Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

رافیل نڈال کا 21 واں گرینڈ ٹائٹل

SAMAA | - Posted: Feb 14, 2022 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 14, 2022 | Last Updated: 3 months ago

یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تین ماہ قبل بیساکھیوں پر چلنے والا ہسپانوی ٹینس لیجنڈ رافیل نڈال میلبورن پارک ایرینا میں نئے سال کا پہلا گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن جیت کر اپنے روایتی حریفوں راجر فیڈرر اور نواک جوکووچ سے آگے نکل جائے گا۔

آسٹریلین اوپن ٹینس چیمپئن شپ کے فائنل میں رافیل نڈال نے روس کے عالمی نمبر 2  ڈینیل میڈیڈیف کو پانچ سیٹ کے انتہائی سخت اور جاں گسل مقابلے میں شکست دی اور اب نڈال ٹینس کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے سب سے زیادہ 21  گرینڈ سلام اعزازت جیتنے والے کھلاڑی بن گئے ۔ سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر اور عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ  نے 20  ‘ 20  گرینڈ سلام اعزازات اپنے نام کیے ہیں۔

فائنل میں روسی کھلاڑی نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی دو سیٹ بآسانی جیت لیے تھے۔ اس مرحلے پر مقابلہ بالکل یکطرفہ نظر آ رہا تھا ۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ میڈیڈیف اپنے کیریئر کا دوسرا گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن رافیل نڈال نے اگلے تین سیٹ میں شاندار انداز میں کم بیک کرتے ہوئے جوغیر یقینی کھیل پش کیا وہ شائقین ٹینس کو طویل عرصے یاد رہے گا ۔ رافیل نڈال اسے اپنے ٹینس کیریئر کی تاریخی اور انتہائی غیر معمولی کارکردگی قرار دیتے ہیں۔

آسٹریلین اوپن سے قبل رافیل نڈال کی ٹورنامنٹ میں شرکت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کیونکہ وہ کئی ماہ تک فٹنس مسائل سے دوچار رہے اور انہوں نے زیادہ پریکٹس بھی نہیں کی تھی ۔ وہ آسٹریلین اوپن ٹائٹل کیلئے فیورٹ کھلاڑیوں میں شامل نہیں تھے۔ دفاعی چیمپئن نواک جوکووچ کو ٹورنامنٹ منتظمین نے کوویڈ ویکسین نیشن کروانے کی وضاحت نہ کرنے کے باوجود شرکت کی اجازت دے دی تھی حالانکہ آسٹریلیا میں آنے والوں کیلئے کوویڈ ویکسی نیشن کی لازمی شرط ہے۔

جوکووچ اپنے ٹائٹل کے دفاع کیلئے میلبورن پہنچ گئے تھے لیکن جوکووچ کو استثننیٰ دینے کے منتظمین کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا ۔ عدالت نے اس استثنٰی کو مسترد کرتے ہوئے جوکووچ کو فوری آسٹریلیا چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ ان حالات میں میڈیڈیف ‘ زیوریف ‘ برٹینی اور تسیسپاس کو آسٹریلین اوپن کا نیا چیمپئن خیال کیا جا رہا تھا لیکن ہسپانوی سپر اسٹار نڈال نے اپنے بے مثال کھیل کے ذریعے ناصرف شائقین ٹینس کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ ٹینس کی نئی تاریخ  بھی رقم کر دی۔ رافیل نڈال نے 21 واں گرینڈ سلام جیتنے کے بعد انتہائی جذباتی انداز میں اپنے والد سباسٹین کو گلے لگایا۔

آسٹریلین اوپن فائنل میں نڈال نے ایک دہائی قبل کھیلے گئے ومبلڈن اوپن فائنل کی یاد تازہ کردی جہاں انہوں نے پانچ سیٹ کے سخت مقابلے میں دفاعی چیمپئن راجر فیڈرر کو زیر کر کے ومبلڈن گراس کورٹ پر اپنا پہلا ٹائٹل جیتا تھا۔

آسٹریلین اوپن کے فائنل میں ڈینیل میڈیڈیف نے انتہائی جارحانہ انداز میں کھیل کا آغاز کیا اور اپنے حریف کو پہلے سیٹ میں جم کر کھیلنے کا کوئی موقع نہیں دیا ۔ انہوں نے تیزی کے ساتھ پہلا سیٹ 2-6  سے جیتا ۔ دوسرا سیٹ تاخیرسے شروع ہوا کیونکہ احتجاج کرنے والا ایک شخص سیکورٹی حصار توڑ کر کورٹ میں آگیا تھا ۔ دوسرے سیٹ میں نڈال نے ان فارم روسی کھلاڑی کے خلاف بھرپور مزاحمت کی مگر میڈیڈیف نے اعصاب پر کنٹرول رکھتے ہوئے دوسرا سیٹ بھی  6-7 سے جیت کر 2-0   سبقت حاصل کر لی تھی اور انہیں پہلی بار آسٹریلین اوپن اپنے نام کرنے کیلئے ایک سیٹ جیتنے کی ضرورت تھی لیکن اس کے بعد نڈال جو غیر معمولی کھیل پیش کیا جو نئی تاریخ رقم کرنے کا سبب بنا۔

رافیل نڈال پانچ سیٹ کے میچز کھیلنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ ان میں کم بیک کرنے کی صلاحیت دوسرے کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ پائی جاتی ہے اور وہ بڑے ایونٹس میں اس کا بارہا مظاہرہ کر چکے ہیں ۔ یہ حیران کن بات ہے کہ رافیل نڈال کو پیرس میں اپنی فیورٹ کلے کورٹ پر 13  فرنچ اوپن فائنل میچوں میں کبھی پانچ سیٹ کے مقابلے کا تجربہ نہیں ہوا۔

نڈال کے دو سیٹ سے خسارے میں جانے کی وجہ سے اس مرحلے پر فائنل یکطرفہ مقابلے کی طرف جاتا نظر آتا تھا لیکن اپنی شان دار مزاحمتی صلاحیت کی بدولت میچ میں کم بیک کیلئے شہرت رکھنے والے ہسپانوی لیجنڈ نڈال نے اپنے تجربے کا بھرپور استعمال کیا اور تیسرے سیٹ میں روسی حریف کے خلاف بہترین شاٹس کھیلتے ہوئے اسے دفاع پر مجبور کر دیا ۔

روسی کھلاڑی نے تیسرا سیٹ  بھی پہلی گیم جیت کر فاتحانہ انداز میں شروع کیا تھا۔  ایک مرحلے پر میڈیڈیف کو رافیل نڈال  پر 3-2 کی سبقت حاصل تھی  ۔ چھٹی گیم میں  روسی اسٹار کو تین بریک پوائنٹس ملے تھے لیکن نڈال نے کمال مہارت سے ان تین بریک پوائنٹس کو  بچایا اور  چھٹی گیم جیت کر  اسکور 3-3سے برابر کر دیا ۔ میڈیڈیف نے چوتھی گیم جیت کر پھر سبقت حاصل کی لیکن اس کے بعد پر عزم رافیل نڈال نے شان دار کم بیک کیا اور مسلسل تین  گیم جیت کر  6-4  سے سیٹ اپنے نام کر لیا۔

 رافیل نڈال نے چوتھے سیٹ میں بھی اپنے اٹیکنگ کھیل کا سلسلہ جاری رکھا اور یہ سیٹ بھی  4-6  سے جیت کر مقابلہ 2-2  سیٹ سے برابر کردیا۔

پانچویں اور فیصلہ کن سیٹ میں بھی میڈیڈیف نے پہلی گیم جیت کر اچھا آغاز کیا تھا لیکن اس سیٹ میں رافیل نڈال کی برق رفتار سروس گرائونڈ اسٹروکس بیک ہینڈ اور ڈراپ شاٹس کا روسی اسٹار کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ نڈال نے تیزی کے ساتھ 5-3 کی سبقت حاصل کر لی  لیکن ہمت نہ ہارنے والے میڈیڈیف نے مزید دو گیم جیت کر مقابلہ 5-5 سے برابر کر دیا ۔ 11  ویں گیم میں دونوں کھلاڑیوں نے برتری حاصل کرنے کیلئے لمبی ریلیاں کھیلیں اور خوبصورت کھیل سے شائقین سے داد وصول کی اور نڈال نے گیم جبت کر اسکور 6-5 کر دیا ۔

فیصلہ کن گیم میں ڈیٹنیل میڈیڈیف پر تھکن کے آثار نمایاں تھے اور اس گیم میں وہ ہسپانوی لیجنڈ کے جارحانہ کھیل کے سامنے مکمل بے بس نظر آئے اور انہوں نے غبر ادادی غلطیاں کیں ۔ وہ  ایسز کا  جواب نہیں دے پائے ۔ اس گیم میں  میڈیڈیف کوئی پورائنٹ حاصل نہیں کر پائے اور رافیل نڈال نے 136 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فاتحانہ بیک ہینڈ ونر لگا کر آسٹریلین اوپن ٹرافی اپنے نام کر لی ۔  نڈال 6-2,7-6(5),6-4,6-4,7-5  سے فتح یاب ہوئے ۔ اس طرح میڈیڈیف مسلسل دوسرے سال رنرز اپ رہے۔ گزشتہ سال وہ جوکووچ سے ہار گئے تھے۔

فائنل میچ 5 گھنٹے 24  منٹ تک جاری رہا جو آسٹریلین اوپن کی تاریخ کا دوسرا طویل ترین فائنل تھا ۔ اس سے قبل 2012  میں طویل ترین فائنل نڈال اور جوکووچ کے درمیان کھیلا گیا تھا جس کا دورانیہ  5  گھنٹے 53  منٹ تھا اس فائنل میں جوکووچ  فاتح تھے۔

 گزشتہ سال آسٹریلین اوپن کے کوارٹر فائنل میں رافیل نڈال کو یونانی کھلاڑی تیسیپاس نے غیرمعمولی کھیل پیبش کرتے ہوئے پانچ سیٹ میں شکست سے دو چار کیا تھا ۔ اس کوارٹر فائنل میں رافیل نڈال نے میڈیڈیف کی طرح  دو ابتدائی سیٹ جیت لیے تھے لیکن اس کے بعد وہ کھیل پر اپنا کنٹرول برقرار نہیں رکھ سکے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ آسٹریلین اوپن سے قبل ایڈیلیڈ اوپن میں کمر کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے تھے اور تیسسپاس کے خلاف کوارٹر فائنل میں بھی کمر درد کا شکار رہے تھے۔

رافیل نڈال نے اپنے کیریئر میں  29  گرینڈ سلام ٹورنامنٹس کے فائنل میں رسائی کی اور وہ 21  ٹائٹلز جیتنے میں کامیاب ہوئے ۔ صرف 8  فائنلز میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جن میں چار مرتبہ وہ آسٹریلین اوپن فائنلز‘ تین مرتبہ ومبلڈن اور ایک بار یو ایس اوپن فائنل میں شکست سے دوچار ہوئے۔

 رافیل نڈال کو آسٹریلین اوپن فائنل میں دو مرتبہ جوکووچ اور ایک ایک بار راجر فیڈرر اور سٹان واورنکا نے زیر کیا تھا ۔ ومبلڈن میں دو مرتبہ راجر فیڈرراور ایک بار جوکووچ نے انہیں شکست دی تھی ۔ یو ایس اوپن فائنل میں نڈال  کے مدمقابل جوکووچ فاتح تھے ۔ فرنچ اوپن فائنلز میں کلے کورٹ کنگ نڈال کو کوئی بھی کھلاڑی زیر نہیں کر پایا۔

 رافیل نڈال  2021  کے دوسرے حصے میں پائوں میں انجری اور دیگر فٹنس مسائل کی وجہ سے ٹینس کورٹ سے دور رہے ۔ اس دوران انہوں نے صرف دو میچ کھیلے ۔ انہوں نے ومبلڈن ٹوکیو اولمپکس‘ یو ایس اوپن سمیت کسی ایونٹ میں حصہ نہیں لیا تھا ۔  گزشتہ سال یہ خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ  پائوں کے زخموں کی وجہ سے رافیل نڈال کی کیریئر خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔  وہ دسمبر کے وسط میں کوویڈ 19 کا شکار بھی ہو گئے تھے ۔ ٹینس ٹور میں واپسی کے امکانات کے بارے میں  انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ طویل مشاورت کی تھی۔

 فائتنل میچ کے بعد ان کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے جس کی وجہ سے وہ تقریب تقسیم انعامات کے موقع پر کرسی پر بیٹھ گئے تھے۔ 2012  کے ومبلڈن اوپن میں بھی ان کی حالت ایسی ہی تھی ۔  فائنل کے بعد رافیل نڈال نے کہا کہ اتنے طویل اور سخت مقابلے نے مجھے جسمانی طور پر تباہ کردیا ۔  تھکن سے بدن ٹوٹ رہا ہے لیکن اس جیت کی خوشی ناقابل بیان ہے۔ یہ تاریخی کامبابی ہے جس  کے نتیجے میں میں اپنے دو روایتی حریف کھلاڑیوں فیڈرر اور نڈال پر سبقت لے گیا ہوں ۔

رافیل نڈال نے کہا کہ میں اگلے سال پھر میلبورن پارک آئوں گا ۔ یہ ہسپانوی کھلاڑی کے کیریئر کا دوسرا گرینڈ آسٹریلین اوپن ٹائٹل ہے۔ انہوں نے پہلا آسٹریلین اوپن ٹائٹل 2009  میں فائنل میں راجر فیڈرر کو پانچ سیٹ کے مقابلے میں شکست دے کر جیتا تھا ۔

 نڈال کا کہنا ہے کہ مجھے ریکارڈز کی پروا نہیں ۔ چھ ماہ سے زیادہ عرصے کورٹ سے باہر رہنے کے بعد گرینڈ سلام جیتنا میرے پورے کیریئر کا حیران کن لمحہ ہے  اور یہ میری زندگی کی سب سے بڑی فتح ہے۔  نڈال کیلئے 21  واں ٹائٹل انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

 رافیل نڈال کے کوچ اورسابق ٹینس اسٹار کارلوس مویا  نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ نڈال مزید گرینڈ سلام ٹورنامنٹس جیت سکتے ہیں ۔ آسٹریلین اوپن میں کامیابی کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یہ یقیناً نڈال کا آخری گرینڈ سلام ٹائٹل نہیں ہے ۔ میں رفا کا جانتا ہوں وہ ایک فائٹر ہے اور مشکل صورت حال کو اپنے حق میں کرنے کی ہنر سے بخوبی آگاہ ہے۔ وہ ماضی میں کئی باراس کا ثبوت دے چکا ہے۔ اس نے ٹینس کی تاریخ میں جو کارکردگی پیش کی ہے اس سے دنیا واقف ہے۔

سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر نے کہا کہ فائنل میں نڈال نے غیرمعمولی کھیل پیش کیا ۔ کچھ ماہ قبل ہم دونوں بیساکھیوں کے سہارے پر چل رہے تھے ۔ فائنل میں اس نے دو سیٹ سے پیچھے ہونے کے باوجود جو کارکردگی دکھائی وہ برسوں یاد رکھی جائے گی۔ ہم دونوں نے گزشتہ نصف سال میں بڑے مشکل لمحات گزارے ہیں۔ میں بھی ٹینس ٹور میں جلد واپس آ رہا ہوں۔

عالمی نمبرایک نواک جوکووچ نے بھی نڈال کی قتح کو حیرت انگیز اور متاثر کن قرار دیا ۔ سرب لیجنڈ نے نڈال کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ  ہسپانوی لیجنڈ میں آخری دم تک لڑنے کا جذبہ ہے جو انہیں دیگر کھلاڑیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں فیڈرر اور نڈال کے عہد میں کھیل رہا ہوں جو ایک اعزاز ہے ۔

 ڈینیل میڈیڈیف بھی رافیل نڈال کی صلاحیتوں کے گرویدہ ہیں ۔ کچھ عرصے قبل ایک پروگرام میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ اگر وہ ایک صحرائی آئی لینڈ میں پھنسے ہوں تو اس وقت کس کھلاڑکواپنے ساتھ چاہیں گے جس پر میڈیڈیف نے جواب دیا کہ وہ رافیل نڈال کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے ۔ میں ایک ایسے  کھلاڑی کو ساتھ لے جانا چاہوں گا جو زندہ رہنے میں میری مدد کر سکے ‘کھانا پکا سکے اور اس کیلئے مجھے ذہنی طور پر ایک مضبوط شخص کی ضرورت ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں نڈال سے بہتر کوئی  اور شخص نہیں ہو گا ۔  کیونکہ وہ ہر قسم کے حالات کا نا صرف مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور حالات کو اپنے حق مں کرنے کا گر جانتا ہے ۔  مجھے یقین نہیں کہ وہاں وہ میرے ساتھ خوش ہوگا لیکن میرے لیے اس کا ساتھ یقیناً باعث مسرت ہوگا ۔ جاپانی ٹینس اسٹار کائی نیشکوری اور یانک سنر نے بھی  ان صلاحیتوں کی وجہ سے رافیل نڈال کو اپنے ساتھ  لے جانے کیلئے منتخب کیا تھا۔

رافیل نڈال کی نظریں اب  پیرس کی فیورٹ کلے کورٹ  پر کھلے جانے والے  سال رواں کے دوسرے گرینڈ سلام فرنچ اوپن پر مرکوز ہیں جس میں دفاعی چیمپئن نواک جوکووچ ہیں جنہوں نے گزشتہ سال نڈال کو سیمی فائنل میں چار سیٹ کے مقابلے میں شکست دی تھی۔

ہسپانوی لیجنڈ نڈال کو امید ہے کہ وہ ایک بار پھر رولینڈ گروس کی سرخ کلے کورٹ پر ہونے والے اس ایونٹ میں ٹرافی کو اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ فرنچ حکام نے جوکووچ کو ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے گرین سگنل دے دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جب ٹورنامنٹ شروع ہو گا تو اس وقت کیا صورت حال ہوگی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube