Sunday, November 28, 2021  | 22 Rabiulakhir, 1443

چاند چہرہ، ستارہ آنکھیں منوں مٹی تلے سوگئیں۔۔!!

SAMAA | - Posted: Oct 28, 2015 | Last Updated: 6 years ago
Posted: Oct 28, 2015 | Last Updated: 6 years ago

Sadaf Akhtar

۔۔۔۔۔**  تحریر : امبرین سکندر  **۔۔۔۔۔

مجھے یاد ہے اچھی طرح جب 2008ء میں، میں پہلی دفعہ اے آر وائی نیوز کے دفتر آئی، پہلا دن تھا سو کسی سے واقفیت نہ تھی، سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ پہلے واسطہ پڑ چکا تھا، مگر ان میں کوئی لڑکی نہ تھی، خیر دفتر میں ان ہی سوچوں کیساتھ قدم رکھا اور نیوز روم کی جانب پیش قدمی کرنے ہی والی تھی کہ پہلے ہال میں ایک نظر کارنر پر بیٹھی لڑکی پر پڑی، ہم دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی تھے مگر پھر بھی نظریں ملتے ہی زیر لب ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور ساتھ میں دونوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا، کیا خبر تھی کہ یہ اچانک ہلکے سے زیر لب کلامی کتنی دور تک چلے گی، میں سر جھٹک کر آگے اپنے کام کیلئے بڑھ گئی، پورا دن کیسے گزرا کام میں اندازہ ہی نہ ہوا۔ واپسی کا وقت تمام ہوا اور گھر کو چلنے کیلئے نکلی، اسی ہال سے گزری مگر اب وہ لڑکی اپنی سیٹ پر موجود نہ تھی، شاید ان کی ڈیوٹی کے اوقات مختلف تھے، الغرض پہلے دن کا اختتام اچھا ہوا۔

6

دوسرے دن جب آفس میں قدم رکھا تو حاضری والی جگہ وہی ہنس مکھ چہرہ نظر آیا، مجھے دیکھ کر آگے بڑھی اور سلام کیا، میرا نام صدف اختر ہے، آگے بڑھ کر ہلکی مسکراہٹ کے بعد میں نے بھی اپنا تعارف کرادیا، یہ تھا ہمارے تعلقات کا باقاعدہ آغاز، اسی دن کھانے کے وقت وہ میرے پاس آئی پھر اپنا لنچ میرے ساتھ شیئر کیا، میں ازل سے کھانے کے معاملے میں سُست ہوں، بہت کم ہی کھانے کو کچھ لاتی، خیر یوں ہلکی مسکراہٹ پھر سلام اور اب کھانے سے ہم دونوں کی دوستی کی گاڑی آگے چلنے لگی، صدف ایک نہایت نرم گُفتار، بھولی لڑکی تھی، جسے شادی کے صرف چند سال بعد ہی شوہر کی جدائی کا غم سہنا پڑا، 2 معصوم خوبصورت بچیوں کی کل کائنات اور وہ ان کی، یہ ماں زمانے سے لڑتے مصائب اُٹھاتے اور کماتے اپنی اور بچیوں کی زندگی گزار رہی تھی۔

کہنے کو گھر میں باپ بھی تھے اور بھائی بھابی بھی مگر اسے وہ دوست نہ مل سکا جس کی اسے تلاش تھی، کام کے باعث ہماری زیادہ بات چیت اور ملاقاتیں طویل نہ ہو پاتی، مگر جب جب وقت ملتا ہم ایک دوسرے سے دل کھول کر بیان کرتے، وقت اپنی رفتار سے ٓگے بڑھتا گیا اور کب کیلنڈر پر 2010ء آیا معلوم ہی نہ ہوا، صدف نے ایک روز اچانک بتایا کہ وہ یہ چینل چھوڑ کر دوسرے چینل میں جارہی ہے، ایک طرف اچھا موقع ملنے کی خوشی تھی تو دوسری طرف اچھی دوست سے بچھڑنے کا ملال بھی ہوا۔

406039_101527996692569_1111494392_n

صدف نے دوسری منزل کیلئے رخت سفر باندھا اور پھر اس دوستی میں فاصلہ آگیا، ہم دونوں کے دن رات اپنی اپنی جگہ وقت کی رفتار سے گزرنے لگے، یہ کوئی 2011ء کی بات ہے کہ میں نیوز روم میں حسب معمول کام میں مصروف تھی کہ ایک مانوس آواز سماعتوں سے ٹکرائی، پیچھے پلٹ کر دیکھنے پر اندازہ ہوا کہ صدف اپنی پیاری سی بچیوں کے ہمراہ پُرانے ساتھی ورکرز سے ملنے آئی ہے، افسوس کے میرے پاس اس وقت کچھ نہ تھا کہ میں ان پیاری کلیوں کی نظر کرتی، صدف میرے پاس آئی بیٹھی اور مجھ سے دوسرا چینل جوائن کرنے کا کہا، میرا تو کوئی ارادہ نہ تھا، سو ایسے ہی اسے ہاں کر ڈالی، بس پھر کیا تھا ایک دو دن میں ہی کال آگئی میں نے بے دلی سے انٹرویو دیا، ٹیسٹ دیا مگر حیرت کہ پاس ہوگئی اور میرا سلیکشن ہوگیا۔

12115511_10153269081044895_6512399044583841551_n

یہاں اب میں اور صدف ساتھ ساتھ تھے، پرانی دوستی کو اب وقت کے ساتھ اور مضبوط ہونا تھا یہ میرا ارادہ تھا، مگر نہ جانے کیا ہوا، وقت کے ساتھ ساتھ اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی ہمارے درمیان فاصلے آتے گئے، پتا نہیں کیوں مگر بات بات پر ہمارے درمیان اختلافات بڑھتے گئے اور دوسروں نے ان اختلافات کو ہوا دینے میں مرکزی کردار ادا کیا، وہ دوستی اور قربتیں جو کئی سالوں سے تھیں اب ان میں فاصلے اور بدگمانیاں آگئیں، میں اپنی زندگی اور مسائل میں الجھ کر رہ گئی اور وہ تو شروع ہی سے مسائل کی کشتی پر سوار تھی۔

کبھی ہم روم میں اکیلے ہوتے تو دل کرتا بڑھ کر گلے لگا لوں، سارے گلے شکوے دور کرلو، تھوڑا لڑ لوں، ناراض ہوں گی تو وہ مجھے منا لے گی، مگر میری یہ ازل سے رچتی بستی انا مجھے آگے بڑھنے نہ دیتی، دن مہینوں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہونے لگے اور ہم میں سے کسی کو اندازہ ہی نہ ہو پایا کہ صدف کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ میں وہ وقت بہت یاد کرتی جب ہم پچھلے آفس میں ہنسی خوشی رہا کرتے تھے۔ صدف نے بارہا چاہا کہ میں اپنا مزاج ٹھیک کر لوں مگر نہ جانے کیوں کس بات کے خوف سے میں ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتی۔

3

صدف کی محبت اور دوستی میں کوئی کمی نہ آئی، ڈیپارمنٹ، فلور یا آفس کا کوئی بھی مسئلہ ہوتا کسی کو بھی ضرورت ہوتی، وہ سب سے پہلے مدد کو آتی، کہتے ہیں اچھے لوگ جلدی دنیا سے اُٹھ جاتے ہیں، شاید اس کی اچھی ادائیں اور عادتیں اللہ تعالی کو ایسی بھائیں کہ انہوں نے اسے اپنے پاس بلا لیا۔

اپنی بچیوں کے اچھے مستقبل کے خواب سجا کر صدف نے بلاآخر اپنے کیریئر کو مارچ 2015ء میں خدا حافظ کیا، بچیوں کی پڑھائی اور ان کی پرورش کیلئے وہ وقت کیساتھ کیساتھ بہت فکرمند رہنے لگی تھی، پتا نہیں واقعی فکر تھی یا اسی وقت کم رہ جانے کا اندازہ ہوگیا تھا، سب کے منع کرنے کے باوجود وہ اپنے گھر کو وقت دینے کیلئے سب چھوڑ چھاڑ کر چلی گئی، جانے کے بعد کسی سے رابطہ نہ ہوسکا، شاید وہ ہر ایک سیکنڈ اپنے گھر کو سنوارنے اور بچیوں کیساتھ گزارنا چاہتی تھی۔

پھر وہ لمحہ بھی آگیا جس کا تصور آج بھی روح کو ہلا دیتا ہے، آنکھیں بند کروں تو اس کا چہرہ سامنے آتا ہے، یقین ہی نہیں آتا وہ اب نہیں رہی، مگر کیسے کیسے یقین کروں؟، کس طرح وہ گئی، کیا کوئی سوچ سکتا تھا؟، 20 اکتوبر کو پی آئی بی کالونی کے ایک گھر میں قیامت آئی اور گزر گئی، نہ کسی کو پتا چلا، نہ آواز آئی بس کرنے والے اپنا کام کرکے چلتے بنے۔

4

بیس اکتوبر کی صبح وہ بچیوں کو ناشتہ کرا کے اور تیار کرکے اسکول بھیج کر گھر کے کاموں میں لگ گئی، تھوڑی دیر کو کمر سیدھا کرنے لیٹی ہی تھی کہ نوکر کے بھیس میں بھیڑیوں نے اس سے اس کی سانسیں چھین لیں، سفاک قاتلوں نے ایسی بے دردی سے قتل کیا کہ بچنے کی کوئی امید ہی باقی نہ چھوڑی۔

ہھتوڑے نما ہتھیار سے ایسے سر پر وار کیے کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگئی، درندوں کو ان معصوم فرشتوں کا بھی خیال نہ آیا جو اسکول سے گھر واپسی پر ماں کی راہ تکتے تھے۔ قاتلوں نے اپنا کام کیا اور بھاگ گئے، مگر جس کی سانسیں چھین کر گئے اس سے وابستہ زندگیوں کا نہ سوچا، بوڑھے باپ نے جب خون میں لت پت جوان بیٹی کی لاش دیکھی تو گر پڑے، ہر طرف کہرام مچ گیا، جو سنتا دوڑا چلا آتا، بھلا ایک اکیلی لڑکی کسی کا کیا بگاڑ لیتی، وہ تو ویسے ہی بہت ڈرپوک تھی، ظالم اس کو باندھ بھی تو سکتے تھے، انہوں نے جان سے ہی کیوں مارا؟، وہ اس سے اپنی مجبوری بیان تو کرتے، ایسا ہی کیا کہ جان سے ہی مار دیا۔ جاتے جاتے لمحوں میں اس نے کس کس کو نہیں پکارا ہوگا، کتنی چیخیں نکلی ہوںگی یا اس کی چیخیں بھی سانسوں کی طرح گھٹ گئی ہوں گی۔

1

تحریر لکھتے لکھتے نہ الفاظ ساتھ دے رہے ہیں، نہ زبان اور نہ دماغ، مجھے بار بار اپنے اپ کو یقین دلانا پڑتا ہے کہ یہ سچ ہے، ہاں مگر ایک کڑوا سچ، ہم تو ہمت کرکے کسی نہ کسی طرح آگے بڑھ جائیں گے مگر وہ بچیاں شانزے اور انا۔ سوچ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، ابھی انہوں نے دیکھا ہی کیا ہے۔

آج بھی سوچتی ہوں کہ صدف کاش تم اچھے مستقبل کے واسطے آفس نہ چھوڑتیں تو وہ منحوس لمحہ نہ آتا اور تم ہمارے پاس ہوتیں، حیات ہوتیں۔ صدف کاش تم ارادہ تبدیل کرلیتیں، مگر افسوس صد افسوس، نہ لمحہ تبدیل ہوا نہ ارادہ بدلا، بس تم کسی دور دیس چلی گئیں، زندگی، اُمیدوں اور روشنی سے بھری آنکھیں ہمیشہ کیلئے بند ہوگئیں، وہ آواز وقت کے گرداب میں گھٹ گئی، وہ صدف اعتبار کی بھینٹ چڑھ گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube