Tuesday, November 24, 2020  | 7 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

جوہر ناشناس قوم

SAMAA | - Posted: Sep 22, 2015 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 22, 2015 | Last Updated: 5 years ago

blog

تحریر : محمد لقمان

لاہور : ملالہ يوسفزئي کے بعد پاکستان کي ايک اور بيٹي کو ايک بين الاقوامي ايوارڈ سے نوازا گيا ہے۔ اس بار نوبيل پرائز تو نہيں، ہاں مگر سابق باکسنگ چيمپين محمد علي کے نام سے موسوم انسانيت ايوارڈ ہے، حديقہ بشير کو يہ ايوارڈ بچپن کي شاديوں کي مخالفت کرنے پر ديا گيا ہے۔

pic one

سوات کي ايک اور بيٹي ملالہ يوسفزئي کو ايوارڈ کالعدم طالبان کي طرف سے لڑکيوں کي تعليم پر پابندي کے خلاف جدوجہد پر ديا گيا تھا، ان دونوں بچيوں کو ايوارڈ ملنا ايک قومي اعزاز کي بات ہے۔

pic 2

دوسری جانب جو چيز پريشان کن ہے، وہ ان دونوں بچيوں کي جدوجہد کي اہميت کی حوصلہ افزائی ہے، جو پاکستان ميں نہيں، ملگر ملک سے باہر انہیں خوب پذیرائی ملی۔ ملالہ يوسفزئي کي شناخت بي بي سي پر بلاگز سے ہوئي،جب کہ حديقہ بشير کي پہنچان بھي غير ملکي اداروں نے کروائي، پاکستان ميں جوہر ناشناسي کي يہ پہلي مثال نہيں۔

pic 3

نصر فتح علی خان جیسے عظیم فنکار کی عظمت کے بارے میں پاکستانیوں کو تب پتا چلا جب ان کي گائيکي کو ہالي ووڈ کے ہدايت کار پيٹر گيبريل نے فلم کے لئے بيک گراؤنڈ ميوزک کے طور پر استعمال کيا۔ کئي بھارتي فلموں ميں ان کے گانے شامل ہونے پر تو ہميں يقين ہوگيا کہ وہ بہت بڑے گلوکار ہيں، ورنہ پاکستان کي آبادي کي اکثريت تو ان کو فيصل آباد کے لسوڑي شاہ دربار کے ايک قوال کے طور پر ہي جانتي تھي۔

pic4

بلبل صحرا ريشماں کي بھي صحيح قدر و قيمت کا اندازہ اس وقت ہوا جب ان کے گائے ہوئے کئي گيت بالي ووڈ فلموں کا حصہ بنے، ورنہ ايک عام پاکستاني کے لئے وہ ايک گڑوي والي تھي، يہ تو وہ لوگ تھے جن کي قدر کا ان کي زندگي ميں اندازہ ہوگيا اور ان کا تعارف ان کي پاکستاني شہريت نہيں بلکہ غير ملکي اداروں کي طرف سے ان کي جدوجہد اور کام کا تسليم ہونا تھا، مگر معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو اور شاعر صاغر صديقي کي عظمت کا اندازہ تو ان کي وفات کے بعد ہوا۔

pic5

منٹو ساري عمر عدالتوں ميں مقدموں کا سامنا کرتے رہے اور ساغر صديقي فٹ پاتھ کے کنارے بيٹھ کر سگريٹ کي خالي ڈبيا پر شعر لکھتے رہے، نصرت فتح علي خان، عطاٗ اللہ عیسی خیلوی اور نور جہاں کے گائے کئی گانوں کے خالق بري نظامي فيصل آباد ميں ايک دو مرلے کے گھر ميں مفلسي کي زندگي گزار کر دنيائے فاني سے گزر گئے۔

pic 6ابھي بھي پاکستان کے طول و عرض ميں مختلف شعبوں ميں کارہائے نماياں کرنے والے لوگ گمنامي کي دبيز چادر کے پيچھے زندگي گزار رہے ہيں، چونکہ ان کو خود نمائي کا شوق نہيں، اس ليے ان کو کوئي جانتا نہيں۔

کيا ہر دفعہ ہميں غير ہي بتائيں گے کہ ہمارے ہاں ابھي کھيت کي مٹي ميں نم موجود ہے اور قحط الرجال پيدا نہيں ہوا ؟اور کيا ہم ہر قابل جوہر کي پہچان اس کي موت کے بعد ہي کريں گے؟ کسي نہ کسي کو اس بارے ميں سوچنا ہوگا۔

 

 

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube