Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

ناکامی کی وجہ، انتظامیہ اور کھلاڑیوں کے غیر سنجیدہ رویے

SAMAA | - Posted: Dec 2, 2015 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 2, 2015 | Last Updated: 6 years ago

1

انگلینڈ کیخلاف سیریز جیتنے کا پاکستانی ٹیم کا خواب، خواب ہی رہ گیا، پاکستان اور انگلینڈ کے مابین سنسنی سے بھرپور ٹی 20 سیریز قومی ٹیم کی شکست کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچی، آخری میچ کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا، قومی شاہینوں نے بلے بازی کے آغاز پر ہی مایوس کن پرفارمنس دکھائی اور انگلینڈ کی ٹیم نے صرف 11 اسکور پر پاکستان کی 3 وکٹیں گرادیں۔

سیریز کے تینوں میچ جیت کر پاکستانی ٹیم کو کلین سوئپ کرکے انگلینڈ کی ٹیم نے جہاں محدود اوورز کے کھیل میں نمایاں کارکردگی دکھائی وہیں ٹیسٹ سیریز ہارنے کا بدلہ بھی لے لیا، ٹی 20 سیریز میں قومی شاہینوں نے تمام تینوں میچ ہار کر پاکستان کرکٹ بورڈ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، حالیہ سیریز میں شکست نے آئندہ سال ہونیوالی ٹی 20 ورلڈ چیمپئین شپ کیلئے پاکستانی ٹیم کی تیاری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

1a

سیریز میں بری طرح ہارنے کے بعد کرکٹ انتظامیہ کیجانب سے ہمیشہ کی طرح اب بھی بیان بازی اور الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، ہیڈ کوچ وقار یونس نے ناقص کارکردگی کی وجہ سیلکٹرز کو قرار دیدیا اور سینیئر کھلاڑیوں کے رن آئوٹ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔

دوسری جانب چیف سلیکٹر ہارون رشید نے شکست کی ذمہ داری تو قبول کرلی لیکن ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ ٹیم سلیکشن تو سلیکٹرز کا ہی کام ہے لیکن کھلاڑیوں کی ٹریننگ اور پرفارمنس بہتر بنانا ٹیم مینجمنٹ کا کام ہے۔

1b

کوچز اور سلیکٹرز کے مطابق قومی ٹیم کو فیلڈنگ، بولنگ اور ٹاپ آرڈر بلے بازی میں تربیت کی اشد ضرورت ہے، ورلڈ چیمپئن شپ میں صرف ساڑھے 3 ماہ رہ گئے ہیں اور کرکٹ انتظامیہ کے بیان کے بعد قومی ٹیم سے کوئی اچھی امید رکھنا ذرا مشکل ہے۔

قومی ٹیم کو اپنا نمایاں مقام بنانے کیلئے خاصی سنجیدگی اور ڈسپلن کی ضرورت ہے، 1992ء کے بعد 23 سالوں میں پاکستان ایک ٹی 20 ورلڈ چیمپئن شپ ہی جیت سکا، باقی اس کے حصّے میں میچ فکسنگ جیسے  الزامات ہی آئے۔

1c

مسلئہ صرف کرکٹ انتطامیہ کا ہی نہیں بلکہ کھلاڑی اور خصوصاً سینیئر کھلاڑیوں کے غیر سنجیدہ رویے اور منفی سرگرمیاں بھی کھیل کے میدان میں پیچھے رہنے کی وجوہات ہیں، سینیئر کھلاڑی جب شہرت کے نشے میں ڈوبے ہوں تو عوام کو ٹیم کی ایسی کارکردگی کی امید ہی رکھنی چاہیئے، کبھی قومی کھلاڑی ٹیم میں گروہ بندی کرتے ہیں تو کبھی جونیئر کھلاڑیوں سے اپنے جوتے صاف کرواتے ہیں۔

آئے  روز ایسے اسکینڈل میڈیا کی سرخیوں کی زینت بن رہے ہیں کہ کیسے کرکٹ پلیئرز غیر ملکی دوروں کے دوران کلبوں میں شامیں گزار رہے ہیں اور پارٹیز میں مصروف ہیں۔ کبھی کوئی وارڈن سے لڑتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو کسی پر ماڈلز سے بدتمیزی کے الزامات لگ رہے ہیں، ڈسپلن کی ان تمام تر خلاف ورزیوں کے باوجود بھی انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں کلین چٹ پکڑا دی جاتی ہے۔

1d

کوچز اور کھلاڑیوں کے مابین بہتر تعلقات کو ٹیم کمبی نیشن کی صورت میں دیکھنا ہو تو ٹیسٹ ٹیم کی مثال سامنے ہے، جس نے حال ہی میں بہترین پرفارمنس دیکر پاکستانیوں کے دلوں میں گھر کرلیا، پاکستانی ٹیم ایک فارمیٹ میں اچھی کارکردگی دکھاتی ہے تو دوسری جانب معاملہ اس کے برعکس ہوجاتا ہے۔

ٹیم انتظامیہ کے پاس اب بھی وقت ہے کہ بہتر کھلاڑیوں کا انتخاب وقت گزرنے سے پہلے کیا جائے اور نئے کھلاڑیوں کو لگاتار بری پرفارمنس دینے والے سینئر کھلاڑیوں کی جگہ آہستہ آہستہ ٹیم میں  شامل کیا جائے۔ فی الحال  مزید تجربات کی بجائے ٹیم کو زیادہ محنت کے ساتھ آنیوالی ٹی 20 ورلڈ چیمپئن شپ کیلئے تیار کیا جائے اور اچھا کھیلنے والے کھلاڑیوں کو سیاست کی بجائے پرفارمنس کی بنیاد پر سلیکٹ کیا جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube