Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

کئی طاقتیں پاکستان میں دہشتگردی کرانا چاہتی ہیں،شیخ رشید

SAMAA | - Posted: Jan 21, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 21, 2022 | Last Updated: 4 months ago

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پاکستان استحکام کی طرف جا رہا ہے، مگر کئی طاقتیں ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں۔

سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ دنیا میں کسی ملک نے اس طرح سے دہشتگردوں کو شکست نہیں دی جیسے پاکستان نے دی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ یہ نہیں بتانا چاہتا کہ دہشت گرد کہاں رکے اور انہوں نے کہاں کھانا کھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردی کے واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں، اس سال کا پہلا دہشت گردی کا واقعہ اسلام آباد میں ہوا، جہاں 2 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ مارے جانے والے دونوں دہشت گردوں کے پاس سے 6 فون نکلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کر رہے ہیں اور اسلام آباد دہشت گردی واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ 18 جنوری کو ہمارے پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے اور دہشت گردوں سے مقابلے میں کالعدم تنظیم کے 2 دہشت گرد مارے گئے تھے جن کی ہلاکت کو کالعدم تنظیم نے قبول کیا۔

سرحد پر باڑ لگانے سے متعلق وفاقی وزیر نے بتایا کہ افغان سرحد پر 2600 کلومیٹر پر باڑ لگانے کا عمل مکمل ہوچکا ہے، جب کہ 20 کلو میٹر کی فینسنگ باقی ہے، وہ جلد مکمل ہو جائے گی، جب کہ ایرانی بارڈر پر بھی فینسنگ مکمل کریں گے۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو اتنی سیکیورٹی دی جتنی ان کی فوج نہیں ہے، ملک میں کرکٹ کو تمام سیکیورٹی دی جارہی ہے۔

حزب اختلاف پر تنقید کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حزب اختلاف شوق سے اسلام آباد دھرنے کے لیے آئے کیونکہ یہ بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں اور لانگ مارچ کے لیے ہمیں کمربستہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ فضل الرحمان شوق سے بلاول بھٹو کے ساتھ لانگ مارچ اسلام آباد لائیں۔

اس دوران سینیٹ میں حزب اختلاف نے شور شرابہ شروع کر دیا جس پر شیخ رشید خاموش ہو گئے اور کہا کہ پہلے آپ بول لیں پھر میں بات کر لوں گا۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے بعد ہم اسپتال خون دینے گئے تھے لیکن ہمارے ذمہ داران کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، کیا خون دینا جرم ہے؟

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے مولانا عبدالغفور حیدری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں پنجاب حکومت سے پوچھتا ہوں واقعہ کیا ہوا ؟ لیکن خون دینا اور خبر بنانے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر صرف خون دینے کی بات تھی تو اس کا ازالہ ہو گا۔

رضا ربانی

قبل ازیں سینیٹ اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت شروع ہوا تو اراکین کی جانب سے وزیر داخلہ کی غیر حاضری پر اعتراض کیا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ وزیر داخلہ کو ایوان میں بلایا جائے، اسلام آباد اور لاہور میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی پالیسی غلط تھی، ملک پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور وارداتیں بڑھ رہی ہیں۔

گیلانی

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ہمیں دہشت گردی کے واقعات پر تشویش ہے، دہشت گردی واقعات بڑھ رہے ہیں، فوجی بھائی بھی محفوظ نہیں، سیکیورٹی اہلکار بھی محفوظ نہیں رہے۔

کامران مرتضٰی نے کہا کہ سیکیورٹی کو ٹھیک نہ کیا گیا تو روز واقعات ہوں گے۔ حکمراں جماعت کے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ہماری حکومت اس حوالے سے جواب دہ ہے، وزیر داخلہ کو پس منظر کی وضاحت کرنی چاہیے، ایوان کو بتایا جائے سیکیورٹی ایجنسیز کیا کردار ادا کر رہی ہیں۔ عوام اور ہاؤس کو اعتماد میں لیا جائے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وزیر داخلہ کو طویل عرصے سے ایوان میں نہیں دیکھا۔ اس موقع پر دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق افراد کیلئے دعا بھی کی گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube