Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

مہنگائی میں اضافےسے گروتھ ریٹ میں کمی آئی، شوکت ترین

SAMAA | - Posted: Jan 26, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 26, 2022 | Last Updated: 4 months ago

وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے گروتھ ریٹ 2 سے 2.5 فیصد کم ہوا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا 2018 میں حکومت کو چار بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، پہلا بحران 20ارب کرنٹ اکاونٹ خسارے تھا، دوسرا بحران کوویڈ 19کا تھا، تیسرا بحران کموڈٹی پرائس منیجمنٹ کا تھا اور چوتھا بحران افغانستان کے حوالے سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ایک بہت بڑا فیصلہ لیا جسے پوری دنیا اپنا رہی ہے اور وہ یہ کہ مکمل لاک ڈاون نافذ نہیں کیا جائے گا اور کہا کہ کاروبار چلتے رہیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے 3 کام اور کیے، جس میں برآمدات بڑھانے کے لیے سبسڈی دیتے رہے خصوصی طور پر ٹیکسٹائل میں، دوسرا زراعت میں پیسے ڈالے کیونکہ پاکستان فوڈ کے خسارے والا ملک بن گیا تھا۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہم گندم اور چینی برآمد کر رہے تھے جس میں انہوں نے پیسے ڈالے اور تیسرا کنسٹرکشن انڈسٹری کو بھی بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تین سے چار بڑی درآمدات میں جن کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں 85 سے 90 فیصد بڑھی ہیں، پہلے ہمارا خیال تھا کہ درآمدات کا حجم بڑھ گیا ہے لیکن ایسا نہیں تھا، عالمی مارکیٹ میں آئل کی قیمت، کوئلہ، اسٹیل اور دالوں کی قیمتیں بڑھی ہیں اور کئی اشیاء کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ جنوری کے شروع میں، خام تیل کی قیمت 82 ڈالر تھی جو بڑھ کر 87 ڈالر تک جا پہنچی ہے، ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ہے کیونکہ پاکستان ان اشیاء کو درآمد کرتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا ہے لیکن ہماری برآمدات تقریبا 25 سے 29 فیصد بڑھی ہے، ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہوا ہے اسکے علاوہ آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے ملکی معیشت کو بڑی حد تک سہارا ملا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک نے اشیاء پاکستان سے لینا شروع کر دی ہیں کیونکہ اُنہیں کہیں اور سے نہیں مل رہیں، ہماری مارکیٹ سے ڈالر لینا شروع کیے اور اُسی کے ذریعے درآمدات اور برآمدات کرنا شروع کر دی کیونکہ وہ ہمارے ہمسائے ہیں تو ہمیں اُن سے ہمدردی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ان سے کہا کہ آپ ہم سے اشیاء روپے میں خریدے تاکہ ہمارے روپے پر دباؤ کم پڑے، افغانستان کئی اشیاء ازبکستان سے لیتا تھا لیکن وہاں بھی گندم سمیت دیگر چیزوں کی قلت ہے۔

ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ڈالر کے استحکام کے لیے مہنگائی کو کنٹرول کرنا ضروری ہے، تجارتی خسارہ کم ہونے سے معاملات میں مزید بہتری آئے گی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 40 ارب کی درآمدات میں کمی آنا شروع ہوئی ہے، اب ہمیں درآمدات اور برآمدات کا گیپ ختم کرنا ہے لہذا ہمارا زیادہ توجہ آئی ٹی پر ہے اور اس پر کافی کام بھی ہو رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube