Shahid Kazmi

Author has done Masters in Mass Communication and writes blogs or many publications.

نئی حکومت،ٹھنڈا کر کے کھائیے

پاکستان تحریک انصاف کی بائیس سالہ جہدو جہد کا ثمر اقتدار کی صورت میں ملا، مبارکبادیں، خوشیاں اُن کا حق، بے شک۔لیکن اس کے ساتھ کہیں مسائل نے بھی جنم لیا۔ اگر تو حکومتی اراکین میں نوجوانوں کی بھرمار ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ انہیں شک کا فائدہ کرکٹ کی طرح ہی دیا…

Read More
 

پُرجوش بادشاہ، کمزور پیادے

تین صوبوں اور وفاق میں عمران خان اپنی ٹیم منتخب کر چکے ہیں جو اب موضوع بحث ہے اور کارکردگی اُن کی ثابت کرئے گی کہ اُن کی سلیکشن درست تھی یا غلط۔ وفاق کی سطح پر نگاہ مرکوز رکھی جائے تو جو اُمید تھی ، شاہ محمود قریشی کو خارجہ کا قلمدان ملا، جو…

Read More
 

کالی پجارو

کالی پجارو ایک طرف، دوسری جانب عام سی سفید کلٹس، پجارو کے ساتھ گارڈز بھی، توں توں میں میں شروع ہو گئی۔ کالی پجارو والا جھٹ سے اُترا اور لے دے کہ کلٹس والے پہ برس پڑا۔ کالی پجارو کے مقابلے میں جیسے سفید پرانے ماڈل کی کلٹس بے چاری لگ رہی تھی ایسا ہی…

Read More
 

کپتان اور ٹیم سلیکشن

سال 1992ء کی فتح اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے ۔ کیسے مشتاق احمد کی گگلی کے داؤ پیچ مخالفین پہ بجلی بن کے گرے اور کیسے وسیم اکرم کی ریورس سوئنگ سے بیٹسمینوں کے ہوش ٹھکانے لگتے رہے اور کس طرح عاقب جاوید اپنی ورائٹی سے حریفوں کے لیے خطرہ بنے رہے، کیسے…

Read More
 

وزیر اعظم عمران خان، درپیش چیلنجز

پینتیس نشستیں جیتنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے جس طرح سے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے اس سے کچھ بعید نہیں کہ وہ حنانِ اِقتدار سنبھالنے کے قابل ہو چکی ہے۔ لیکن جو رجحانات پاکستان تحریک انصاف نے متعارف کروائے ہیں کچھ بعید نہیں کہ وہی سب اب اُس پہ بھی آزمائے…

Read More
 

اپنے مستقبل کو ووٹ دیں

چند گھنٹے باقی اور پھر پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین انتخابی دور میں داخل ہو جائے گا۔ پولنگ بلا تعطل جاری رہے تھے۔ ہارون بلور، سراج رئیسانی، اکرام اللہ گنداپور کی شہادتیں اس جمہوری عمل کی تکمیل کے لیے ہمیشہ یاد رہیں گے۔ اور خدا اس پورے عمل کو مزید کسی تباہی سے کامیابی…

Read More
 

حسین لوائی، ٹپ آف آئس برگ

   انتخابات کا ہنگامہ پورے زوروں پر ہے، تو چھوڑیے کہ حسین لوائی کون ہے اور اس نے جرم کیا کیا ہے؟، اس کے جرم میں شریک کار کون کون ہیں؟، آئیے بس انتخابات کے جھمیلوں میں اس کو بھول ہی جائیں۔ بھول جائیے کہ وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز اور اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن…

Read More
 

وفادار غدار کیو ں بنتے ہیں

انتخابات دو ہزار اٹھارہ کل کے دوست آج کے دشمن بنے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور کل کے دشمن آج باہم شیر و شکر ہو کرایک دوسرے کی بلائیں لے رہے ہیں۔ انقلابی لوٹے کہلائے جا رہے ہیں اور لوٹے جمہوری گاڑی کے ڈرائیور بن کے سامنے آ رہے ہیں۔…

Read More
 

مجھ سے اڑسٹھ ہزار لے لیجیے

پچیس جولائی کوہونے والے عام انتخابات کے لیے  انتخابی اُمیدواران اپنے آپ کو فرشتے ظاہر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ کہیں کسی کو جمال لغاری جیسا ردعمل مل رہا ہے تو کسی پہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا رہی ہیں۔ لیکن بیان حلفی کی پھک نے بڑے بڑوں کے…

Read More
 

سو دن، تنقید مگر عقل سے

تحریر: شاہد کاظمی نہ سوا من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔۔۔ نا کھیڈاں گے نا کھیڈن دیاں گے۔۔۔ کھایا پیا کچھ نہیں ، گلاس توڑا بارہ آنے، فکر نہ کریںآپ کو اردو و پنجابی کے محاوروں پہ لیکچر دینے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں پاکستانی سیاست میں آج کل یہ…

Read More
 

روزہ رکھ کے احسان کیا ہے؟

پٹاخ ، چٹاخ، دھڑام ۔۔۔ دھیان ٹھیلے والے کی طرف تھا ، اوپر سے گرمی بھی اپنے جوبن پہ کہ آوازیں آنے پہ دھیان ٹھیلے سے ہٹا، دور سے معاملہ سمجھ سے بالاتر تھالہذا قریب جانا ضروری سمجھا۔ ایک گاڑی اور رکشہ والا آپس میں گتھم گتھا، چھڑوانے والے اتنے زیادہ تھے کہ بذات خود…

Read More
 

انتخابات2018، نیا کیا ہے؟

ملک کو آمریت نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، وقت آ پہنچا ہے کہ جمہوریت نما آمریت کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا جائے۔ میں فلاں کا پوتا ، فلاں کا بیٹا ہوں آپ پہ میرا حق ہے۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے، تبدیلی لے کر آؤں گا، آپ سے وعدہ ہے کہ مجھے…

Read More
 

سیاسی اُفق پہ مطلع اَبر آلود ہے

تحریر: شاہد کاظمی اختیارات کی نچلی سطح پہ منتقلی ہو یا مقامی حکومتوں کا نظام، قومی سطح پر انتقال اقتدار کا مرحلہ ہو یا پھر کسی آئینی مسلے کا سامنا ہو، پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی شائد ہے کہ یہاں جب تک معاملات تنازعات میں نہ لپٹ جائیں تک تک سیاسی ماحول کا…

Read More
 

پارٹی منشور، دور کے سہانے ڈھول

پاکستان کی انتخابی تاریخ شائد ہے کہ عوام کی حیثیت اُس کامے کی سی رہی ہے جو چوہدری صاحب کی زمینوں پہ پورا سال اَناج کاشت کرتا رہتا ہے اور سال کے آخر میں بمشکل چند بوری اَناج اُسے مل پاتا ہے ، وہ بھی اِتنا کہ سال میں کچھ دن فاقہ نہ رہے تو…

Read More
 

جمہوریت میں پارٹی بدلنےکی روایات

پاکستان میں جمہوریت جس انداز سے پروان چڑھ رہی ہے، کچھ بعید نہیں کہ مستقبل قریب میں جمہوریت خود ہاتھ باندھے کھڑی ہو کہ مجھ پر اتنا تو ظلم روا نہ رکھو، مجھے سانس لینے کی اجازت تو دے دو۔ کرپشن پر پردہ ڈالنا ہو، بہترین پردہ جمہوریت ہے۔ غیر قانونی اثاثوں کو قانونی شکل…

Read More
 

رقصاں جمہوریت اور اِدارے

خوبصورت پیکنگ میں ایک جنس فروخت کی جاتی رہی ہے “جمہوریت”۔ نرخ متوازن سے ہیں ۔ مگر کبھی کبھار تھوڑا بہت اُتار چڑھاؤ دیکھنے میں ضرور آتا ہے۔ کبھی خریدار دونوں ہاتھوں میں دام لیے بھاگے پھرتے ہیں کبھی خریدار ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہر دور…

Read More
 

پاکستان میں سیاست کا بیانیہ کیا ہے؟

برطانیہ میں ہونے والے انتخابات میں پانامہ ایشو ، یورپی یونین سے انخلاء، برطانیہ کی معاشی صورت حال انتخابات کے اہم نعرے رہے۔ ٹریسا مے کی کامیابی اس بات کی نشاندہی تھی کہ ان تمام نقاط نے کسی نہ کسی حد تک انتخابات میں اپنا کردار ادا کیا۔ امریکہ میں ٹرمپ کا سب سے پہلے…

Read More
 

جمہوری لغت، اور حاصل صاحب کا حاصل

تحریر: شاہد کاظمی سیاسی شعور کی بیداری پہ پاکستان کے سیاستدان پاکستانی عوام کو لوٹتے رہے ہیں، لوٹ رہے ہیں، اور لوٹتے رہیں گے۔ یہاں یہ امر ذہن نشین رہے کہ لوٹنا صرف روپے پیسے سے ہی وابستہ حرف نہیں ہے۔ بلکہ پاکستانی عوام سے سیاسی شعور کی بیداری کے نام پہ ان سے ان…

Read More
 

قصوروار ایک عہدیدار؟

۔۔۔۔۔** تحریر : شاہد کاظمی  **۔۔۔۔۔ پاکستان میں پولیس کے نظام کو سمجھنے کیلئے کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، یہ قصہ پولیس چوکی سے شروع ہوتا ہے اور عام طور پر پولیس چوکی کا کرتا دھرتا ایک اے ایس آئی، سب انسپکٹر یا ایس ایچ او ہوتا ہے، چوکی انچارج کا کردار صرف جرائم کا…

Read More
 

وہ تبدیلی کیا ہوئی؟

یہ جماعت یقیناًپاکستان کی سیاست میں تیسری سیاست قوت بن کے ابھرے گی۔ اور کوئی شک نہیں کہ عوام کے پاس ایک آپشن آ گیا ہے کہ وہ لگے بندھے رویوں سے ہٹ کے بھی کچھ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ یہ خیالات راقم الحروف اور ایک دوست لکھاری کے تھے ۔…

Read More
 

پنجاب اور کے پی کے پولیس،،، فرق کیا ہے؟

تحریر: شاہد کاظمی تحریر کے عنوان سے نہ تو اس مغالطے میں جانے کی کوئی ضرورت ہے کہ راقم الحروف کسی سیاسی جماعت کا کوئی کارندہ ہے، نہ ہی اس سوچ کو اپنے ذہن میں جگہ دینے کی کوئی تک بنتی ہے کہ یہ تحریر کسی ذاتی بغض، عناد یا نفرت کی بنیاد پہ سامنے…

Read More
 
 

مصنفین