے ہیں ۔پٹھان کوٹ واقعے پر پاکستان نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی جو کہ پٹھان کوٹ جانے والی تھی ۔ایسے وقت میں بھارتی وزیردفاع کا دھمکی آمیز بیان ایک سوالیہ نشان ہے ۔

پاکستان کی جانب سے تعاون کے لیے اٹھائے جانے والے اقدام کی تعریف 12 جنوری کو بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ نے بھی کی اور کہا کہ پاکستان نے ٹھوس اقدامات کا یقین دلایا ہے۔  ترجمان بھارتی دفترخارجہ نے بھی کہا کہ ہم پٹھان کوٹ حملے سےمتعلق پاکستان کی جانب سے کیے گئے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں اورتحقیقاتی ٹیم کا انتظارکریں گے ۔ ایسے بیانات کے بعد  بھارتی وزیر دفاع کا تازہ بیان کھلا تضاد ہے،  یہ بیان شیوسینا کے کسی رکن نے نہیں بلکہ وزیردفاع نے دیا جو انتہائی ذمہ داروزرات ہوتی ہے ۔ اگر یہ بیان وزیراعظم نریندرامودی کی مرضی کے بغیر دیا جاتا تو مودی فوراردعمل ظاہر کرتے مگرمکمل خاموشی سے دال میں کچھ کالا واضح نظرآرہا ہے۔

Indian security personnel stand guard next to a barricade outside IAF base at Pathankot in Punjab

پٹھان کوٹ واقعے کے بعد پاکستان نے بھارت کی جانب سے الزامات کے جواب میں ٹھوس ثبوت دینے کا مطالبہ کیا تھامگربھارت کی جانب سے چند موبائل نمبرز کے علاوہ کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔اب اگر پاکستان نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جو وہاں جاکر حقائق کا جائزہ لیتی تو اسے بھی وہاں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ کمیٹی کو ائر بیس تک رسائی دینے سے روکنا ،حقائق سامنے لانے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ظاہرکررہا ہے۔ صرف الزام تراشی کے ذریعے فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی پاکستان کا موقف رہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہر سطح پرکارروائی کی جائے گی اتنی یقین دہانیوں کے بعد بھی اگر بھارت کا کوئی وزیر غیر ذمہ دارانہ بیان یا دھمکی دے تو واضح ہے کہ حقائق پر پردہ ڈالا جا رہا ہےاور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔

پاکستان کی طرف سے بھارتی وزیردفاع کے بیان کو ہلکا لیا گیا ،اگر کوئی عام آدمی یہ بیان دیتا تو نظر انداز کرنا ضروری تھا مگر وزیر دفاع کے جواب میں ہمارے یہاں مکمل خاموشی ہی رہی اگر وہاں کا ایک وزیر مثبت بیان اور دوسرا منفی بیان دے سکتا ہے تو کیا ہم خاموشی سے تماشادیکھتے رہیں ؟؟کیا ہماری حکومت کا یہی کام ہے کہ بھارت کہے مذاکرات ہونگے تو ہم کہیں کہ ہاں مذاکرات ضروری ہیں۔  بھارت کہے کہ مذاکرات کو روک دینا چاہیے توہماری طرف سے کہا جائے کہ بالکل ٹھیک ہے ۔ بھارت کہے کہ مذاکرات دونوں ممالک کی مرضی سے رکے ہیں اور ہم اثبات میں سر ہلا دیتے ہیں۔ ایک بار ہمارے وزیرداخلہ کی جانب سے بیان آیا تھا کہ پاکستان کو میانمارنہ سمجھ لینا۔ اس کے علاوہ آئے روز بھارتی وزیریارکن تڑیاں لگاتے رہتے ہیں اور ہم خاموشی سے سنتے رہتے ہیں ۔

Modi-Kashmir

بھارت میں ہونےوالے واقعات پر بھارت یہ کہنے میں منٹ لگاتا ہے کہ یہ حملہ پاکستان نے کروایا۔ مگر ہم پاکستان میں ہونے والے واقعات پر دبے لفظوں میں بھارت کا نام لیتے ہیں حالانکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں مگر دبی آواز اور لہجے میں بات کی جاتی ہے۔ موجودہ حکومت کے وزرا سے اچھے توسابق وزیر داخلہ رحمن ملک تھے جنہیں کبھی کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا،وہ بھی بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کی بات دھڑلے سے کرتے تھے۔ ہم بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی بات کرتے ہیں،اس میں کوئی شک نہیں پڑوسی ممالک کے تعلقات اچھے ہونے چاہئیں۔ مہمان نوازی ہماری ثقافت کا حصہ ہے چاہے وہ مودی کی مہمان نوازی ہو یا اوم پوری یا کسی اور بھارتی کی مگر جب ہمارے لوگ وہاں مہمان بن کر جاتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا جانے والا سلوک یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ تعلق یا دوستی برابری کی سطح پر نہیں ہے۔  کیا سلوک کیا بھارت نے چیئرمین پی سی بی، خورشید قصوری ،غلام علی،راحت فتح علی،عاطف اسلم اورعلیم ڈار کے ساتھ ۔ محبت کا جواب نفرت سے ملے تو یہ یک طرفہ محبت کی علامت ہوا کرتا ہے اور دھمکیوں کے جواب میں خاموش رہا جائے تو یہ کمزوری اور بزدلی کی علامت ہوا کرتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube