Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

رانا شمیم نےاسلام آباد کورٹ کی ساکھ متاثرکرنیکی کوشش کی،شاہ محمود

SAMAA | - Posted: Jan 21, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 21, 2022 | Last Updated: 4 months ago

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے توہین عدالت کرکے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی۔

قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدلیہ آزاد نہیں ہوگی تو جمہوریت کا تحفظ نہیں ہوسکتا، تنقید برائے تنقید سے ملک میں مایوسی پھیلتی ہے، سال 2018 میں جب حکومت سنبھالی تو معیشت کی حالت بری تھی، اب معاشی صورت حال بہترہو رہی ہے جس کے اثرات نظرآ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق اپوزیشن ہمارا چیلنج نہیں، مہنگائی ہے، ہم نے گزشتہ برسوں میں مشکل فیصلے کیے، کڑوی گولی کھائی، اب ہم استحکام سے ریکوری کی جانب بڑھ رہے ہیں، یہ کہہ دینا کہ جو خرابی ہے وہ ایک نااہل معیشت کی وجہ سے ہے، حقائق کے برعکس ہے، ہماری معیشت اب مشکل صورتِ حال سے بہتری کی جانب گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن 100جتن کر لے ہمیں ذرا بھی گھبراہٹ نہیں ،خوب جانتاہوں ان کی صفوں میں کھلبلی کیوں ہے۔5فیصد گروتھ کی بات آتی ہے تو اپوزیشن کو سانپ سونگھ جاتا ہے، کرونا کے باوجود معیشت 5.3فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے، اکانومسٹ اور بلوم برگ جیسے ادارے ملکی معیشت کی بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خارجہ پالیسی کی ڈائریکشن تبدیل ہو رہی ہے۔ ہمارا چیلنج اپوزیشن نہیں مہنگائی ہے۔ شہباز شریف کے خدمت میں ایک خط لکھا ہے،دوسرا خط بلاول صاحب کے نام بھیجا ہے۔ یوریا کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

رانا شمیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلف نامے میں بتایا گیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ماتحت ججز کو احکامات جاری کیے، 3 سال پہلے واقعہ ہوتا ہے اور 3 سال تک کوئی بات، کوئی اظہار نہیں ہوتا، ایک آڈیو ٹیپ کئی دن میڈیا کی زینت اور موضوعِ بحث بنی، جب اس کا فرانزک کیا گیا تو وہ جعلی ثابت ہوئی۔ 3 سال بعد یہ معاملہ سامنے آتا ہے، حلف نامہ آتا ہے اور اسٹوری بریک ہوتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حیرانی ہے کہ جس جج پر یہ الزام لگایا گیا وہ اس بینچ کے ممبر ہی نہیں ہیں، اس سے اس کی صداقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، یہ بھی واضح ہوا کہ کس شہر میں کس کے سامنے یہ حلف نامہ ہوا، ہم سب کو اپنے ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف سب عدلیہ کی آزادی کے دعوے دار ہیں، مگر ہم کہتے کچھ اور کرتے کیا ہیں؟۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم سب کو اپنے ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے، ہمارے قول و فعل میں تصادم ہے، سپریم کورٹ پر حملے ہوئے، جسٹس قیوم سے فیصلے لینے کی کوشش کی گئی مگر وہ سب فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ رانا شمیم کا معاملہ فی الحال زیرِ سماعت ہے، اس پر مزید بات نہیں کر سکتا، اس سب کا ہم سب کو نوٹس لینا چاہیے، یہ خطرناک معاملہ ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہم اپوزیشن کی تنقید سے مثبت پہلو لیتے ہیں مگر تنقید برائے تنقید درست نہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مایوسی مت پھیلائیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube