Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

پاکستان کے 90فیصد طلبہ ریاضی اورسائنس میں انتہائی کمزور، تحقیق

SAMAA | - Posted: Jan 22, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 22, 2022 | Last Updated: 4 months ago

پاکستان میں 90 فیصد سے زائد طلبہ ریاضی اور سائنس میں انتہائی کمزور ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ سائنس اور ریاضی کی تعلیم پر پریکٹیشنرز اور پالیسی سازوں کی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ (آئی ای ڈی) کی ایک ملک گیر تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد سے زیادہ پرائمری اور سیکنڈری کلاسوں کے طلبہ ریاضی اور سائنس کے مضامین میں کمزور ہیں، انہیں مزید سیکھنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 153 سرکاری اور نجی اسکولوں میں پانچویں، چھٹی اور آٹھویں جماعت کے 15 ہزار سے زیادہ طلبہ تحقیق کا حصہ بنے، جنہوں نے ریاضی اور سائنس میں ایک معیار پر بنے ٹیسٹ مکمل کئے، طلبہ کا ریاضی میں اوسط اسکور 100 میں سے 27 فیصد جبکہ سائنس میں 100 میں سے 34 فیصد تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس تحقیق کی مالی معاونت پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کی تھی، تمام ٹیسٹس پاکستان کے نصاب سے ہم آہنگ تھے اور گزشتہ مطالعے کے ذریعے ملک میں استعمال کیلئے موزوں قرار دیئے گئے تھے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دونوں مضامین میں صرف ایک فیصد طلبہ نے 80 سے زیادہ نمبرز حاصل کئے، لڑکیوں نے سائنس میں لڑکوں کو تھوڑا سا پیچھے چھوڑ دیا اور ریاضی میں لڑکوں کے برابر رہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق نجی اسکولوں میں اوسط اسکور سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں زیادہ تھا، پنجاب میں اوسط اسکور ملک کے دیگر علاقوں میں سب سے زیادہ تھا لیکن کسی بھی موضوع میں 40 سے زیادہ نہیں تھا۔

اس مطالعے میں مجموعی طور پر 78 سرکاری اور 75 نجی اسکولوں نے حصہ لیا، 80 فیصد طلبہ کے والدین ہائی اسکول سرٹیفکیٹ یا اس سے کم تعلیم یافتہ تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آٹھویں جماعت کے 20 طلبہ میں سے صرف ایک طالب علم اس سوال کا صحیح جواب دے سکا، ’ایک کلاس میں 30 طالب علم ہوتے ہیں۔ کلاس میں لڑکوں اور لڑکیوں کا تناسب 2:3 ہے۔ کلاس میں کتنے لڑکے ہیں؟‘۔

اس تحقیقاتی مطالعے کی شریک محقق اسسٹنٹ پروفیسر نصرت فاطمہ رضوی کا کہنا ہے کہ سائنس اور ریاضی کی تعلیم پر پریکٹیشنرز اور پالیسی سازوں کی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ طلبہ میں نئے اساتذہ کے مقابلے میں تجربہ کار اساتذہ سے سیکھنے کا رحجان کم تھا، طلبہ ڈگری حاصل کرنیوالے اساتذہ سے سیکھنے کا رحجان بھی کم رکھتے تھے، بہ نسبت ان اساتذہ کے جن کے پاس تعلیم کی ڈگری نہیں تھی۔

رپورٹ کے مطابق محققین نے ان کی تعلیم کے معیار کا جائزہ لینے کیلئے 589 اساتذہ کے کلاس رومز کا دورہ کیا، 10 میں سے تقریباً 9 کی تدریسی مشقوں کو کمزور اور تقریباً 10 میں سے ایک کو اوسط درجے میں کا قرار دیا گیا، کسی بھی استاد نے ایسا مظاہرہ نہیں کیا، جس کو محققین اچھی تدریسی مشق قرار دیں۔

تحقیق کی پرنسپل انویسٹی گیٹر ایسوسی ایٹ پروفیسر سعدیہ بھٹہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اساتذہ کمرہ جماعت میں طلبہ کو سوالات پوچھنے یا بنیادی خیال سمجھنے کیلئے سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کے بجائے نصابی کتاب پڑھنے اور سمجھانے میں وقت لگاتے ہیں۔

محققین نے اساتذہ کا انٹرویو بھی کیا تاکہ انہیں درپیش مسائل کو سمجھا جاسکے۔ مباحثوں سے اساتذہ کو پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی اشد ضرورت کا انکشاف ہوا تاکہ وہ اپنے موضوع کے علم اور اپنی تدریس پر غور کرنے کی صلاحیت دونوں کو بہتر بنا سکیں۔

مطالعے کے قابل ذکر نتائج میں یہ بھی شامل تھا کہ یک لسانی کلاس رومز کے طلبہ، جہاں نصابی کتاب، تدریس اور امتحانات سب ایک زبان میں تھے، نے کثیر لسانی کلاس رومز میں موجود طلبہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

آئی ای ڈی کی ڈاکٹر سعدیہ مظفر بھٹہ، ڈاکٹر نصرت فاطمہ رضوی، سہیل احمد، خدیجہ ندیم، نورین عمران، سبینہ خان اور میمونہ خان اس تحقیقی ٹیم کا حصہ تھیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube