Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

کیا قانون سب کے لیے برابر؟

SAMAA | - Posted: Jan 22, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 22, 2022 | Last Updated: 4 months ago

Supreme Court

پاکستان میں قتل کے جرم کے لیے 2 قسم کی سزائیں ہیں،دیت اور قصاص۔ عام الفاظ میں دیت وہ ہوتی ہے جس میں مجرم اپنے جرم کے بدلے متاثرہ شخص یا خاندان کو مالی معاوضہ ادا کرے۔ لیکن اگر وہ متاثرہ شخص یا خاندان مالی معاوضے پر راضی نہیں تو اس صورت میں مجرم پر تعزیرات پاکستان کے تحت دوسری سزا یعنی قصاص کا نفاذ کیا جاتا ہے۔

یہ دونوں سزائیں اسلامی شریعت کے مطابق ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ دیت کے باوجود بھی اگرریاست مدعی بنتی ہے تو مجرم کو بالکل سزا ہوسکتی ہے اور وہ متاثرہ خاندان کی معافی کے باوجود بھی گرفت میں آسکتا ہےاوراپنے کیئے کی سزا کاٹ سکتا ہے تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثراوقات متاثرہ شخص یا لواحقین کی معافی کی صورت میں مجرم کوبغیر کسی سزا کے باعزت بری کردیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم اسلام اورشریعت کی بات کرتے ہیں اوراسلامی اورشرعی سزاؤں کی بات کرتے ہیں۔اسلام تو یہ بھی کہتا ہے کہ سر کے بدلےسر، ہاتھ کے بدلے ہاتھ  اور اگر شریعت کے مطابق ہی سزائیں دینی ہیں تو سر قلم کریں،ہاتھ کاٹیں،سرعام لٹکائیں۔ تاہم اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے توکہا جاتا ہے اس سے معاشرے میں تشدد پھیلے گا لیکن جہاں مجرم قتل کرکے بھی باعزت طریقے سے زندگی گزارے اور اپنے جرم کی سزا کاٹے بغیر آزاد پھرے تو کبھی سوچا ہے کہ وہ کس قدراطمینان سے رہتا ہوگا کہ کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتا اور یہ غرور اورتکبر نہ جانے مزید کتنی جانیں لے گا۔

ہم نے اپنے قانون میں صرف امیر اور طاقتور کے لیے راستے چھوڑے ہیں اور اس کا فائدہ صرف مخصوص طبقہ اٹھا سکتا ہے۔گناہ کرنے والا طاقتور ہے کیا وہ متاثرہ خاندان کو دباؤ میں نہیں لاسکتا اورکیا دھمکیاں نہیں دی جاسکتیں؟ کسی دباؤمیں صلح کے لیے راضی ہوئے؟کیوں امیر،بااثرطاقتورہی ہمیشہ دیت کا استعمال کرتا ہے اورکیوں کوئی غریب اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا؟ کیوں متاثرین عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں کہ اگر راضی نامہ نہ کیا تو کیا  نقصان پہنچایا جاسکتا ہے بلکہ الٹا یہ کہا جاتا ہے اور متاثرین کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہاں کا عدالتی نظام تو آپ کو پتہ ہے کہ کچھ وقت بعد مجرم باہر نکلے گا تو نقصان پہنچائے گا،یہ ہمارے نظام پر زوردارطمانچے ہیں جس کی گونج نہ کوئی سن سکا نہ کوئی سنناچاہتا ہے۔

تمام قوانین کے نفاذ کے لیے متعلقہ افراد اورحکام کا اپنا کردارادا کرنا نہایت ہی ضروری ہوتا ہے کیونکہ کوئی بھی قانون خود سےغلط استعمال نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھےکچھ ہاتھ ہوتے ہیں جواس قانون کوغلط طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ایسےمیں کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں،اگر مقتول کے ورثا دباؤ اور خوف کی وجہ سے دیت پر راضی ہوتے اور بھری عدالت میں مجرم کو معاف کردیتےہیں تو ورثا اور گواہان کا تحفظ کس کی ذمہ داری تھی؟

اگراس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے توآخراس غفلت کا زمہ دار کون ہے؟ ریاست کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ اس حوالے سے قانون سازی کتنی ضروری ہے؟ کیا ریاست کا صرف فریق بننا کافی ہے اوراب ان تمام پہلوؤں پرسوچنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔قانون سب کے لیے برابرہونا چاہیے اورجب بات انصاف کی آجاتی ہے توکوئی امیروغریب کی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔جومعاشرہ صرف امیرکوفائدہ دے،وہ زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے اور ناانصافی بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔

اس سے محفوظ رہنےکےلیےحکومت نے ملک کی 70سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اس نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا اوریہ ایک خوش آئند بات ہے۔وقت کےساتھ فوجداری نظام ميں انتہائی اہم تبديلياں نہ ہونے کی وجہ سے ملک ميں امير اور غريب کيلئے قانون ميں فرق بڑھتا گيا۔ نئے قانون کے مطابق ایف آئی آر کی ڈیجٹلائزیشن،ٹرائل کے طریقہ کار، اپیل، الیکٹرانک وڈیجیٹل ذرائع سے شواہد اکٹھا کرنے، فوجداری نظام میں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ جدید آلات کا استعمال، وڈیو کو شواہد کے طور پر استعمال کرنا شامل ہیں۔ خواتین کا تحفظ، ملک بھر میں ایس ایچ اوز،سب انسپکٹرز کے لیے گریجویشن کی ڈگری لازمی قراردے دی گئی ہے۔ ایف آئی آر درج نہ کرنے پرایس پی کو درخواست دی جا سکے گی اورایس پی عمل درآمد کا پابند ہوگا،9 ماہ میں مقدمات کا فیصلہ لازمی قرار دیا گیا ہےورنہ متعلقہ ججز ہائیکورٹ کوجواب دہ ہوں گے اور9 ماہ میں ٹرائل مکمل نہ کرنے پر ججز کے خلاف ہائیکورٹ انضباطی کارروائی کرے گا۔

اس کےعلاوہ قتل، ریپ، دہشت گردی،غداری اورسنگین مقدمات میں پلی بارگین نہیں ہوگی۔ موبائل فوٹیجز،تصاویر، آوازریکارڈنگزکوبطورشہادت قبول کیا جا سکے گااور ماڈرن ڈیوائسز کو بھی بطورشہادت قبول کیا جا سکے گا جبکہ فرانزک لیبارٹری سے ٹیسٹ کی سہولت دی جائے گی۔

یہ تمام اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اپوزیشن بار بارعوام کی بات کرتی ہے اوراگروہ واقعی احساس رکھتی ہے تو اس قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دے۔ سیاست کو کنارے پر رکھ کر پاکستان کے قانون کو مضبوط کریں۔

ارم زعیم نیوز اینکر اور بلاگر ہیں۔ وہ سیاست،عالمی امور اورکھیلوں پرگہری نظررکھتی ہیں۔ان سے درج ذیل ٹوئٹرہینڈل  پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

@Erummkhan

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube