ہوم   >  بلاگز

فلمی فاقے اور امید کی کرن

4 years ago


تحریر: محمد قربان

کيپري سينما ميں بنے ايک ہوٹل پر کھانا کھاتے ہوئے اچانک نظر سينما کے ٹکٹ گھر کي ويران کھڑکي پر پڑي تو پلک جھپکتے ہي 80ء کي دہائي کے وہ مناظر فلم کي طرح آنکھوں کے سامنے گھوم گئے، جب اسي کھڑکي پر فلم بينوں کي ايک طويل قطار لگي ہوتي تھي اور ٹکٹ کا حصول ايک کٹھن مرحلہ تصور ہوتا تھا۔

اندر سے ٹکٹ نکالنے کے ماہر نوجوان قميض اتار کر ساتھيوں کو پکڑاتے اور پھر لائن کو روندتے ہوئے کھڑکي پر ايسے ٹوٹ پڑتے کہ اللہ کي پناہ، اسي صحن ميں ٹکٹ بليک کرنے والا نوجوان بھي موجود ہوتا اور جسے کھڑکي سے ٹکٹ نہ ملتا وہ يہاں سے مہنگا ٹکٹ لے کر بھي خوش نصيب تصور ہوتا۔

ہر دوسرے سينما ميں ہاؤس فل کا بورڈ ذرا تاخير سے پہنچنے والوں پر بجلي بن کر گرتا، مولا جٹ اور شير خاں جيسي مار دھاڑ سے بھرپور فلم ہوتي يا بازار حسن جيسي سبق آموز اردو فلم، سب کا ہر شو ہي کھڑکي توڑ رش ليتا۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹري کا زوال شروع ہوگيا، گھٹيا موضوع، عرياني اور فحاشي نے فلم بينوں کو سينما گھروں سے دور کر ديا، فلميں دھڑا دھڑ پٹنے لگيں، سينما گھر ويراني کا منظر پيش کرنے لگے، انڈسٹري سے وابستہ لوگ بے روزگار ہوئے اور انہيں بيوي بچوں کي روٹي کے لالے پڑگئے۔

فلم اسٹار ريشم ايک جيسے موضوعات اور ذات برادري پر بنائي جانے والي فلموں کو انڈسٹري کے زوال کي بڑي وجہ سمجھتي ہيں، کہتي ہيں کوئي بھي عزت دارشخص اپني فيملي کے ساتھ ايسي فلميں ديکھنے ميں شرم محسوس کرنے لگا تھا۔

فلمي کاروبار ختم ہوا تو سينما مالکان نے دوسرے کاروبار شروع کر دئيے، گليکسي سينما ميں شادي ہال اور سي اين جي اسٹيشن بن گيا تو رتن سينما کي جگہ کاروں کا شو روم۔ کچھ سينما گھر تھيٹر ميں بدل گئے اور جو بچے انہوں نے بھارتي فلموں کا سہارا ڈھونڈ نکالا۔

سينما مينجمنٹ ايسوسي ايشن کے جنرل سيکریٹري قيصر ثناء اللہ کہتے ہيں اگر بھارتي فلميں نہ ہوتيں تو سينما انڈسٹري کا جو وجود باقي ہے وہ بھي نہ ہوتا، غير ملکي فلميں آنے سے پاکستاني شائقين سينما کي طرف لوٹنے تو لگے ہيں ليکن مقامي فلم انڈسٹري کي بحالي کے دعوے ابھي دعوے ہي نظر آتے ہيں۔ رواں سال دوچار فلميں ہي فلم بينوں کي توجہ سميٹنے ميں کامياب ہو پائي ہيں۔

دوسري طرف نگار خانوں کي حالت بھي کچھ زيادہ بہتر نہيں، وہاں بھي ويرانيوں کے ڈيرے ہيں، چند ٹيکنيشن اور لائٹ مين ابھي بھي اس پيشے سے جڑے ہوئے ہيں، اس کے باوجود کہ ان کي اپني زندگي بھي ايک فلاپ فلم بن چکي ہے ليکن اس اميد پر فاقے کئے جا رہے ہيں کہ شايد پاکستاني فلم کا سنہري دور کبھي لوٹ ہي آئے۔ سماء

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں