کوڑا بیچ کر اسکول چلانے والی خاتون۔۔

November 25, 2015

 

لاہور کی مسز روبینہ شکیل گزشتہ تیرہ سال سے کوڑا بیچ کر بے گھر اور غریب بچوں کا اسکول چلا رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گھر سے نکلنے والا ایک ماہ کا کچرا کسی غریب بچے کی ماہانہ تعلیم کا خرچہ پورا کر سکتا ہے۔ اس کام میں وہ تنہا نہیں بلکہ ان کے شوہر شکیل احمد قریشی بھی ان کے ساتھ ہیں۔

دونوں میاں بیوی لاہور اور شہر کے گردو نواح کے سات ہزار گھروں سے خشک کوڑا اور فالتو اشیاٗ اکھٹی کرتے ہیں اور ہر مہینے وہ کوڑا کرکٹ بیچ کر اسکول چلانے کیلئے ساڑھے نو سے دس لاکھ روپے جمع کر لیتے ہیں۔

lhr2

مسز روبینہ شکیل کا کہنا ہے کہ کچرا بیچ تعلیمی ادارہ چلانے کا مشورہ ان کو برازیل سے آنے والی ایک مہمان نے دیا، برازیلی خاتون نے پاکستان میں جگہ جگہ لگے کچرے کر ڈھیر دیکھے تو مسز شکیل کو مشورہ دیا کہ اس کچرے کو بیچ کر کوئی بھی فلاحی منصوبہ بآسانی چلایا جا سکتا ہے۔ اسی مشورے پر عمل کرتے ہوئے پہلے دن دونوں میاں بیوی نے چند گھروں سے کوڑا اکھٹا کر کے بیچا اور سینتیس روپے کمائے، یہ وہ پہلی کمائی تھی جس نے ان کی اگلی منزل کی راہیں ہموار کیں، اب کچرا اکھٹا کرنے اور بیچننے کیلئے باقاعدہ عملہ موجود ہے۔

اسٹریٹ چلڈرن کیلئے بنائے گئے اس اسکول میں بچوں کو نرسری سے میٹرک تک تعلیم تو مفت دی ہی جاتی ہے، ساتھ میں ہر سال کتابیں، چار یونیفارم کے جوڑے، اسٹیشنری اور دوپہر کا کھانا اور خالص دودھ بھی بالکل مفت ملتا ہے۔ لاہور کے پسماندہ علاقے کیر کلاں گرین ٹاؤن میں بنائے گئے اس فلاحی اسکول کیساتھ بچوں اور علاقہ مکینوں کے مفت علاج کیلئے ڈسپنسری اور ایمبولینس کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

lhr4

مسز روبینہ کا کہنا ہے کہ وہ اس فلاحی کام کو چلانے کیلئے اپنے پاکستانی بہن بھائیوں سے تو خیرات لیتی ہیں لیکن آج تک کبھی کسی غیر ملکی سے مدد نہیں مانگی، ان کا ماننا ہے کہ اگر پاکستانی قوم ہمت کرے تو بہت غریب افراد تعلیمی اور طبی سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

مسز روبینہ شکیل کے مطابق روزانہ کی بنیادوں پر شہر بھر میں لاکھوں کا کچرا گندے نالوں یا خالی میدانوں میں پھینک دیا جاتا ہے، اگر صرف کچرے کو ہی مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے تو کئی ناخواندہ افراد کے گھروں میں علم کی روشنی پھیلائی جا سکتی ہے۔

lhr3

اسکول کے میں کیمپس میں ساڑھے تیرہ سو طالبعلم زیر تعلیم ہیں، حال ہی میں پنجاب گورنمنٹ نے اسکول کے تین سو بچوں کی تعلیم کا خرچ دینا شروع کیا ہے۔ اس وقت مین کیمپس کے علاوہ دونوں میاں بیوی دوسرے علاقوں اور شہروں میں کامیابی سے آٹھ فلاحی اسکول چلا رہے ہیں، اسکولوں میں تعلیم کیساتھ ساتھ سلائی اور دیگر ہنر بھی سکھائے جا رہے ہیں۔ سماء