Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

اورنج لائن ٹرین۔۔۔۔۔ مہنگا تحفہ

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2016 | Last Updated: 6 years ago

orange line train

تحریر: ثمرہ افضل

شاہانہ سفر کرنے کے  بجائے اورنج لائن ٹرین منصوبہ ابھی تک تو عوام کو موت کے سفر پر ہی گامزن کر رہا ہے۔ میٹرو بس کے چرچے دیکھ کر پنجاب حکومت نے فورا ہی ڈیڑھ ارب ڈالر کا اورنج لائن ٹرین منصوبہ بھی متعارف کروا دیا۔ظاہر ہے جب لاہور کے بیچ و بیچ سے ایک چمچماتی ٹرین فراٹے بھرے گی تو ترقی کا ٹھپہ یقینی ہو جائے گا۔ ترقی کس کو اچھی نہیں لگتی اور یہ ترقیاتی منصوبے تو عوام کی ہی بہتری کے لیے ہیں۔ لیکن میگا پراجیکٹس شروع کرنے سے پہلے منصوبہ بندی کو نظر انداز کرنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر ترکیب کے کھانا پکانا۔

بھاری مشینری کے استعمال کے دوران نہ تو ٹریفک کی روانی اور قریب سے گزرنے والوں کے لیے  کوئی محفوظ راستہ یا حفاظتی اقدام  ہے اور نہ ہی منصوبے پر کام کرتے مزدوروں کے لیے کوئی حفاظتی سازو سامان۔ حکومت کے سر پر ایک ہی بھوت سوار ہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کو اگلے عام انتخابات سے پہلے پہلے مکمل  ہونا ہے۔

خواب دیکھنا نہایت آسان کام ہے، پھر پیسہ بھی قومی خزانے یا  بیرون ممالک سے مل جائے تو بڑے بڑے منصوبے تو بیٹھے بٹھائے ہی بن جاتے ہیں۔اورنج ٹرین کامنصوبہ بھی ایسے ہی حالات میں بنا ہے۔ ملک میں طبی سہولیات کے فقدان، بیروزگاری، بجلی و سوئی گیس کی قلت، اور غیر معیاری تعلیم جیسے بنیادی مسائل کی بجائے سفری سہولت کو ترجیح دی گئی ہے۔

orange line2

سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیڑرزموجود نہیں ہیں۔2 سال سے پنجاب حکومت نے خناق سے بچاؤ کی ویکسین نہیں خریدی ہے۔ صوبے میں میٹرک کے بعد طالب علموں کی شرح کے حساب کے سرکاری کالجز موجود نہیں ہیں۔ بجلی اور سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ نے معمولات زندگی اور کاروبار بری طرح متاثر کر رکھے ہیں۔ مگر شاید حکومت کے سامنے سڑکوں اورٹرین منصوبےکی تعمیر سب سے اہم منصوبہ ہے۔

پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ ان کے میگا منصوبے پر تنقید برائے تنقید کی جاتی ہے ورنہ دنیا بھر میں ایسے منصوبوں کے ساتھ مسائل موجود  ہوتے ہیں۔ لیکن یہ واضح ہو جائے کہ تنقید ترقی پر نہیں بلکہ ترقی کے راستے میں گرنے والی لاشوں اور کروڑ پتی سے کنگال  ہونے والے متاثرین کی وجہ سے ہور ہی ہے۔

اورنج لائن کا منصوبہ اب تک 6 افراد کی جان لےچکا ہے۔ ان معصوموں میں ایک خاتون سمیت 4 شہری اور کرنٹ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونیوالے2 مزدورشامل ہیں۔ ذراسوچیئے، جب ملکی اورغیر ملکی میڈیا کے سامنے حکمران جماعت اس ٹرین کا افتتاح کرےگی اور حکمران عالی شان تقریب میں عوامی خدمت کا دعوی اور ترقیاتی کاموں کا جھنڈا گاڑ رہے ہوں گے تو جاں بحق ہونے والے 6 افراد کے اہل خانہ  پرکیا بیتےگی۔17 جنوری کوتعمیری کام کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے مزدور 25 سالہ غلام شبیر اور 35 سالہ انور کے اہل خانہ کی جگہ پر خود کو رکھ کر سوچیئے، کس طرح لاہور میں دوڑتی اورنج ٹرین ان کے زخموں پر نمک چھڑکے گی۔

Lahores-Metro-Bus-Service

رائیونڈ  کے علاقے علی ٹاؤن سے اسلام پارک تک 27 کلومیٹر کی لائن پر چلنے والی اس ٹرین کے ارد گرد آنے والی آبادی اور کاروباری حضرات بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی افراد کو اس ترقیاتی منصوبے نے بے گھر کر دیا ہے اور سینکڑوں افراد سے ان کا کاروبار چھین لیا ہے۔ کمرشل ایریا کی دکانوں کا بڑا حصہ اس منصوبہ کی نظر کیا جا رہا ہے اور حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے مالیت کی دکانوں کا چند لاکھوں میں سودا بھی کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس ترقی پسند رویے سے کروڑ پتی تاجر انتہائی پریشان  ہیں اب آپ خود ہی  فیصلہ کر لیں  کہ اس منصوبے سے متاثر ہونے والے افراد کو حکومت کی جانب سے ملنے والا اورنج ٹرین کا تحفہ کیسا لگے گا؟

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube