Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

نیب کی مریم نوازپرمثالی ہرجانہ،توہین عدالت کارروائی کی استدعا

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago
[caption id="attachment_2410339" align="alignleft" width="800"] فائل فوٹو[/caption]

قومی احتساب بیورو نے ن لیگی رہنما مریم نواز شریف پر مثالی ہرجانہ عائد کرکے توہین عدالت کے تحت کارروائی کرنے کی استدعا کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی جانب سے نئی بنیادوں پر بریت کی درخواست کے جواب میں نیب نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔

قومی احستاب بیورو نے ایون فیلڈ ریفرنس میں ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کی بری کرنے کی نئی درخواست کا جواب دیتے ہوئے پولیٹیکل انجینیرنگ کا الزام مسترد کر دیا۔

نیب کا کہنا تھا کہ مریم اور نواز شریف نے آج تک لندن فلیٹس کا جواب نہیں دیا، ویڈیو لیک والے جج کا بھی کیس سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں نیب نے یہ بھی کہا ہے کہ نواز شریف نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ لندن جائیدایں کیسی خریدیں، پیسہ کیسے منتقل کیا ؟ مریم نواز کی بریت کی درخواست جھوٹ، حقائق کے منافی، ناقابل سماعت اور عدالت کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے، احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دی۔

نیب کی جانب سے وطن پارٹی اور بحریہ ٹاون کیس سمیت مختلف کیسز میں جوڈیشل مانیٹرنگ کا حوالہ بھی دیا گیا۔

نیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ پانامہ کیس میں مانیٹرنگ جج صرف سپریم کورٹ کی آبزرویشنز پر عملدرآمد کیلئے تھا، مریم نواز کا تین الگ الگ ریفرنس بنائے جانے کا اعتراض بھی درست نہیں، مریم نواز صرف ایک ہی ریفرنس میں نامزد ہیں ،تین ریفرنسز کا اعتراض نہیں اٹھا سکتیں، تین ریفرنس بنانا یوں بھی خلاف قانون نہیں، نوازشریف کے اعتراضات بھی اسی لئے مسترد ہوئے۔

جواب میں کہا گیا کہ سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے الزامات پر سپریم جوڈیشل کونسل انہیں برطرف کرچکی، ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ جج محمد بشیر نے کیا، جج ارشد ملک کا کوئی تعلق نہیں، جج ارشد ملک کی ویڈیو اور بیان جھوٹ اور حقائق کے منافی ہے۔

نیب کے مطابق مریم نواز کی درخواست میں لگائے گئے الزامات پر سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے، سپریم کورٹ نے فیصلے پر عملدرامد کیلئے نگران جج مقرر کیا، مریم نواز کے نگران جج پر الزامات توہین عدالت کے زمرے پر آتے ہیں، پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے جج ابھی بھی جوڈیشل سروس میں ہیں۔ ملزمان کا ایسی درخواست ہائی کورٹ میں لانا ان کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube