Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

اسٹیٹ بینک نےکاروبار اور قرضوں کے حصول میں آسانی کردی

SAMAA | - Posted: Jan 20, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 20, 2022 | Last Updated: 4 months ago
[caption id="attachment_2084251" align="alignnone" width="800"]state-bank-of-pakistan-afp-1 فوٹو: اے ایف پی[/caption]

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے برآمد کنندہ کے لیے ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت بینکوں کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے ری فنانس کے حصول کے عمل کو ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔

ڈیجیٹائزڈ طریقہ کار کے تحت کسی برآمد کنندہ کی رقم کی حد کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ایک دفتر سے کسی دوسرے دفتر کو بھجوانے کی ضرورت نہیں رہے گی جس سے ای ایف ایس کیسز کی پراسیسنگ تیزی سے ہو سکے گی اور ای ایف ایس کے تحت قرضے کی سہولت لینے والے بینکوں اور برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا۔

مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ ری فنانس کے عمل کی ڈیجیٹائزیشن سے عملی کارکردگی بڑھانے کے لیے مؤثر طور پر ٹیکنالوجی کا استعمال ہوسکے گا۔ اب ای ایف ایس سے متعلق کیسز اور دیگر متعلقہ اعدادوشمار بینک برقی طریقے سے اسٹیٹ بینک کو ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے جمع کرائیں گے تاکہ ان پر برق رفتاری سے ضوابطی فیصلے کیے جا سکیں۔

تاہم ابتدا میں ای ایف ایس کیسز کا ڈجیٹائزڈ عمل موجودہ دستی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ کچھ عرصہ چلے گا، اس کے بعد بینکوں کی جانب سے کاغذی کارروائی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی اور صرف الیکٹرانک طریقہ استعمال ہوگا۔

آن لائن پلیٹ فارم سے بینکوں کو حقیقی وقت میں اسٹیٹ بینک کو جمع کرائے گئے ای ایف ایس سے متعلقہ کیسز کے بارے میں تازہ ترین صورت حال کا ٹریک رکھنے میں مدد ملے گی۔

مزید برآں بینک اپ ڈیٹڈ صورت حال کی سسٹم سے شائع کردہ رپورٹیں نکال سکیں گے تاکہ انہیں صارفین کو دے سکیں۔

ڈیجیٹائزیشن پر عمل درآمد سے اسٹیٹ بینک بعض آپریشنز بینکوں کے حوالے کر سکے گا جس میں بینکوں کی طرف سے ای ایف ایس کی حد کو اپنی ضروریات کے مطابق ذیلی طور پر مختص کرنا ہے۔

مرکزی بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ ای ایف ایس کے وظائف کی ڈیجیٹائزیشن سے وسائل کا تحفظ ہوگا اور کاموں کی تکمیل میں لگنے والا وقت کم ہونے سے عملی کارکردگی بڑھے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube