Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

گمنام ہیرو،ملیں پینشن سےاسپتال چلانےوالی مسزکلثوم سے

SAMAA | - Posted: Dec 9, 2015 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 9, 2015 | Last Updated: 6 years ago

BLOOG

تحریر: ثمرہ افضل

ہمارے اردگرد کئی ایسے گمنام ہیرو موجود ہیں جو اپنی موجودگی کا احساس دلائے بغیر خاموشی سے معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں، ایسی ہی ایک مثالی خاتون ہیں مسز کلثوم منصور۔

جھلسا ہوا آپریشن زدہ چہرہ ، دونوں ہاتھوں کی کٹی ہوئی چھوٹی انگلیاں، ڈگمگاتے قدم، اور کمزور قوت گویائی کی مالک مسز کلثوم منصور کوئی عام خاتون نہیں، چہتر سالہ مسز منصور کی ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزری ہے۔

چار سال کی تھیں جب شام کو دیا جلاتے ہوئے ان کے دوپٹے نے آگ پکڑی اور چہرہ اور ہاتھ بری طرح جھلس گئے۔ ان کے گاؤں میں نہ کوئی بڑا اسپتال تھا اور نہ ہی کوئی سیانا ڈاکٹر۔ نیم حکیم کی دوائی سے جلا ہوا زخم اتنا بگڑا کہ دونوں ہاتھوں کی ایک ایک انگلی اور ہتھیلی کا کچھ حصہ کٹوانا پڑ گیا۔ اس واقعہ نے چار سالہ کلثوم کو ان کی زندگی کا مقصد بتا دیا۔

میٹرک کے بعد انہوں نے نرسنگ کالج میں داخلہ لیا اور پڑھائی مکمل کر کے سرکاری نوکری حاصل کر لی۔ شادی ہوئی اور اللہ نے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ مسز کلثوم نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں خوب ترقی کی اور ریٹائرمنٹ بطور ڈائریکٹر جنرل ںرسنگ پنجاب کے عہدے سے حاصل کی۔

مسز کلثوم آٹھ اگست انیس سو نناوے کو ریٹائرڈ ہوئیں اور دو دن بعد دس اگست انیس سو نناوے کو چھوٹے بیٹے لیفٹینٹ ضرار احمد کی شہادت کی خبر آگئی۔ شہادت کے وقت لیفٹینٹ ضرار شہید پاکستان نیوی کے طیارے اٹلانٹک میں معاون پائلٹ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

BLOGGGGG2

بیٹے کی جدائی کا غم بھلانے کیلئے مسز کلثوم اور ان کے شریک حیات منصور احمد نے اپنی بقیہ زندگی خدمت خلق کیلئے ؤقف کر دی۔

اپنی ریٹائرمنٹ اور بیٹے کی شہادت پر ملنے والی تمام رقم سے مسز کلثوم نے برکی روڈ، لاہور پر واقع گاؤں باو والا میں فلاحی اسپتال کی بنیاد رکھی۔

BLOGGGG3ضرار شہید اسپتال میں تیس روپے کی ابتدائی پرچی کے عوض علاقے کی غریب لوگوں کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ امراض چشم، دانتوں، ہڈیوں، اور گائنی کے شعبہ جات بھی موجود ہیں، جہاں کم پیسوں میں جنرل سرجری بھی کی جاتی ہے۔

کچھ سال پہلے مسز کلثوم کو چہرے کا کینسر ہو گیا۔ آپریشن کروایا اور کیمو تھراپی بھی ہوئی لیکن کچھ عرصے بعد کینسر نے پھر جڑیں پھیلا لیں۔ دوبارہ آپریشن ہوا جس کے باعث بولنے کی طاقت کافی کم ہو گئی، جس کے لیئے یہ بہادر خاتون روزانہ اسپیچ تھراپی کروا رہی ہیں۔

BLOGGG4

ان سب مشکلات سے باوجود مسز کلثوم باقاعدگی سے نہ صرف اسپتال آتی ہیں بلکہ خود مریضوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔ پاکستان کی یہ بہادر خاتون غریب عوام کیلئے جدید مشنری سے لیس پانچ منزلہ اسپتال بنانا چاہتی ہیں۔ جس کے لئے ان کی اور ان کے شہید بیٹے کی ماہانہ پنشن اسپتال کے فنڈ میں جمع ہوتی ہے۔ جدید اسپتال کیساتھ مڈ وائفری اسکول کا قیام بھی ان کے منصوبے میں شامل ہے۔ تاکہ علاقے کی خواتین کو طبی علم اور روزگار کے مواقع مل سکیں۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube