Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

ایم کیو ایم ریلی پر پولیس کا تشدد،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا

SAMAA | - Posted: Jan 27, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 27, 2022 | Last Updated: 4 months ago

وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں بدھ 26 جنوری کو ایم کیو ایم ریلی پر پولیس کے بدترین تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ، چيف سيکریٹری اور آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے ايم کيو ايم کے پرامن احتجاج پر سندھ پوليس کے تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ، چيف سيکریٹری اور آئی جی سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف ضروری کارروائی کریں گے۔ ايم کيو ايم کے پرامن مظاہرين بلدياتی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں ایم کیو ایم پاکستان نے ریلی پر پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ پر آج بروز جمعرات 27 جنوری کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم سے کراچی کا دورہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

کراچی میں بدھ 26 جنوری کو پریس کانفرنس سے خطاب میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی پر پولیس کے تشدد، شیلنگ اور لاٹھی چارج کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ، وزراء کی تنخواہیں اور جو شیل ہم پر چلائے گئے وہ بھی ہمارے پیسوں سے لئے جاتے ہیں، کئی خواتین لاپتا ہیں، جنہیں سفید ویگو گاڑیوں میں لے جایا گیا، اگر وہ چند گھنٹوں واپس نہ آئیں تو ہم ہر طرح کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گے۔

انہوں نے جمعرات کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تم نے شہر کے منہ پر کالک ملنے کی کوشش کی ہے، یہ سیاہی تمہارے چہروں پر مل دی جائے گی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صاحب ہم پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ پاکستان توڑنے والوں کے ساتھ ہیں یا اسے بچانے والوں کے ساتھ، کراچی آپ کا انتظار کررہا ہے، آپ کو یہاں آنا چاہئے اور قانون و آئین کے تحت وزیراعلیٰ کیخلاف کارروائی کی جانی چاہئے، جس کے دروازے پر ہماری ماؤں بہنوں پر ڈنڈے برسائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ استعفیٰ دیں ورنہ ان کیلئے اس شہر کے دروازے بند کردیئے جائیں گے، اس صوبے کا آئی جی سندھو دیش کا کمشنر نظر آتا ہے، آئی جی اور ڈی آئی جی کو سندھ حکومت کے ذریعے معطل کرایا جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو کراچی کے شہری اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گے، آج حجت تمام ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں وزیراعلیٰ ہاوس کے باہر ایم کیوایم کا دھرنا،پولیس کی شیلنگ

کنوینر ایم کیو ایم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ رکن سندھ اسمبلی صداقت حسین کے ساتھ جو کیا گیا اس کا حساب لیاجائے گا، ایم پی اے صداقت حسین اور دیگر خواتین و کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے تاجروں، صنعتکاروں، دکانداروں، وکلاء، مزدوروں، طالبعلموں اور ملازمین و سول سوسائٹی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس شہر کی غیرت کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کریں، پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر ان کو للکارا ہے جو انہیں کئی بات گھر بھیج چکے ہیں۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورت حال کی وجہ سے احتیاط کر رہے تھے، ہمیں پتہ ہے کہ جمہوریت ہمارے فیصلوں کے نتیجے میں موجود رہے گی، ہم جمہوریت کو پاکستان کا واحد راستہ سجھتے ہیں، اس طرح کے واقعات پر پاکستان کا آئین و قانون جو فیصلہ کرتا ہے وہ اب آجانا چاہئے۔

ایم کیو ایم رہنماء نے کل دوبارہ وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں، سوچیں کہ آپ نے کیا کیا ہے، آج ہم نے صرف مار کھائی ہے، کسی کو مارا نہیں، ہم لڑنا نہیں چاہتے لیکن لڑنا جانتے ہیں، بات غیرت پر آجائے تو نہ لڑنا بے غیرتی ہے۔

ویڈیو: رکن سندھ اسمبلی صداقت حسین زخمی حالت میں بھی گرفتار

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعلیٰ سندھ کو نسل پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون ہماری مدد کو نہیں آئے گا تو کیا ہم قانون اپنے ہاتھ میں لیں، قانون نافذ کرنیوالوں کا انتظار کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہماری ماؤں بہنوں کے ساتھ ہوا کیا اس پر سوگ بھی نہ منائیں، ٹنڈوالیہار میں جو خون بہایا گیا وہ ابھی خشک نہیں ہوا، تم نے آج اس شہر میں مزید خون بہادیا، اب تمہاری باری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی ریلی پر کراچی میں پولیس کی جانب سے شیلنگ اور لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایم کیو ایم کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے پرُامن احتجاج پر سندھ حکومت کی غنڈہ گردی کی مذمت کرتے ہیں۔

اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی سندھ کی لیڈرشپ اس واقعے کا بغور جائزہ لے رہی ہے، ہماری تمام حمایت ایم کیو ایم کے ساتھ ہے۔

عشرت العباد خان

کراچی میں بدھ کی شام پیدا ہونے والی صورت حال اور وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے باہر ایم کیو ایم کی ریلی کے دوران پولیس کی جانب سے کی گئی شیلنگ کے خلاف سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد بھی بول پڑے۔ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کنوینر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی، سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان کو ٹیلی فون کر کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ کراچی میں ہونے والی ایم کیو ایم کے کارکنان اور خصوصاً خواتین، بچوں پر لاٹھی چارج، شیلنگ قابل مذمت عمل ہے۔

سابق گورنر نے وزیراعلیٰ سندھ سے ہوئی گفتگو سے بھی خالد مقبول صدیقی اور عامر خان کو آگاہ کیا۔

عشرت العباد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سے پُرامن احتجاج سے مس ہینڈل کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے متعلق بات کی، وزیر اعلیٰ سندھ کو معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی درخواست کی ہے۔

علی زیدی

وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ علی زیدی نے ایم کیو ایم کے گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ علی زیدی نے سربراہ ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کیا، جس میں انہوں نے ایم کیو ایم کے احتجاج پر پولیس کے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی مذمت کی۔

وفاقی وزیر نے متحدہ کے گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ علی زیدی نے کہا کہ سلطنتِ زرداریہ میں احتجاج کرنے والوں کو زدوکوب کیا جاتا ہے۔ سندھ میں جنگل کا قانون ہے۔ مراد علی شاہ اور صوبائی وزراء کو شرم آنی چاہیے۔ یہ فرعون بنے ہوئے ہیں۔

علی زیدی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں، پیپلز پارٹی کی جانب سے حالات جان بوجھ کر خراب کیے گئے، پیپلز پارٹی کرکٹ کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا نوٹس

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کی ریلی پر سندھ پولیس کے لاٹھی چارج کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے چیف سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube