Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

پنجاب کےہرخاندان کےپاس10لاکھ روپےکا ہيلتھ کارڈہوگا،عمران خان

SAMAA | - Posted: Jan 26, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 26, 2022 | Last Updated: 4 months ago

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب کے ہر خاندان کے پاس10 لاکھ روپے کا ہيلتھ کارڈ ہوگا۔

اسلام آباد میں قومی صحت کارڈ کی تقریب اجرا سے خطاب کرتے ہوئے وزيراعظم عمران خان نے کہا کہ جن صوبوں کی سب سے زيادہ آبادی ہے ان  ميں ايک پنجاب بھی ہے،ہیلتھ کارڈ کے اجرا پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار،ہيلتھ ٹيم اور وفاقی وزارت صحت کو خراج تحسين پيش کرتاہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں دیکھا گیا کہ آہستہ آہستہ اميروں کيلئے نجی اسپتال ہوگئے اور غريبوں کيلئے سرکاری اسپتال رہ گئے جن کا معيار گرتاگيا اور ملک میں امير اور غريب ميں فرق بڑھتا گيا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اب کوئی بھی غريب سرکاری اسپتال ميں مفت علاج کروا سکتا ہے اورہمارا صحت کارڈ آگے نکل گيا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ماضی کےحکمران يہ سوچتے رہے کہ پہلےملک ميں خوشحالی آئے گی، اس کے بعد فلاحی رياست کا سوچيں گے۔انھوں نے کہا کہ رياست مدينہ ميں پہلے فلاحی رياست قائم کی گئی لیکن ہمارے ہاں کسی نے فلاحی رياست کا سوچا ہی نہيں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست مدینہ میں کمزور طبقے کے لیے ریاست سے ذمہ داری لی اور قانون کی حکمرانی قائم کی۔ ان بنیادوں پر مدینہ کی ریاست قائم تھی تاہم پاکستان میں ایسا نہ ہوسکا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومی صحت کارڈ ملک میں عظمت کا راستہ ہے۔ اس پروگرام میں 450 ارب روپے خرچ کئےجارہے ہیں اور اس سے پہلے کسی فلاحی پروگرام کےلیے اتنی رقم نہیں خرچ کی گئی۔

قومی صحت کارڈ کیا ہے؟

قومی صحت کارڈ حکومتِ پاکستان کا ایسا اقدام ہے جو کم آمدنی والے افراد کو مفت صحت کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ یہ کارڈ اِس وقت خیبر پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ میں تھرپارکر کے شہریوں کیلئے صحت سہولت پروگرام کے تحت فراہم کیا جا رہا ہے۔

شہری بنیادی صحت کی مختلف سہولیات یا حادثے اور طبی ایمرجنسی کی صورت میں قومی صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کروا سکتے ہیں۔

اِس کےعلاوہ شہری ذیابیطس، گردوں کی بیماریوں، ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی، امراض قلب اور ہر طرح کے کینسر کی صورت میں علاج کی مفت سہولیات حاصل کرسکتے ہیں۔ اِس کےعلاوہ قومی صحت کارڈ کرونا وائرس کے علاج کے لئے بھی اِستعمال کیا جا سکتا ہے۔

قومی صحت کارڈ کے لئے کون اہل ہے؟

قومی صحت کارڈ کے لئے وہ تمام پاکستانی شہری اہل ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور جن کی روزانہ کی آمدن تقریباً 340 روپے سے بھی کم ہے۔ یہ کارڈ اِس وقت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام / کفالت پروگرام میں شامل افراد کو فراہم کئےجا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا، بشمول سابقہ فاٹا سے ضم ہوئے اضلاع کے تمام رہائشی اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے واے افراد جن کا نادرا کے ریکارڈ کے مطابق مستقل پتہ خیبر پختونخوا، پنجاب یا آزاد کشمیر کا ہے، آمدنی کی حیثیت سے قطع نظر قومی صحت کارڈ کے تحت دیئے جانے والی سہولیات کے اہل ہیں۔

پنجاب کے لئے صحت کارڈ کی اہلیت: اِس وقت ساہیوال اور ڈی جی خان کے 7 اضلاع اور لاہور ڈویژن کی آبادی صحت کارڈ کے لئے اہل ہے، جب کہ باقی 29 اضلاع میں غریب لوگ (بی آئی ایس پی/احساس کفالت پروگرام سروے کے مطابق)، معذور افراد اور خواجہ سرا کمیونٹی جو نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، اہل ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے 31 مارچ تک اِس پروگرام میں پنجاب کے تمام شہریوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

علاج کے لئے مختص کی گئی رقم کی حد کیا ہے؟

صحت کارڈ ہولڈر سالانہ 720,000 روپے تک کا علاج کروا سکتا/سکتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر اِس رقم میں مزید اضافہ کیا جاِسکتا ہے۔ اگر کارڈ ہولڈر یا اِس کے اہل خانہ کو کسی بڑی بیماری کا سامنا ہو تو، انشورنس کی رقم ختم ہونے کی وجہ سے اِس علاج کو بند نہیں کیا جائے گا، کیونکہ حکومت ہر سال فی خاندان مزید 360,000 روپے فراہم کرتی ہے۔

اگر علاج کے دوران مریض وفات پا جائے تو تدفین کے لئے اہل خانہ کو 10,000 روپے فراہم کئے جاتے ہیں۔

مفت علاج کی سہولیات

قومی صحت کارڈ مفت طبی سہولیات مہیا کرتا ہے جس میں سے کچھ درج ذیل شامل ہیں۔

اسپتال میں بخار، فلو جیسی عام بیماریوں کے مفت علاج تک رسائی

حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کے لئے علاج

ذیابیطس، امراض قلب، ٹی بی، ہیپاٹائٹس، کینسر، جیسے امراض کا مفت علاج

کرونا وائرس میں مبتلا لوگوں کیلئے علاج

حاملہ خواتین کے لئے صحت کی سہولیات

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
Imran Khan,Health Card,Health program,Health facilities in Pakistan,ہیلتھ کارڈ،ہیلتھ پروگرام،قومی صحت کارڈ،پاکستان میں صحت کی سہولیات
 
 
Facebook Twitter Youtube