Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

کیا شرح سود میں مزید اضافہ ہوگا؟

SAMAA | - Posted: Jan 21, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 21, 2022 | Last Updated: 4 months ago
[caption id="attachment_2465387" align="alignnone" width="768"] فائل فوٹو[/caption]

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر 24دسمبر کو ہوگا جس میں آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے شرح سود کا تعین کیا جائے گا۔بیشتر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود برقرار رہے گا یا مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے لیکن مہنگائی کی بلند شرح کو دیکھتے ہوئے شرح سود میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

واضح رہے کہ رواں مالی سال کے پہلے ششماہی جولائی تا دسمبر کے دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی سخت رکھنے کی پالیسی رکھی گئی جس کے نتیجے میں شرح سود میں 275 بیسس پوائنٹس یعنی 2.75فیصد اضافہ کیا گیا اور شرح سود 9.75فیصد کی سطح پر موجود ہے۔

ٹاپ لائن سیکورٹیز کی جانب سے اس حوالے سے ایک سروے کیا گیا ہے جس میں مالیاتی شعبے سے منسلک 84  افرد نے حصہ لیا۔ سروے نتائج کے مطابق 60فیصد سروے شرکاء کا خیال ہے کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور 9.75فیصد کی شرح برقرار رکھی جائے گی جب کہ 40فیصد کے مطابق شرح سود مزید بڑھایا جائے گا جس میں 18فیصد شرکاء 25بیسس پوائنٹس اضافے کا خیال ظاہر کررہے ہیں جب کہ 12فیصد شرکاء کے مطابق 50بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوگا۔

سروے میں ایک سوال بھی کیا گیا ہے کہ 24جنوری کے بعد کے مانیٹری اجلاسوں میں شرح سود کا کیا رجحان متوقع ہے؟اس سوال کے جواب میں 84فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ24جنوری کے بعدکے رواں مالی سال کے بقیہ مانیٹری پالیسی اجلاسوں میں شرح سود بڑھایا جائے گا جب کہ16فیصد کا خیال ہے کہ رواں مالی سال کے آخر تک شرح سود برقرار رکھی جائے گی۔

اسی طرح عارف حبیب سیکورٹیز کی جانب سے بھی سروے کیا گیا ہے جس میں بینک اور مالیاتی اداروں سے متعلق افراد سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں متوقع فیصلے کے حوالے سے پوچھا گیا ہے جس کے جواب میں 71فیصد شرکا ء کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور 21فیصد افراد کا خیال ہے کہ شرح سود میں 50بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے جب کہ 5فیصد افراد کا خیال ہے کہ 75بیسس پوائنٹس اور 3فیصد افراد کا خیال ہے کہ ایک فیصد شرح سود بڑھائی جائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube