Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

مہنگائی میں کمی، شرح سود 9.75فیصدپر برقرار رکھنے کا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Jan 24, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 24, 2022 | Last Updated: 4 months ago
[caption id="attachment_2084251" align="alignnone" width="800"] فوٹو: اے ایف پی[/caption]

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اگلے دو ماہ کیلئے شرح سود 9.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شرح سود ہماری معیشت کیلئے مناسب  ہے اس لئے اگلے دو ماہ کیلئے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اُن کے مطابق 14 دسمبر 2021 کے اجلاس کے بعد سے کئی پیش رفتوں سے پتہ چلتا ہے کہ طلب میں اعتدال لانے کے ان اقدامات میں کامیابی ہورہی ہے اور انہوں نے مہنگائی کے منظر نامے کو بہتر کیا ہے۔

  اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہب اگرچہ سال بسال عمومی مہنگائی بلند ہے اور امکان ہے کہ مستقبل  میں بھی توانائی کی قیمتوں کی وجہ سے بلند رہے گی تاہم مہنگائی کی رفتار نومبر میں 3 فیصد کے نمایاں اضافے کے مقابلے میں دسمبر میں ماہانہ بنیاد پر کم ہوگئی ہے۔

مالی سال 2022 کی پہلی ششماہی کے دوران جار ی کھاتے کا خسارہ 9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان ادارہ شماریات کے ڈیٹا کے مطابق درآمدات بڑھ کر 40.6 ارب ڈالر ہوگئی، یعنی 66 فیصد (سال بسال) اضافہ ہوا، اور اس اضافے میں نصف سے زائد حصہ توانائی کی درآمدات اور کووڈ ویکسین کا تھا۔ تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ توانائی اور ویکسین کے اخراجات کو الگ رکھ کر دیکھا جائے تو گذشتہ دو ماہ میں درآمدات مستحکم ہوئی ہیں۔

رضا باقر کا کہنا تھا کہ دسمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.93 ارب ڈالر رہا اور آنے والے کچھ مہینوں میں خسارہ مزید کم ہوسکتا ہے۔جولائی تا دسمبر ملک ميں افراط زرکی شرح 9.38 فيصد رہی، حکومت مہنگائی کم کرنے اور معاشی شرح نمو کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ فنانس سپلیمنٹری بل کی وجہ سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کو بالکل نہیں کہا کہ حکومت کوقرضےدینےمیں احتیاط کریں، حکومت کےمالی خسارہ پوراکرنےکیلئےبینکوں سے لیے گئے قرض کابڑاحصہ ہے تاہم نئےفائنانس بل کی منظوری سےمالی خسارہ کم ہوگاتوحکومت کوکم قرضےلینےپڑیں گے۔

واضح رہے جمعے کے روز مالیاتی ماہرین کی توقع تھی کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی یا اس میں اضافہ ہوسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی افراط زر کے باعث شرح سود میں کمی کا امکان بہت کم ہے۔

اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2021-22 کے پہلے چھ مہینوں کے لیے ایک سخت مانیٹری پالیسی پر عمل کیا ہے، جولائی سے دسمبر تک شرح سود کو 275 پوائنٹس یا 2.75 فیصد تک بڑھایا گیا تھا۔

  اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 14 دسمبر کو ہونے والی مانیٹری پالیسی اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی افراط زر کی پیشن گوئی کے بعد شرح سود میں 100 بی پی ایس یا 1 فیصد اضافہ کر کے 9.75 فیصد کر دی تھی۔

شرح سود میں اضافہ عوام کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

 شرح سود میں اضافے سے کاروبار اور صارفین دونوں متاثر ہوں گے۔ کیونکہ اس سے تجارتی قرضے مہنگے ہوجائیں گے جس سے کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ جب شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو کاروباری افراد  کم قرض لیتے ہیں، ناکافی فنڈز کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں جس سے بالاخر روزگار کے مواقع بھی کم میسر ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ جو صارفین بینک سے قسطوں پر گاڑیاں خریدتے ہیں اُنہیں شرح سود میں اضافہ ہوجانے کے باعث قرضے مہنگے ملتے ہیں جس سے اُن کی قوت خرید متاثر ہوگی اور ملک میں گاڑیوں کی فروخت میں کمی آسکتی ہے۔

مرکزی بینک کا کردار شرح سود کو اس سطح پر برقرار رکھنا ہے جو مہنگائی کو قابو میں رکھے اور معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر نہ کرے۔ زیادہ شرح سود قرضوں کو مہنگا بناتی ہے۔ کاروبار، جو بینک فنانسنگ پر انحصار کرتے ہیں، نئے منصوبے روک دیتے ہیں، حکومت ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں کمی کرتی ہے، اور صارفین آٹو فنانس، ہوم لون استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہاں تک کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال بھی کم کر دیتے ہیں۔ مختصراً، زیادہ شرح سود معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔

دوسری طرف شرح سود میں کمی سے صارفین اور کاروباری افراد مزید قرض لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قومی سطح پر کھپت اور مانگ میں اضافہ ہوتا ہے، اس سے اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
Monetary Policy, Interest Rate, شرح سود، مانیٹری پالیسی
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube