Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

خصوصی توجہ کا منتظر قومی کھیل

SAMAA | - Posted: Nov 27, 2015 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 27, 2015 | Last Updated: 6 years ago

   5c

پاکستانی ہاکی ٹيم کی جونيئر ايشياء کپ ميں پرفارمنس اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان قومی کھیل کے میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرسکتا ہے،  جس کیلئے انتظامیہ، کوچز اور کھلاڑیوں کیجانب سے محنت اور حکومت کیجانب سے تربیتی سہولیات بہتر بنانا ہوں گی۔ تين ماہ قبل پاکستان ہاکی فيڈريشن کے صدر اختر رسول اور سيکریٹری جنرل رانا مجاہد نے پی ایچ ایف ميں نيب کيجانب سے پول کھلنے کے بعد استعفیٰ ديديا تھا، جس کے بعد ہاکی کے سابق کپتان شہباز سينيئر نے بطور سيکریٹری جنرل عہدہ سنبھالا۔

5b

حسب دستور عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ ہاکی کو اس کا کھويا ہوا مقام واپس دلوائيں گے، ساتھ ميں ان کا يہ بھی دعویٰ تھا کہ اقرباء پروری سے کھلاڑيوں کو نجات دلوائی جائے گی، دعوے تو ہر کوئی کرتا ہے ليکن 2 ماہ کی ٹريننگ کے بعد کھلاڑيوں کی جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن اور آئندہ سال ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی ہو جانے کو ايک اچھی شروعات کہنا غلط نہ ہوگا۔

ٹورنامنٹ ميں جونيئر ٹيم روايتی حريف بھارت سے فائنل ميں 2-6 کے اسکور سے ہار تو گئی ليکن ٹيم کی مجموعی پرفارمنس قابل ستائش رہی، اس کاميابی کا سہرا ٹيم کوچز کو بھی جاتا ہے جنہوں نے کم وقت ميں بھی کھلاڑيوں کی اچھی ٹريننگ کی۔

5

یہ تو تھی جونیئر ٹیم کی پرفارمنس، اصل توجہ ہاکی کی سینئر ٹیم کو ملنی چاہئے، جس کیلئے پاکستان ہاکی فيڈريشن کے سامنے سب سے بڑا چيلنج قومی ٹيم کی سليکشن کا ہے، جس ميں جانبداری کی بجائے ميرٹ کو بنياد بنايا گيا تو يقينناً وہ وقت دور نہيں جب دوبارہ قومی ٹيم پاکستانيوں کا سر فخر سے بلند کرے گی اور عوام کی قومی کھيل ميں ختم ہوتی دلچسپی کو بجہ پھر سے اُبھارا جا سکے گا۔

دنيا بھر کی کامياب ٹيميں ديکھيں تو يہی پتہ چلتا ہے کہ کوئی بھی ٹيم مہينوں ميں تيار نہيں کی گئی، ورلڈ کپ يا بين الاقوامی چيمپئن شپ جيسے اعزازات جيتنے کيلئے محنت بھی سب سے زيادہ کرنی پڑتی ہے اور اندرونی سياست کی بجائے نوجوانون کو ان کی صلاحيتوں کی بنياد پر چُنا جاتا ہے۔

5a

پاکستان کی ہاکی ٹیم کو بھی نئے ٹیلنٹ اور ہاکی اکیڈمیوں کو فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے، جس کیلئے 30، 35 کھلاڑیوں کے گرد گھومنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ٹیلنٹ کو سامنے لایا جائے، اسکول اور کلب کی سطح پر زیادہ سے زیادہ ٹورنامنٹس کروائے جائیں۔

قومی کھیل کی پستی کی سب سے بنیادی وجہ مالی بحران ہے، جس سے نکالنے کیلئے کھلاڑیوں کی فٹنس کیساتھ ساتھ ٹریننگ کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کی اشد ضرورت ہے، کھیل کے فروغ کیلئے اسپانسر شپ اور مارکیٹنگ اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube