Shahid Kazmi

Author has done Masters in Mass Communication and writes blogs or many publications.

اور اب ایران؟؟؟

تحریر: شاہد کاظمی شام میں اس وقت حالات کا یہ عالم ہے کہ دنیا کی دو سپر پاورز گتھم گتھا ہیں۔ شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ترکی ہو یا سعودی عرب، امریکا ہو یا روس ہر کوئی کھیر کی دیگ میں سے اپنا حصہ وصول کر رہا ہے۔ اور اس دیگ کا…

Read More
 

کس نئے سال کی مبارکباد؟

اس بحث سے بالاتر کہ کون عیسوی سال کا جشن منا رہا ہے اور کون اسلامی سال کی شروعات کو عین اسلامی روح کے مطابق منا رہا ہے۔ کس کا طرز عمل مثبت رویوں کا عکاس ہے اور کس کی سوچ منفیت کا تاثر لیے ہوئے ہے۔ اس بات سے بھی قطع نظر کہ سرے…

Read More
 

ٹرمپ کی دھمکیاں, ہمارا غصہ حقیقی؟

جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت مصدقہ طور پہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس شریف منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے تب سے پوری مسلم اُمہ میں شدید بے چینی ہے۔ اور اِسی بے چینی کا کوئی واضح حل نکالنے اور اس مسلے…

Read More
 

قبلہء اول آزاد ہو سکتا ہے، اگر۔۔۔

تحریر: شاہد کاظمی سرزمین بیت المقدس دنیا کا واحد خطہ ہے جو مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے یکساں متبرک مقام ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ قبلہ اول ہے کہ جس کی جانب مسلمان خانہء کعبہ کے قبلہ مقرر ہونے سے پہلے رخ کر کے نماز کی ادائیگی…

Read More
 

احتجاج، دھرنا، ہڑتال

۔۔۔۔۔**  تحریر ؛ سید شاہد کاظمی  **۔۔۔۔۔ جمہوری معاشروں میں اختلاف بہتری کی نمایاں دلیل ہے، جہاں اختلاف نہیں ہوتا وہاں بناء سوچے سمجھے یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاملات جھیل کے ایسے ساقط پانی کی طرح ہورہے ہیں جہاں کائی جمتی جارہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اس جمی ہوئی کائی میں…

Read More
 

جمہوریت ۔۔۔دو آنے؟

جمہوریت کسی بھی معاشرے کا حُسن ہوتی ہے ۔ اس میں نہ تو کوئی شک ہے نا مبالغہ ۔ جمہوری معاشروں میں احساس، خلوص، خدمت جیسے جذبات بدرجہ اتم نہ صرف موجود ہوتے ہیں بلکہ ان کے فوائد عوام کو نچلی ترین سطح پر بھی ملتے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ترقی پذیر معاشروں میں…

Read More
 

گرد چھٹ رہی ہے۔۔۔

ہمسائیوں سے تعلقات ہمیشہ سے اہم رہے ہیں۔ اور دیہات میں بزرگوں سے ایک بات سن سن کے ذہن نشین ہو گئی کہ”دور دئے سجن توں نیڑے دا دشمن بہتر” کہ دور کے دوست سے نزدیک کا دشمن بہتر ہے۔ اب اس میں آج کے معروضی حالات میں کس حد تک سچائی ہے اور کس…

Read More
 

قائد کا نام ہٹا دیجیے

جن معاشروں میں ریاست تعلیم کی ذمہ داری بااحسن و بخوبی نبھاتی ہے ان معاشروں کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا کیوں کہ تعلیم جن معاشروں میں عام ہو جائے اور ہر ایک کی رسائی اس تک بناء تفریق قبیلہ ، رنگ و نسل ہو جائے وہاں ترقی ایک ایسے سر پٹ گھوڑے…

Read More
 

درست بات غلط طریقے سے

پاکستانی معاشرے میں باعث اوقات حقیقت پرمبنی معاملات کواس غلط رنگ سے اجاگر کیا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف غلط رخ اختیارکرلیتے ہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر کے بجائے ریخت کا باعث بن جاتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسا اکثر ایسی شخصیات کی سوچ کے توسط سے ہوتا ہے جو…

Read More
 

اِک شے ہوتی ہے ۔۔۔۔ غیرت

معاشرے ترقی تب کرتے ہیں جب اشرافیہ میں عزت نفس باقی ہو۔ اُن کے دل میں احساس اور روح میں غیرت کا مادہ مکمل نہ سہی تو کسی نہ کسی حد تک موجود ضرور ہو۔ حال ہی میں خبر نظر سے گزری کہ پرتگال میں لگنے والی آگ کے حادثے پہ ایک وزیر نے استعفیٰ…

Read More
 

سو بستروں کی میٹرو بس سروس

آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ آوا دیسی زبان میں اُس جگہ کو کہتے ہیں جہاں گوبر و لکڑیوں کی مدد سے آگ جلائی جاتی ہے اور مٹی کے برتن پکائے جاتے ہیں۔ اور غلطی سے آگ کی آنچ آگے پیچھے ہو جائے تو تمام برتن ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کا آوا بھی…

Read More
 

گورے سے آزاد؛اپنوں کے غلام

تحریر: شاہد کاظمی پترا گورے توں آزادی دے ستر ورئے ہو گئے، پر اپنڑیاں دی غلامی دے وی ستر ورئے ہو گئے نے۔ (بیٹا گوروں سے آزادی ملے آزادی ملے 70 سال ہو گئے لیکن اپنوں کی غلامی کو بھی 70 برس ہو گئے ہیں)۔ خالصتاً پبلک ٹرانسپورٹ فقرہ ہے۔ مگر اس ایک فقرے میں…

Read More
 

خارجہ پالیسی کے اونٹ کسی کروٹ توبیٹھ جا

تحریر: شاہد کاظمی پوری دنیا میں جس طرح حالات ہر نئے دن کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں اس سے نہ صرف امریکہ کی چوہدراہٹ کو خطرات درپیش ہیں بلکہ روس جس کے پرانے زخم ابھی تک رس رہے ہیں وہ دوبارہ سے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو رہا ہے اور چین جو ایک ایسی…

Read More
 

مظلوم روہنگیا، کچھ گریبان میں جھانکیے

پوری دنیا میں روہنگیا نسل کے بیس لاکھ افراد آباد ہیں جن کی اکثریت برما(موجودہ میانمر) میں ہے۔ اور پچھلے کچھ عرصے سے یہ خطہ اس لیے بھی خبروں میں ہے کہ بدھ مت کے پیروکار اکثریت نے ان روہنگیا النسل مسلمانوں پہ عرصہء حیات تنگ کر دیا ہے۔ اور راکائن یا اراکان میں قتل…

Read More
 

قربانی کیجیے، جو قربانی ہو

تحریر: شاہد کاظمی یار بات سن ! ران پہلے سے ہی الگ کر لینا۔ عید کی رات میں ہی تکہ پارٹی کا اہتمام کیا ہے۔ سب دوستوں کو کہا ہے تو بھی ران رکھ لینا۔ خوب ہلا گلا کریں گے۔ یہ ایک دعوت نامہ ہے۔ کوئی الیکڑانکس شاپ والا ہے تمہارا جاننے والا؟ ہاں ہے۔…

Read More
 

خدمت گار یا مافیاز؟

تحریر: شاہد کاظمی پنجاب بھر کے ینگ ڈاکٹرز نے 15اگست کو پندرہ روز سے جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔ وہ بھی اُس وقت جب انتظامیہ نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیکے۔ مریض تڑپے، بے ترتیب سانسوں کی ڈور مسیحا کا انتظار کرتے ہوئے ٹوٹ گئی۔ مگر احتجا ج تب ختم ہوا جب تک…

Read More
 

آخر یہ ماجرا کیا ہے۔۔۔!

کیا پانامہ میں آف شور کمپنیوں میں نام آنے کے قصور وار عوام ہیں؟، کیا دبئی کا اقامہ سامنے آنے کا ملبہ غریب عوام کے سر آتا ہے؟، کیا تنخواہ وصول کی یا نہیں کی، بات عدالت نے مانی یا نہیں مانی، اس کے قصور وار بھی عوام ہی ہیں؟ کیا عدلیہ نے کسی کھوکے…

Read More
 

بادشاہ کے پیادے

 ۔۔۔۔۔**  تحریر : شاہد کاظمی  **۔۔۔۔۔ نئی کابینہ پوری طرح بھاگ دوڑ میں مصروف ہوچکی ہے، نئے وزیر داخلہ کے دوروں کی تصاویر میڈیا کی زینت بھی بن چکی ہیں، جس میں وہ ہنگامی اور بناء اطلاع کے دورے کر رہے ہیں، باقی وزراء بھی وزارتوں کا انتظام و انصرام سنبھال چکے ہیں، یقیناً جب…

Read More
 

کہانی میں جھول ہے

جھول” کا لفظ عام بول چال میں بہت عام ہے ۔ جب بھی کسی جگہ کوئی خامی ، کمی یا کمزوری نظرآئے تو اس کے لیے اکثر یہ لفظ عام بول چال میں عام ہے۔ ٹین ڈبہ بنانے والوں کے ہاں تو اس کا استعمال عام لوگوں سے بھی بہت زیادہ ہے ۔ یہ لفظ…

Read More
 

بے حس قوم ، لاپرواہ افراد۔۔۔

تحریر: شاہد کاظمی دو موٹر سائیکل سوار منہ پہ نقاب۔۔۔ راہ گیر بیگ تھامے خراماں خراماں چلا جا رہا ہے۔ موٹر سائیکل رکتا ہے ایک شخص اترتا ہے بیگ والے سے ہاتھا پائی شروع ہو جاتی ہے۔ راہ گیر راہزنوں پہ کسی حد تک قابو پا لیتا ہے بیگ دوبارہ واپس چھین لیتا ہے۔ مگر…

Read More
 

لاج نہ آوے

پاکستان تحریک انصاف سے بھلا کوئی پوچھے کہ بھئی تم لوگوں کو کیا پڑی تھی جب ہم خوش ہیں کہ ہمارے پیسوں سے فلیٹس بنیں یا محل، فیکٹریاں بنیں یا ملیں تو تمہیں کیا پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ تم بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے جیسا رقص کرنا شروع کردو۔ عبداللہ تو چلو بیگانی…

Read More
 
 
 
 

مصنفین