Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

پب جی،پنجاب پولیس کاپابندی کیلئے حکومت سے رابطے کا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Jan 28, 2022 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Jan 28, 2022 | Last Updated: 4 months ago
[caption id="attachment_2511227" align="alignleft" width="800"] ویڈیو گیم کا عکس[/caption]

پنجاب پولیس نے آن لائن ویڈیو کھیل پب جی پب جی‘ یعنی ’پلیئر ان نونز بیٹل گراونڈز پر پابندی لگانے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت سے سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق کاہنہ لاہور میں والدہ اور تین بچوں کے قتل اسی آن لائن گیم پب جی کی وجہ سے ہوا ہے، قاتل بیٹا پب جی گیم کا عادی تھا۔ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔

ملزم کی گرفتاری کیلئے سی سی پی او لاہور نے ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو فوری اقدامات کا حکم دیا تھا۔ ملزم کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ چھپا بیٹھا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق18 سالہ علی زین پب جی گیم کا عادی تھا۔

ترجمان پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ملزم نے گھر میں موجود والدہ کی گن سے ماں، بہنوں اور بھائی کو قتل کیا۔ خونی کھیل کو انجام دینے کے بعد قاتل ٹاسک مکمل ہونے کے نشہ میں گھر کے نچلے حصہ میں آ کر سو گیا تھا۔ علی زین کو مقتولین کی تدفین کے بعد سے حقیقی خالہ نے فیصل آباد کے قریب گاؤں میں چھپا کر رکھا تھا۔

پولیس تحفظ کی یقین دہانی کے باوجود علی زین منظر سے غائب تھا، جس کے بعد پولیس نے ماہمونوالی گاؤں سے ملزم کو تلاش کیا۔ دوران تفتیش علی زین نے اعتراف کیا کہ پب جی گیم میں بار بار شکست کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوا۔ ملزم نے یہ سوچ کر گولیاں چلائیں کہ گیم کی طرح سب دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔

قتل کی اس وادارت میں ملزم کے بیان کی روشنی میں پنجاب پولیس نے پب جی گیم کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کیلئے صوبائی و وفاقی حکومت سے سفارش کا فیصلہ پولیس کا اپنی سفارش میں کہنا ہے کہ پب جی گیم سے ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی روک تھام کیلئے اسے بند کرنا ضروری ہے۔

اس موقع پر والدین سے اپیل کرتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ پب جی گیم کے عادی نوجوان اپنا ٹاسک مکمل کرنے کیلئے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ والدین سے اپیل ہے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، ایسی منفی سرگرمیاں ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ آن لائن ویڈیو گیم پب جی چین کی کمپنی ٹینسنٹ کی جانب سے بنایا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی صارفین کا تجزیہ کرنے والی ٹیکنالوجی فرم سینسر ٹاور میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2021 میں پب جی دنیا میں سب سے زیادہ آمدن کرنے والے گیمز میں سر فہرست رہا ہے۔

گزشتہ ماہ اس گیم پر مجموعی طور پر 244 مین ڈالر خرچ کیے گئے، جو کہ گزشتہ سال میں اس مدت میں خرچ کی جانے والی رقم سے 36 اعشاریہ 6 فیصد زائد ہے۔ پب جی نے سب سے زیادہ ریونیو68 اعشاریہ 3 فیصد چین سے حاصل کیا۔ پب جی کا 6 اعشاریہ 8 فیصد ریونیو امریکا اور ساڑھے 5 فیصد ریونیو ترکی سے حاصل ہوا۔

دسمبر 2021 میں موبائل ویڈیو گیمز پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے کھلاڑیوں میں امریکی سرفہرست رہے، امریکییوں نے اس عرصے میں 2 ارب 20 کروڈ ڈالر پب جی پر خرچ کیے جو کہ دنیا بھر میں خرچ کی جانے والی رقم کا 29 اعشاریہ 6 فیصد بنتا ہے۔

https://ichef.bbci.co.uk/news/800/cpsprodpb/1375A/production/_113060797_gettyimages-1188740510.jpg.webp

عدالتی پابندی

قبل ازیں سال 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جولائی میں ویڈیو گیم ’پب جی‘ یعنی ’پلیئر ان نونز بیٹل گراونڈز‘ پر لگائی گئی پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے یہ فیصلہ پاکستان میں پب جی گیم کو کنٹرول کرنے والی کمپنی کی درخواست پر سنایا تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یکم جولائی کو پی ٹی اے نے عارضی طور پر ویڈیو گیم پب جی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔

پی ٹی اے

پی ٹی اے کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ معاشرے کے مختلف طبقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد اس ویڈیو گیم کو عارضی طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان شکایات میں کہا گیا تھا کہ 'یہ گیم لت کا باعث، وقت کا ضیاع ہے اور اس سے بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پی ٹی اے کے بیان کے مطابق ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس میں یہ کہا گیا تھا کہ اس گیم کی وجہ سے ’خود کشیوں‘ کے واقعات پیش آئے ہیں۔

گیم پر پابندی عائد ہونے سے چند روز قبل لاہور پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ صوبائی دارالحکومت میں دو نوجوانوں نے ویڈیو گیم 'پب جی' کھیلنے سے منع کرنے پر خود کشی کر لی تھی۔ تاہم اس گیم پر پابندی لگنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر متعدد مرتبہ ایسے ٹرینڈ چلے جن میں صارفین کی جانب سے پب جی سے پابندی ہٹانے کی گزارش کی جاتی رہی تھی۔

پب جی گیم میں آخر ہے کیا

یہ گیم ایک مشن کے تحت کھیلی جاتی ہے جس میں دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے اور اس کے لیے بندقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

گیم اکیلے بھی کھیل سکتے ہیں اور ایک سے زائد لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے دفاع کے لیے ہمیں دشمن کو مار کر گیم جیتنا ہوتا ہے۔‘

کمپیوٹر پر یہ گیم کھیلتے ہیں اور یہ گیم آن لائن چل رہی ہوتی ہے اس لیے اس دوران آپ اس گیم کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ

کھانا کھانے جا رہے یا کسی بھی کام کے لیے اٹھیں گے تو دوسری پارٹی آپ کو مار دے گی۔‘

صارف نے مزید بتایا کہ اس گیم کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جو کمپیوٹر پر کھیلی جاتی ہے اور دوسری وہ جو موبائل پر لوگ کھیلتے ہیں۔

موبائل پر کھیلی جانے والی پب جی گیم میں آپ کے پاس بہت سی آپشنز ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کپڑے اور اپنا اسلحہ بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

دنیا بھر میں اس گیم کے منفی اثرات کی شکایات آنے بعد گیم میں ایک اور فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس کی مدد سے بتایا جاتا ہے کہ آپ کا اسکرین ٹائم بہت زیادہ ہو گیا ہے اس لیے اب گیم کو بند کر دیں۔ لیکن یہ اب یہ کھیلنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے وقت پر بند کرتا ہے یا پھر کھیلتا رہتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube