Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  17

۔10فیصدسےزائدشرح والےعلاقوں میں ان ڈورتقریبات پرپابندی

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago
[caption id="attachment_2468292" align="alignleft" width="800"] فائل فوٹو[/caption]

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے 10 فیصد اور اس سے زائد کرونا کیسز والے علاقوں میں ایس او پیز کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا۔ متاثرہ علاقوں میں ان ڈور تقریبات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پابندیوں کا اطلاق 20 سے 30 جنوری تک ہوگا۔

این سی او سی کا اجلاس وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور نیشنل کوآرڈینیٹر میجر جنرل محمد ظفر اقبال کی سربراہی میں بدھ 19 جنوری کو اسلام آباد میں ہوا۔ آج ہونے والے اجلاس میں ملک میں وبا کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

نئی پابندیاں

اجلاس میں متفقہ طور پر 10 فیصد سے زائد کرونا وائرس کیسز کی شرح والے علاقوں میں ان ڈور تقریبات پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔

آؤٹ ڈور تقریبات کی 300 ویکسی نيٹڈ افراد کے ساتھ اجازت ہوں گی۔

جب کہ 10فیصد سے زائد شرح والے علاقوں میں انڈور شادی تقریبات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

صرف ویکسین شدہ افراد کو ہی آؤٹ ڈور ڈائننگ کی اجازت ہوگی۔

شادی ہالز سے متعلق پابندیوں کا اطلاق 15 فروری تک ہوگا۔

اعلامیہ کے مطابق تعلیمی اداروں میں 12سال سے کم عمر بچوں کی 50 فیصد حاضری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزارات ، جِم ، سینما، پارکس میں گنجائش کے مطابق دونوں ویکسینیشن والے پچاس فیصد افراد کی اجازت ہوگی۔

سینمامیں50فیصد ویکسین شدہ افراد کو جانے کی اجازت ہوگی۔

ان ڈور جمز50فیصد ویکسین شدہ افراد کے ساتھ کھل سکيں گے۔

آؤٹ ڈور ڈائننگ کی صرف ویکسین شدہ افراد کو اجازت ہوگی۔

ریسٹورنٹس میں انڈور ڈائننگ پر پابندی

براہ راست رابطے میں آنے والے کھیلوں مثلاً کراٹے، مارشل آرٹس، رگبی، واٹر پولو، کبڈی اور ریسلنگ پر پابندی

ملک بھر میں تعلیمی ادارے مشروط کھلے رکھنے کا فیصلہ

بڑی عمر کے ویکسین شدہ طلبا کی حاضری 100فیصد ہوگی۔

دس فیصد یا زیادہ شرح والے علاقوں میں

انڈور تقریبات، شادیوں میں صرف 300 مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو شرکت کی اجازت

جن علاقوں میں شرح 10 فیصد یا اس سے زیادہ ہوگی، وہاں آؤٹ ڈور تقریبات، شادیوں میں 500 مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو شرکت کی اجازت ہوگی۔

صرف مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو انڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ کی اجازت

صرف مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو ہر قسم کے کھیلوں کی اجازت

جب کہ 12 سال سےکم عمر بچوں کے کووڈ پروٹوکولز کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی

فیصلے کے مطابق 12 سال سے زائد مکمل ویکسینیٹڈ طلبہ کے لیے کووڈ پروٹوکولز کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی

جب کہ 12 سال سے زائد عمر کے طلبا کیلئے ویکسین لازمی قرار دی گئی ہے۔

فیصلے کے مطابق 12 سال سے کم عمر طلبا کی حاضری 50 فیصد ہوگی،12 سال سے کم عمر بچوں کی ایک دن چھوڑ کر ایک دن 50 فیصد گنجائش کے ساتھ حاضری کی اجازت

نئی پابندیوں کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ نئی پابندیوں کے فیصلوں پر نظر ثانی 27جنوری کو کی جائے گی۔

دیگر پابندیاں

طبی استثنٰی کے علاوہ یکم فروری سے 12 سال سے زائد عمر کے تمام طلبہ کے لیے کووڈ ویکسین کا کم از کم ایک ٹیکہ لگوانا لازمی ہے۔

تعلیمی اداروں میں بھرپور ٹیسٹنگ کی جائے گی اور بیماری کے زیادہ پھیلاؤ کی صورت میں متاثرہ اداروں کو بند کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں وفاقی اکائیاں صحت حکام کے ساتھ تعلیمی اداروں کی بندش کے لیے کیسز کی تعداد یا شرح کا تعین کریں گے۔

مارکیٹس، کاروباری ادارے بغیر وقت کی پابندی کے اپنا کام جاری رکھیں گے۔

پبلک ٹرانسپورٹ مسافروں کی 70 فیصد گنجائش کے ساتھ چلائی جائے گی جس میں ہر مسافر کے لیے ماسک پہننا لازم ہوگا جب کہ کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے پر پابندی ہوگی۔

ریلویز میں 80 فیصد گنجائش کے ساتھ مکل ویکسینیٹڈ مسافروں کو سفر کی اجازت ہوگی۔

دفتروں میں مکمل ویکسینیٹڈ ملازمین کو 100 فیصد حاضری کے ساتھ کام جاری رکھنے کی اجازت ہوگی البتہ گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

اندرونِ ملک فضائی سفر کے دوران کھانے، مشروبات پر پابندی اور ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

تمام وفاقی اکائیاں مساجد، عبادت گاہوں میں ماسک پہننے سمیت احتیاطی تدابیر کا نفاذ یقینی بنائیں گی۔

خطرے کے حساب سے ٹارگٹڈ لاک ڈاؤنز لگائے جاسکتے ہیں

واضح رہے کہ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا کے پھیلاؤ نے پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی، چوبیس گھنٹے کے دوران مثبت کیسز کی شرح نو اعشاریہ چار آٹھ فیصد ریکارڈ کی گئی۔

کرونا وائرس سے 8 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 29 ہزار 37 ہوگئی۔ پاکستان میں کرونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 38 ہزار 993 ہوگئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube