Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے لانگ مارچ کیلئے تاریخ فائنل

SAMAA | - Posted: Jan 25, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 25, 2022 | Last Updated: 4 months ago

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے مہنگائی مارچ کی تاریخ فائنل کردی، اپوزیشن جماعتیں 23 مارچ کو حکومت کیخلاف میدان میں نکلیں گی۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کو کامیاب کرکے حکمرانوں سے نجات پائیں گے، پاکستان کی خودمختاری اور اپنی آزادی کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کیخلاف مہنگائی لانگ مارچ 23 مارچ کو ہی کرنے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 23 مارچ کو مہنگائی مارچ ہوگا، لانگ مارچ کو کامیاب کرکے حکمرانوں سے نجات پائیں گے، پی ڈی ایم نے منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، اسٹیٹ بینک سے متعلق بل کو بھی مسترد کرتے ہیں، پاکستان کی خود مختاری ختم ہورہی ہے، اپنی آزادی کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے بھنور میں پھنسادیا گیا ہے جس سے نکلنے کے دور دور تک آثار نظر نہیں آرہے، بڑے بڑے محلات اور دیواروں کے پیچھے حکمرانوں کو عوام کی چیخیں سنائی نہیں دے رہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو نااہل اور ان کی پارٹی کو کالعدم قرار دیا جائے، یہ پورا ٹبر کرپٹ ہے، یہ پوری جماعت کرپٹ ہے، اس کی تخلیق کرپشن سے ہوئی ہے، ناجائز وسائل نے انہیں جنم دیا ہے، کسی اور قوت سے بننے والی جماعت عوام کی نمائندہ نہیں کہلاتی، ایسے حکمرانوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرپشن میں 117 سے 140 پر چلاگیا، انہوں نے ہر سیاستدان پر کرپشن کے الزامات لگائے، ہر سیاستدان کو چور چور کہا، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ان کی مصنوعی ایمانداری کا آئنہ انہیں دکھا دیا۔

مقتدر حلقوں میں صدارتی نظام کی بازگشت پر پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ ملک میں ایک خلائی تجویز گردش کررہی ہے، صدارتی طرز حکومت پاکستان میں ہمیشہ آمریت کا دوسرا نام رہا ہے، پارلیمانی طرز حکومت کا خاتمہ درحقیقت آئین کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنے کی کوشش ہے، جس سے یہ ایک سازش لگتی ہے کہ کس طرح آئین کا خاتمہ کیا جائے، لٰہذا اس ناپاک خواہش کو پورا نہیں ہونے دیں گے، ملک کی بقا کی جنگ لڑی ہے، آئین کے تحفظ کیلئے بھی جنگ جاری رکھیں گے، صدارتی طرز حکومت پاکستان میں سیاہ تاریخ رکھتا ہے، کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔

انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بارے میں پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ ای وی ایم کو پہلے بھی مسترد کرچکے ہیں، یہ غیر آئینی ہے، دنیا میں اس کا تجربہ ناکام ہوگیا اسے ہم پر مسلط کیا جارہا ہے، یہ آر ٹی ایس کا دوسرا نام ہے۔

مزید جانیے: پی ڈیم ایم کا اجلاس، اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات منظور

ملک میں کھاد کی قلت پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کھاد کی قلت پہلی مرتبہ اس حکومت میں دیکھی جارہی ہے، کسان کی آواز ہر فورم پر اٹھائیں گے، 23 مارچ کو مہنگائی اور لانگ مارچ میں بھی کسانوں کا بھرپور حصہ ہوگا، انہیں اپنی جدوجہد میں شریک رکھیں گے۔

پی ڈی ایم سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کی معدنیات پر وہاں کے عوام کا حق تسلیم کرتے ہیں، ریکوڈک اور جزائر پر بلوچستان کے عوام کا حق تسلیم کیا جائے، سندھ کے جزائر پر بھی صوبے کا حق تسلیم کیا جائے، ریکوڈک کے خفیہ معاہدوں سے متعلق جو باتیں گردش کررہی ہیں اسے سامنے لایا جائے، یہی باتیں محرومیوں کو جنم دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو باقی رکھنا ہے تو قومی اتحاد کی ضرورت ہے، قومی وحدت اسی وقت ممکن ہے جب ہر طبقہ، علاقے، قومیت اور برادری کے حقوق کا تحفظ کرکے محرومی کے احساس کو دور کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube