Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

رانا شمیم پر فرد جرم عائد کردی گئی

SAMAA | - Posted: Jan 20, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 20, 2022 | Last Updated: 4 months ago

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں رانا شمیم پر فرد جرم عائد کردی ہے، جب کہ صحافیوں کے خلاف کارروائی مؤخر کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 20 جنوری بروز جمعرات انگریزی روزنامے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے الزامات پر سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

پراسکیوٹر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود، عدالتی معاونین ناصر زیدی، فیصل صدیقی اور ریما عمر جب کہ رانا شمیم، دی نیوز کے ایڈیٹر انچیف اور ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس اطہر من اللہ نے فریقین سے کہا کہ عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کا حکم پہلے دیا تھا اس لیے پہلے چارج فریم کریں گے پھر آپ کو سنیں گے۔

دورانِ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ سے جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر نے استدعا کی کہ صحافیوں کی حد تک فردِ جرم کی کارروائی مؤخر کی جائے، ایسا کرنا اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کی رائے کے مطابق ہے، آپ نے جو محتاط رویے کی بات کی تھی اس کو بھی مستقبل میں دیکھا جائے گا۔

پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ بھی روسٹرم پر آ گئے جنہوں نے کہا کہ ہم زیرِسماعت کیسز پر رپورٹنگ اور تبصرے سے متعلق میٹنگز کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت لائسنس نہیں دے سکتی کہ کوئی بھی اس طرح عدالت کی بے توقیری کرے، آپ کو احساس تک نہیں کہ زیرِ سماعت کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی، یہ عدالت اوپن احتساب پر یقین رکھتی ہے اور اسے ویلکم کرتی ہے، جولائی 2018ء سے لے کر آج تک وہ آرڈر ہوا ہے جس پر یہ بیانیہ فٹ آتا ہو؟ ایک اخبار کے ایک آرٹیکل کا تعلق ثاقب نثار سے نہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا اٹارنی جنرل صاحب، بتائیں فرد جرم کی کارروائی کیسے آگے بڑھائیں، رانا شمیم کے بیان حلفی میں سنگین الزامات عائد کیے گئے، ہمیں کچھ نہیں چھپانا، نہ چھپائیں گے، جولائی 2018ء سے آج تک بتائیں کون سا حکم کس کی ہدایت پر جاری ہوا ؟ اس عدالت کی بہت بے توقیری ہوگئی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اس عدالت کے حوالے سے ہی تمام بیانیے بنائے گئے، آئینی عدالت کے ساتھ بہت مذاق ہوگیا، کسی بھی سائل کو بے توقیری کا ایک بھی موقع نہیں دے سکتے، آپ کو احساس تک نہیں کہ زیر سماعت کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی، یہ عدالت اوپن احتساب پر یقین رکھتی ہے، ایک اخبار کے آرٹیکل کا تعلق ثاقب نثار سے نہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ہے، لوگوں کو بتایا گیا کہ اس عدالت کے ججز کمپرومائزڈ ہیں، ایک کیس دو دن بعد سماعت کے لیے فکس تھا، جب اسٹوری شائع کی گئی۔

سینیر صحافی ناصر زیدی نے کہا کہ مجھے بھی کچھ کہنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے کہا کہ آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا ثانوی کردار ہے، کل کو کوئی بھی تھرڈ پارٹی ایک کاغذ دے گی اور اس کو آپ چھاپ دیں گے تو کیا ہو گا؟ اتنا بڑا اخبار کہے کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی قانونی رائے نہیں لی تو پھر یہ زیادتی ہو گی، انصار عباسی کو میں 20 سال سے جانتا ہوں، ان کی انٹیگریٹی پر کوئی شک نہیں۔

ناصر زیدی نے کہا کہ ہم نے میٹنگز کی ہیں اور کورٹ رپورٹنگ سے متعلق کوڈ آف کنڈکٹ بنا رہے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ لوگوں کے ہاتھوں میں بھی کھیلا جاتا رہا ہے، میرا کنسرن صرف اپنی عدالت سے ہے، بیانِ حلفی کا لبِ لباب یہ ہے کہ یہ کورٹ کمپرومائزڈ تھی، اتنا ہائی پروفائل کیس سماعت کے لیے مقرر تھا، یہ سمجھا جائے گا کہ اخبار کو اس سے متعلق علم تھا۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ آج پہلی بار میڈیا کی طرف سے اظہارِ ندامت ہوا ہے، رانا شمیم کے ساتھ میڈیا پرسنز کو بھی فیئر ٹرائل کا مکمل حق ہے، میری استدعا ہے کہ توہینِ عدالت کی کارروائی ختم نہیں بھی کرنی تو میڈیا کی حد تک مؤخر کی جائے، میری مؤدبانہ درخواست ہو گی کہ رانا شمیم پر فردِ جرم عائد اور باقیوں کی مؤخر کی جائے۔

عدالت نے کہا کہ اگر کوئی غلطی تھی تو ہمیں بتا دیں، ہم بھی اس پر ایکشن لیں گے، کل کو کوئی بھی تھرڈ پارٹی ایک کاغذ دے گی اور اس کو ہم چھاپ دیں گے تو کیا ہو گا ؟ اخبار کہے کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی قانونی رائے نہیں لی تو پھر یہ زیادتی ہوگی۔

اس موقع پر عدالت نے سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان پر  فرد جرم عائد کی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم پر عائد الزامات پڑھ کر سنائے۔

گزشتہ کارروائی

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کے حلف نامے سے متعلق توہین عدالت کی کارروائی میں صحافیوں کو بری کرنے کے بارے میں عدالتی معاونین کی رائے کو عملی طور پر مسترد کر تے ہوئے رانا محمد شمیم سمیت تمام فریقین پر 20 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 7 جنوری کی عدالتی کارروائی کا حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’سیکریٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ناصر زیدی، سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی اور ریما عمر سمیت تین عدالتی معاونین نے کیس میں معاونت کی اور ان کا زیادہ زور آزادی اظہار رائے اور آزاد صحافت پر تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘عدالتی معاونین نے واضح طور پر یہ تجویز نہیں کیا کہ توہین عدالت کے مبینہ ملزمان کے مؤقف کو قبول کیا جائے کہ اس سے مستقبل میں قانونی چارہ جوئی اور فریق ثالث کو وسیع پیمانے پر دستیاب اخبار کا غلط استعمال کرنے کی اور استثنیٰ کے ساتھ زیر التوا کارروائی میں مداخلت کی سہولت مل سکے’۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ’عدالتی معاونین نے یہ بھی تجویز نہیں کیا کہ زیر التوا کارروائی غیر مؤثر ہوگئی ہے۔

کیس کا پس منظر

گزشتہ سال 15 نومبر2021 کو انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والی صحافی انصار عباسی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے مصدقہ حلف نامے میں کہا تھا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے جج کو ہدایت دی تھی کہ سال 2018 کے انتخابات سے قبل کسی قیمت پر نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت پر رہائی نہیں ہونی چاہیے۔

مبینہ حلف نامے میں رانا شمیم نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان 2018 میں چھٹیاں گزار نے گلگت بلتستان آئے تھے اور ایک موقع پر وہ فون پر اپنے رجسٹرار سے بات کرتے ’بہت پریشان‘ دکھائی دیے اور رجسٹرار سے ہائی کورٹ کے جج سے رابطہ کرانے کا کہا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا نوٹس

علیٰ عدلیہ کے حوالے سے الزامات منظرِ عام پر آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے رپورٹ لکھنے والے صحافی انصار عباسی، ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری اور رانا شمیم کو توہینِ عدالت آرڈیننس کے تحت نوٹس جاری کر کے 16 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

نومبر کو رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے اپنا ہی بیانِ حلفی نہیں دیکھا جس میں انہوں نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف الزامات عائد کیے تھے، جس پر عدالت نے رانا شمیم کو 7 دسمبر تک اصل بیان حلفی پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم 7 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں رانا شمیم کے وکیل نے کہا تھا کہ بیانِ حلفی کا متن درست ہے لیکن اسے شائع کرنے کے لیے نہیں دیا گیا تھا۔

اس سماعت کے 10 دسمبر کو جاری ہونے والے حکم نامے میں ہائی کورٹ نے فریقین کی جانب سے جمع کروائے گئے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

سفری پابندی عائد

دوسری جانب وفاقی وزارت داخلہ نے رانا شمیم کا نام پروونشل نیشنل آئیڈینٹی فکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) مین شامل کردیا تھا جس کے تحت 30 روز کی سفری پابندی عائد ہوتی ہے۔

بعد ازاں 13 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل نے استدعا کی تھی کہ توہین عدالت کے نوٹسز ملنے والے اپنے بیان حلفی جمع کرا دیں، اس دوران رانا شمیم کا اصل بیان حلفی بھی آ جائے گا، اس کے بعد فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کی جائے۔

اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس نے رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس میں فرد جرم کا فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر اصل بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

بعدازاں 20 دسمبر کی سماعت میں رانا شمیم کی پیروی کرنے والے وکیل لطیف آفریدی نے بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کی جانب سے سربمہر بیانِ حلفی عدالت میں جمع کرایا جاچکا ہے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے تھے کہ عدالت چاہتی ہے کہ اپنا بیانِ حلفی رانا شمیم خوف کھولیں۔

اس کیس کی 28 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں رانا شمیم نے عدالت کے سامنے اپنا سر بمہر بیانِ حلفی کھول دیا تھا اور عدالت نے فریقین پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 7 جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی۔

اس سماعت میں اٹارنی جنرل نے رانا شمیم اور دیگر پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ رانا شمیم بیان حلفی لکھنے والے ہیں ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا تھا کہ حلف نامہ جن سے متعلق ہے ان کی جانب سے کوئی تردید نہیں کی گئی، رانا شمیم مان لیں وہ استعمال ہوئے اور معافی مانگیں اور اگر رانا شمیم ایسا کریں تو میں بھی کہوں گا کارروائی نہ کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube