Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

سندھ: ایک سال کے دوران 52بچوں کی ایمبولینس میں پیدائش

SAMAA | - Posted: Jan 25, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 25, 2022 | Last Updated: 4 months ago

سندھ ریسکیو اینڈ میڈیکل سروسز کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال ایک لاکھ 52 ہزار 778 افراد کو ہنگامی امداد فرہم کی گئی جبکہ 52 بچوں کی ایمبولینسز میں پیدائش ہوئی۔ یہ سروس کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ اور سجاول میں خدمات فراہم کرتی ہے۔

سندھ ریسکیو اینڈ میڈیکل سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق کمانڈ اینڈ کنٹرول کو گزشتہ سال 4 لاکھ 36 ہزار 265 فون کالز موصول ہوئیں، جن میں سے ایک لاکھ 52 ہزار 778 فون کالز پر جدید ایمبولینسز اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے ہنگامی امداد فراہم کی گئی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ موصول ہونے والی فون کالز کے ذریعے 6 ہزار 733 افراد کو سڑک کنارے سے اسپتال منتقل کیا گیا، روڈ ٹریفک ایکسیڈنٹ کے 4 ہزار 78 زخمیوں کو اسپتال لے جایا گیا۔

سندھ ریسکیو اینڈ میڈیکل سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد نوید کے مطابق 5 ہزار 341 مریضوں کو گھر سے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 76 ہزار 928 مریضوں کو ڈاکٹروں کے مشورے اور تیمار داروں کی خواہش پر ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا۔

کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی تربیت یافتہ ٹیم نے گھروں پر بذریعہ فون رہنمائی کرتے ہوئے ایک ہزار 725 مریضوں کو سی پی آر فراہم کیا، ایک ہزار 851 مریضوں کو اسپتال منتقلی کے دوران ایمبولینسز میں پیرامیڈیکس نے سی پی آر فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وباء کے دوران ایمبولینسز میں 30 ہزار 524 تصدیق شدہ اور مشتبہ مریضوں کو کرونا مراکز منتقل کیا گیا۔

عابد نوید نے بتایا کہ حاملہ خواتین نے اسپتال منتقلی کے دوران ایمبولینسز میں 52 بچوں کو بھی جنم دیا، جنہیں عملے نے ہیلتھ کیئر سروسز پہنچائیں، بچوں کی پیدائش کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ اور سجاول میں ہوئیں۔ ان کے مطابق عملے کو موصول ہونے والی 7 ہزار 452 فون کالز مختلف انکوائریز اور صحت سے متعلق مشورے کیلئے موصول ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں 2009ء سے اب تک ایمبولینس میں پیدا ہونیوالے بچوں کی تعداد 189 ہے جبکہ ٹھٹھہ اور سجاول میں گزشتہ 4 سال کے دوران 329 بچے ایمبولینسز میں پیدا ہوئے جس کی بنیادی وجہ لوگوں میں آگہی کی کمی ہے۔

اس حوالے سے وقار آرائیں جو سندھ ریسکیو سروسز پٹھورو اسٹیشن سے منسلک ہیں، نے بتایا کہ گاڑیوں میں جتنے بھی زچگی کے کیسز ہوئے وہ انتہائی کریٹیکلز تھے، لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کی پیدائش گھروں پر ہی ہوجائے جو آگہی کی کمی کی وجہ سے ہے کیونکہ ہم نے بچوں کے کچھ کیسز میں نومولود بچوں اور ماں کو گھروں سے بھی اٹھایا ہے اور اسپتال منتقل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بھی کیسز ہیں جن میں خواتین کو ہم نے گھر سے اٹھایا تو انہیں درد زہ (پریگننسی پین) شروع ہوچکا تھا اور ایسے کیسز میں اسپتال جاتے ہوئے پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں اور ہمارے پاس پھر یہی راستہ بچتا ہے کہ زندگی بچائی جائے، ایسے میں جو بھی اٹینڈنٹ ساتھ ہوتا ہے ان سے اجازت لی جاتی ہے، زندگی بچانے کیلئے واحد ذریعہ یہی ہوتا ہے کہ گاڑی ہی میں زچگی کروائی جائے یا ہم اٹینڈٹ کو طریقہ بتاتے جاتے ہیں، جسے فالو کرکے  بچے کی ڈیلیوری کریں۔

وقار آرائیں کا مزید کہنا تھا کہ بچے کی ڈیلیوری کے بعد ہم کارٹ کلینزنگ سے لے کر بچے کی سکشننگ اور بچے کی باڈی کی وارمنگ تک سب کرتے ہیں، اس کے بعد بچے کو محفوظ طریقے سے اسپتال منتقل کردیتے ہیں۔

مزید جانیے: ٹریفک جام، روزانہ دل کے50مریض راستے میں دم توڑجاتے ہیں

ان کا کہنا تھاکہ 1123 پر ہمیں ایک لاکھ 59 ہزار 666 فون کالز موصول ہوئیں جبکہ فالو اپس کیلئے ایک لاکھ 29 ہزار 118 فون کالز بھی کی گئیں، ایک لاکھ 9 ہزار 607 فون کالز کرونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے بھی موصول ہوئیں۔

عابد نوید نے بتایا کہ کراچی میں کسی بھی طبی ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس کیلئے 1021 اور ٹھٹھہ، سجاول اور حیدرآباد کے اضلاع کیلئے 1036 پر کالز موصول ہوئیں، صحت سے متعلق عمومی مشورے کیلئے 1123 پر  فون کال موصول ہوئیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم کراچی میں 60 ایمبولینسز جبکہ حیدرآباد، سجاول اور ٹھٹہ کیلئے 25 ایمبولینسز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہے ہیں، ہماری ایمبولینسز اور ٹیلی ہیلتھ کا عملہ 24 گھنٹے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube