Wirsha shahid uddin

The author is a student of Mass Communication from the University of Karachi. She is currently working on a Ph.D. degree and writing her these on online journalism. By profession, she is a journalist. بلاگرجامعہ کراچی سے آن لائن صحافت پرپی ایچ ڈی کر رہی ہیں اورپیشے کے اعتبار سے وہ صحافی ہیں۔

کیا عمران خان چھو منتر کہیں گے؟

تحریر: ورشہ شاہد الدین حکومت کو ابھی میدان میں آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے کہ مخالفین نے طعنے دینا بھی شروع کردیئے کہ ہائے ہائے کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، یہ کام شروع نہیں ہوا، یہ ترقیاتی کام بھی ادھورا پڑا ہے، یہ نئی حکومت کے سیاست دان ہیں یا…

Read More
 

ڈائٹنگ،مجبوری یا شوق

ہائے ہائے کتنی موٹی ہورہی ہو، اس کودیکھا ہے پھیلتی ہی جارہی ہے، معلوم نہیں اس کا پیٹ ہے یا کیا، جب دیکھو کھاتی ہی رہتی ہے ہروقت، ارے ارے کچھ دن پہلے تک تو بڑی پتلی تھیں تمہیں ایک دم کیا ہوگیا، کون سی چکی کا آٹا کھا رہی ہو؟ ہمیں بھی تو بتاؤ،…

Read More
 

شہر قائد میں تفریحی مقامات ناپید

  تحریر : ورشہ شاہد الدین کراچی شہر جو پورے ملک کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے، جو معیشیت کا گڑھ ہے، ایسا شہر جو صنعتی، تجارتی، مواصلاتی سمیت اقتصادی طور پر مضبوط سمجھا جاتا ہے جہاں سب کو گھر چلانے اور کیریئر بنانے کیلئے کام مل جاتا ہے، ایسا دیس جہاں ہر مذہب،…

Read More
 

۔ ادھرسیلفی ادھرسیلفی، اف سیلفیاں

سنو ذرا ایک سیلفی لے لینا، ذرا دو چار اور لے لو، اس پوز میں بڑی اچھی آرہی ہیں اور اس جگہ پرتصویریں تو زبردست ہیں بھئی واہ، جب فیس بک اور انسٹا پر ڈالوں گی تو سب کو پسند بھی آئیں گئی اور سب واہ واہ کریں گے۔ ارے واقعی تم نے بہت اچھی…

Read More
 

پارکنگ مافیا کی کمرشل سرگرمیاں

بازار، شاپنگ مالز، سپر مارکٹیں یا تفریح گاہوں جیسے بہت سے مقامات پر پارکنگ کی پرچیاں تو عام ملتی ہیں، کہیں دس تو کہیں بیس روپے پرچی پر لکھے ہی ہوتے ہیں اور جو بندہ وہاں اس ڈیوٹی پر مامور ہوتا ہے وہ اس طرح گاڑی رکتے ہی پیسے مانگتا ہے جیسے انکم ٹیکس مانگ…

Read More
 

یہ انتخاب کس کاہے؟

بڑی بڑی پارٹیوں کی مثال لے لیجیئے یا چھوٹی موٹی پارٹیوں کی، 2013 کی انتخابات کی طرح اس انتخابات میں شاید بڑے بڑے تجزیہ نگاراورگلی کوچے یا نکڑ نکڑ پر بیٹھے وہ تجزیہ نگار جو کسی بھی موضوع پرتجزیہ کرنا شروع کردیتے ہیں، اب یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ آخر 2018 میں کون سی…

Read More
 

عید صرف بچوں کی تو نہیں ہوتی؟

یہ جملہ بہت عام ہے کہ عید تو بس بچوں کی ہوتی ہے، ان کا سجنا سنورنا، نئے نئے چشمے، چمک دھمک کے کپڑے، ہاتھ میں کڑک کڑک عیدی کے نوٹ، جھولے جھولنا، باہرچیزیں کھانا، اونٹ کی سواری کرنا اورریل گاڑی میں بیٹھنا! مزے تو بچوں کے ہوتے ہیں بڑوں کے کیا مزے، خواتین ہیں…

Read More
 

عوام جائے گڑھے میں، ہمیں کیا

  تحریر : ورشہ شاہد الدین حکومت کی مدت پورے ہوئے ابھی مشکل سے چند ہی دن گزرے ہیں کہ پرانی حکومت نے سارا نزلہ نگراں حکومت پرڈالنا شروع کردیا ہے، سارے دعوے، وعدے سب ایک طرف اب تو ہم چلے گئے ہیں تو ہم سے کچھ نہ کہا جائے۔ یہ کیسا طریقہ اورطرز ہے جو…

Read More
 

ایسا کرتے ہی کیوں ہو؟

سابق وزیراعظم اورمسلم لیگ (ن) کے تاحیات صدرمیاں محمد نوازشریف کا ممبئی حملہ کیس سے متعلق بیان خبروں کی زینت تو بن گیا، جہاں مذمت کرنے والے مذمت کر رہے ہیں جب کہ کچھ سیاستدان و رہنما اس پر زوردیے جارہے ہیں کہ بیان کو سیاق سباق سے ہٹ کر لیا گیا اور وہ شاید…

Read More
 

نا اہلیوں کا لمبا سفر

سیاست دان‘ یا ’حکمران‘ جیسے لفظ اپنے آپ میں ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، سیاست دان سیاست کے مختلف داؤ پیچ آزما کر یا منفرد انداز میں حکمرانی دکھا کر عوام سے ووٹ حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے، اور یہ کوشش خاص کرانتخابات سے پہلے ایسی پروان چڑھتی ہے…

Read More
 

پی ایس ایل پرتنقید نہ کریں

وہ ملک جس میں دہشتگردی، لوٹ مار، چھوٹی بڑی کرپشن، چوری چکاری، آپریشن، سانحات، حادثات، بے روزگاری، تعلیم اورصحت کے برے حال پرخبریں روز ہی بلکہ ہر لمحے زینت بنتی رہتی ہوں اورعوام الناس اس سے تنگ بھی آگئی ہو تو ایسے میں ان کے لیے پی ایس ایل جیسا ایونٹ ، ایک بڑی تبدیلی…

Read More
 

کیا بےجا تنقید فرض ہے؟۔

شادی کی تقریب کا پہلا منظر (کیا دھوم دھام ہے، کیا سُرخ چمکتا دمکتا جوڑا ہے، لوگ بھی بہت اچھے لگ رہے ہیں، ذرا دلہن کا جوڑا تو دیکھو لگتا ہے بڑے پیسے والے لوگ ہیں، اور دیکھو تو جتنے بھی لوگ آئیں ہیں سب ہی کتنے اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، پرہمارے والے مہمان…

Read More
 

آن لائن جرنلزم یا انقلاب؟

پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، ریڈیو اور پھر آن لائن یا ڈیجیٹل جرنلزم نے دنیا بھر میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ عوام الناس زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلی کے خواہشمند ہوتے ہیں اور اب خبر رسائی کے معاملے میں بھی انہیں یہ تبدیلی اچھی لگی جو انہیں ڈیجیٹل ، آن لائن یا نیو میڈیا کے…

Read More
 

ہمارے سرکاری اسپتال یا بھیڑیا چال؟

گزشتہ ہفتے اپنے والد کے ساتھ کراچی کے ایک بڑے سرکاری اسپتال میں گئی جہاں ہمیں ڈاکٹرسے معائنے کے لیے 11 واں نمبر ملا، اُس بڑے سرکاری اسپتال میں ہمیں ایک دوسرے سرکاری اسپتال کے بڑے ڈاکٹر نے ہی ریفر کیا تھا کہ آپ وہاں جایئے اوراس ڈاکٹرسے معائنہ کرایئے، اس کے بعد وہ جوبھی…

Read More
 

چاروں طرف ایک ہی قصہ

طیبہ تشدد کیس ہو یا زینب قتل کیس، چھرا مار گروپ کی غنڈہ گردی ہو یا بچوں کے ساتھ بد فعلی، یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ جب ہم پرایک قصہ، سانحہ عیاں ہوتا ہے تو اس جیسے کوئی ہزارقصوں کی قطار ہمارے سامنے لگ جاتی ہے اور پھر یوں لگتا ہے کہ چاروں…

Read More
 

اخراجات کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟

یہ خرچہ وہ خرچہ، یہاں پیسے جانے ہیں وہاں پیسے جانے ہیں، اِس کو بھی دینے ہیں اُس کی بھی دینے ہیں، وہ جو ادھار لیا تھا وہ بھی دو چار دن میں ہی چکانا ہے، پھر فیسیں بھی، ارے ارے یاد آیا ابھی تو کمیٹی کے پیسے بھی نکالنے ہیں، دوائیاں تو رہ ہی…

Read More
 

آخرہم اتنے جذباتی کیوں ہیں؟

تحریر : ورشہ شاہد الدین ہم انسان کیا اب صرف جذبات کے سہارے ہی جی رہے ہیں، حقیقیت کو جانے بنا ، حقائق کی کھوج لگائے بغیرکیوں ہم اس قدر جزباتی ہوجاتے ہیں کہ کوئی بھی واقعہ ہو، ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ توکوئی متاثرہوا ہی نہ ہو۔ جذباتی ہونا ہر گز…

Read More
 

ہم جائیں تو کہاں جائیں

طالب علم اپنی پڑھائی کے دوران نہ جانے کیا کیا خواب دیکھتے ہیں، وہ مختلف منازل کو اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے پڑھتے ہیں اوربہت پرامید ہوتے ہیں کہ پڑھنے کے بعد وہ ایک اچھی نوکری کریں گے اورباقائدہ اپنے کریئرکاآغازکرکے خود بھی آگے بڑھیں گے اوراپنے اہل خانہ کو سپورٹ بھی کریں۔ ہرطالب علم…

Read More
 

سال 2017 نے آپ کو کیا سبق دیا؟

تین سو پیسٹھ دن پرمبنی ایک سال کہنے کو تو ایک بڑا عرصہ لگتا ہے پراب یہ بھی حقیقت ہے کہ پورا سال چٹکیوں میں ہی گزرجاتا ہے اوراندازہ نہیں ہوتا کہ سال بھی گزرگیا اورسب حیران ہوجاتے ہیں جب وہ گزرے ہوئے وقت کے بارے میں سوچتے ہیں کہ پتہ بھی ہی نہیں چلا…

Read More
 

سوشل میڈیا ایک طاقت

  ۔۔۔۔۔**  تحریر : ورشہ شاہد الدین  **۔۔۔۔۔ دنیا بھر کی اگر بات کی جائے تو سب کیلئے سوشل میڈیا ایک ایسا بڑا پلیٹ فارم بن گیا ہے جہاں اس کا استعمال کرنے والے افراد اسے بہت کچھ سمجھتے ہیں، سوشل میڈیا کا حصہ بن کر بلاشبہ سب سے پہلا احساس جو انہیں ہوتا ہے…

Read More
 

میں نےتوپہلےہی کہاتھا

میں جوکہوں جیسا کہوں، جب کہوں، جس انداز میں بھی کہوں، وہ صحیح تصورکیا جانا چاہیئے۔ بالاخر وہ کسی اورنے نہیں بلکہ میں نے کہا ہے، اس لیے وہ ٹھیک ہی ہوگا۔ انسان اپنی کسی بھی عمر میں ہو جب وہ اپنی ’میں‘ پر اترتا ہے تو شاید کہیں نہ کہیں اس کی تباہی شروع…

Read More
 
 

مصنفین