Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

فیصل آباد: ایمبرائڈری سیکٹر کی زَبُوں حالی کی وجہ کیا ہے؟

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago

فیصل آباد کا ایمبرائڈری سیکٹر زَبُوں حالی کا شکار، ہر ماہ 25 سے 30 مشینیں کباڑ میں جانے لگیں۔ صنعتی شہر کا ایمبرائڈری سیکٹر مہنگی بجلی، خام مال کی کمی اور حکومتی پالیسیوں کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔

جہاں کبھی دن رات شور مچاتی دھاگے کے تانے بانے بُنتی یہ ایمبرائڈری مشینیں چلا کرتی تھیں وہاں آج گہرے اندھیروں کا راج ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ 16 روپے والا یونٹ 45 میں مل رہا ہے حکومت کی ’ناقص پالیسیوں‘ کے باعث مینوفیکچرز کی بقاء مشکل ہوگئی ہے۔

صنعتکار میاں ظارق کے مطابق ایک علاقے کے اندر 52 مشینیں تھیں اب وہاں صرف 6 مشینیں رہ گئی ہیں، حکومت نے 16 والا یونٹ 45 تک پہنچا دیا جس کی وجہ سے اخراجات پوری کرنا مشکل ہے۔

پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں ایمبرائیڈری کے 4 ہزار سے زائد یونٹس ہیں۔ کباڑ میں بکنے والی 85 لاکھ کی مشین محض 7 لاکھ میں فروخت ہورہی ہے اور مشین کا ہر پرزہ الگ الگ بیچا جاتا ہے۔

کباڑ کے کاروبار سے وابستہ عمران کا کہنا ہے کہ ایک مشین کو کاٹنے میں 7 دن کا وقت لگتا ہے۔ ہر سال نئے ماڈل آنے کی وجہ سے پرانے ماڈل کی قیمت کم ہوجاتی ہے اسی وجہ سے یہ کباڑ میں آتی ہیں۔

اپنی بقا کی جنگ لڑتے ایمبرائڈری سیکٹر کی مشینوں کے اس قبرستان کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بہت جلد یہ مقامی ٹیکسٹائل صنعت ماضی کا قصہ بن جائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube