Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago

Balochistan

بلوچستان کی سیاست میں نئی بساط کے خدوخال ظاہر ہونا شروع ہوگئے، جمعیت علماء اسلام میں چند سابق و موجودہ پارلیمنٹرین داخل ہوں گے اور چند پیپلز پارٹی کے ساتھ مراسم قائم کرنے کے مراحل میں ہیں۔ ازیں پیش سابق وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری اور سابق وفاقی وزیر و سابق گورنر جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ، سابق صوبائی وزراء نواب محمد خان شاہوانی، آغا عرفان کریم پیپلز پارٹی سے نبھا کر چکے ہیں۔ نواب زہری 2018ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔ جنرل عبدالقادر قومی اسمبلی کی نشست پر جیتے تھے۔ نواب زہری بعدازاں عبدالقادر پارٹی کے صوبائی صدر بنے۔ جنرل عبدالقادر کے پاس وفاقی وزارت تھی۔ نواب زہری اس وابستگی کی طفیل صوبے کے وزیراعلیٰ بنے۔ نواب محمد خان شاہوانی 2013ء کے عام انتخابات میں نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔ اس اسمبلی میں وزیر تھے۔ آغا عرفان کریم 2008ء کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے جیت کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ آغا عرفان کریم نواب اسلم رئیسانی کی کابینہ میں شامل تھے۔ امروز صوبے میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) مخلوط حکومت بنا بیٹھی ہے۔ اس جماعت کے مستقبل کی بقاء البتہ سوالیہ نشان ہے۔

ملک میں رائج اس جمہوری نظام کے ماحول میں اصول و اخلاقیات، وفاداریاں ناپید ہیں۔ سارا کھیل شخصی گروہی و جماعتی برتری و مفادات کے گرد ہے۔ اسی کے تحت سیاسی ترجیحات طے کی جاتی ہیں۔ 12اکتوبر 1999 کو اقتدار پر قبضہ کے بعد احتساب اور شفافیت اور پائیدار جمہوری نظام کا نعرہ لگایا۔ جنرل پرویز مشرف سیاہ و سفید کے مالک بنے۔ ملک کے صدر اور افواج پاکستان کے سربراہ کے بیک وقت عہدے رکھیں۔ جس کے لیے قانون بھی پاس کیا گیا۔ اقتدار کو دوام اور آئینی تحفظ کی خاطر مسلم لیگ قائداعظم کے نام سے جماعت قائم کرلی۔ وہیں لوگ وابستہ ہوئے جو کل تک مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کے اندر جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا دم بھرتے تھے۔ بلوچستان کے اندر اس سوچ و ترجیحات کے لوگ لپک لپک کر آمریت کی چھتری کے نیچے جمع ہوتے گئے۔ 30اپریل 2002ء کو رچائے جانے والے ریفرنڈم کے ڈھونگ کے ذریعے پرویز مشرف پانچ سال کے لیے باوردی صدر بنے، پشت پر یہی لوگ تھے۔ پیپلز پارٹی شیرپاﺅ، تحریک انصاف وغیرہ نے بھی ساتھ دیا۔ اکتوبر 2002ء کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ قائداعظم کو برتری حاصل ہوئی۔ چناںچہ جمعیت علماء اسلام کی شمولیت سے مخلوط حکومت قائم ہوئی۔ پارٹی کے صوبائی صدر جام محمد یوسف وزیراعلیٰ بن گئے۔ سندھ اور پنجاب بھی آمر کی جماعت کے قلمرو میں تھا۔ یہ مضبوط سہارا تھا، جس کے دم خم سے پرویز مشرف سرو انچا کرکے حکومت کرتے رہیں۔ ان قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے ان پر اعتماد کا اظہار ہوا۔ پرویز مشرف نے صدر اور آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کو ملک کا مفاد بتایا۔ رفتہ رفتہ اقتدار کی باگیں ڈھیلی ہوتی گئیں۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی افواج پاکستان کے سربراہ بنے۔ ہوا یوں کہ پنجاب اسمبلی نے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد پاس کرائی۔ حالات نے رخ موڑ لیا۔ پنجاب اسمبلی کے 369ارکان میں سے 321 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیے۔ اس اسمبلی میں پھر خیبر پشتونخوا اور سندھ اسمبلی سے بھاری اکثریت بلکہ بغیر کسی مخالفت کے مواخذہ کی قراردادیں منظور ہوگئیں۔ لمبا عرصہ ساتھ دینے والوں نے منہ موڑ لیا۔ اس طرح پرویز مشرف راندہ درگاہ ہوئے۔

صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کے مقابلے میں مسلم لیگ ق کے صدارتی امیدوار مشاہد حسین سید کو محض 44ووٹ ملے۔ یعنی انہیں ق لیگ کے ارکان نے بھی ووٹ نہ دیا۔ آصف زرداری بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ اس مائنڈ سیٹ کے سیاستدانوں نے اب کسی اور جانب دیکھنا شروع کر دیا۔ چناں چہ ق لیگ کا بلوچستان کے اندر بھی شیرازہ بکھر گیا۔ البتہ یہاں عام انتخابات 2008ء کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی میں ق لیگ اور اس کے ہم خیال ارکان کی تعداد اُنیس تھی جس میں ہر ایک مرضی کا مالک تھا مگر 2008ء کے عام انتخابات میں صوبے کے اندر پیپلز پارٹی کی حکومت بنی۔ چناں چہ ق لیگ والے نواب اسلم رئیسانی کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہوگئے تھے۔ آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے کئی اراکین اسمبلی حلقہ بگوش پیپلز پارٹی ہوگئے۔ اس اسمبلی نے وقتاً فوقتاً آصف علی زرداری کی حمایت میں قراردادیں پاس کروائیں اور وقت آخر دور ہٹتے گئے۔ حتیٰ کہ گورنر راج کے نفاذ اور اس کے اختتام کے بعد کوئی منظر عام پر نہ تھا۔ نواب اسلم رئیسانی کی راہیں بھی عملاً پیپلز پارٹی سے جدا ہوگئی تھیں۔ ان کے بھائی لشکری رئیسانی پہلے ہی پارٹی اور سینیٹ کی ممبر شپ چھوڑ چکے تھے۔

سال 2013ء کے عام انتخابات کے بعد منظر نامہ یکسر تبدیل ہوا۔ نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ نواز کی مخلوط حکومت بنی۔ آزاد کامیاب ہونے والے ارکان یعنی مخصوص مائنڈ سیٹ یا طرز سوچ و مزاج کے لوگ ن لیگ کا حصہ بنیں۔ یہ اشتراک وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کے لیے مسائل بناتا۔ اسمبلی اجلاسوں کا مقاطعہ کرتا، احتجاجاً وزیراعلیٰ ہاوس نہ جانے کا اعلان کرتے۔ بالآخر اس مائنڈ سیٹ نے گرگٹ کی مانند رنگ بدلا اور میاں نواز شریف پر وار کرنے والوں کے معاون بن گئے۔ قومی اسمبلی میں ظفر اللہ جمالی مرحوم، جام کمال، خالد مگسی اور دوستین ڈومکی وغیرہ نے وفاداری تبدیل کر دی۔ اور صوبے کے اندر مسلم لیگ نواز سے وابستہ اراکین اسمبلی اور ق لیگ کے نام سے موجودہ اراکان نے بھی میاں نواز شریف کی پیٹ میں چھرا گھونپا، نواب زہری کی حکومت چلتا کر دی گئی۔ پھر سیاہ پردوں کے پیچھے بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے ”کنگ“ جماعت کی تشکیل ہوگئی۔سب باغی اس میں جمع کردیے گئے اور بلوچستان میں حکومت دلادی۔ دیکھتے ہیں کہ آئندہ کونسا رنگ جمے گا۔

یاد رہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران 2013ء کے عام انتخابات میں جمعیت علماء اسلام کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔ شاید انہیں وزیراعلیٰ بننے کی خواہش دامن گیر ہوئی تھی۔ سو نواب اسلم رئیسانی، میر ظفر اللہ زہری جو سردار اسرار زہری کے چھوٹے بھائی اور نواب ثناءاللہ زہری کا سوتیلا بھائی بھی ہے جے یو آئی میں جارہے ہیں۔ امان اللہ نوتیزئی جو پچھلی حکوت میں ق لیگ سے کامیاب ہوئے تھے اور وزارت رکھتے تھے۔ اور نوشکی سے غلام دستگیر بھی شامل ہوں گے۔ غلام دستگیر کی وابستگی مسلم لیگ ن کے ساتھ تھی گویا جمعیت علماءاسلام اپنے طور پر صوبے میں اپنا وزیراعلیٰ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مذکورہ اجمالی تجزیہ سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ تعلق محض اقتدار کی غلام گردوشوں سے جڑا ہوگا جس کا مقصد پورا نہ ہو تو راہیں جدا ہوں گے۔ تاہم جے یو آئی کو ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کی راہ پر چلنے کا طعنہ سہنا پڑے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube