Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  17

دسمبر میں اٹلس ہونڈا، سوزوکی موٹرسائیکلوں کی فروخت میں کمی

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2022 | Last Updated: 4 months ago

اٹلس ہونڈا اور پاک سوزوکی  کی موٹرسائیکلوں کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر کمی  ریکارڈ کی گئی ہے۔

 پاکستان آٹو موٹیومینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اٹلس ہونڈا اور سوزوکی نے دسمبر 2021 میں ایک لاکھ 15 ہزار 80 موٹرسائیکلیں فروخت کی جو نومبر کی فروخت سے 10 فیصد کم ہے تاہم سالانہ بنیاد پر ہونڈا موٹرسائیکل کی فروخت میں 3.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سوزوکی موٹرسائیکل کے دسمبر میں تین ہزار 115 یونٹس فروخت ہوئے جو نومبر میں ہونے والی فروخت سے 4.5 فیصد کم ہے۔

آٹو سیکٹر سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ بدلتے موسم کی وجہ سے ہر سال سردیوں کے مہینوں میں موٹرسائیکل کی فروخت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم، اس کے علاوہ دیگر وجوہات بھی فروخت میں کمی کا باعث بنی۔

موٹر سائیکلوں کی فروخت میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹرسائیکل اسمبلرز  کے چیئرپرسن محمد صابر شیخ نے کہا کہ کیونکہ بڑی کمپنیاں عمدہ کوالٹی کا میٹریل استعمال کرتی ہیں،  کسان عموماً ہونڈا موٹرسائیکلیں خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ان کے مطابق جب کسان بازار میں فصلیں بیچتے ہیں تو ہونے والی آمدنی سے وہ موٹر سائیکل خریدتے ہیں۔

دسمبر میں کوئی فصل نہیں بوئی جاتی اس لیے لوگوں کے پاس ہونڈا موٹرسائیکل خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے۔ جبکہ شہروں میں رہنے والے افراد کی قوت خرید مہنگائی، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی قیمتیں بڑھنے ے باعث ختم ہوچکی ہے۔ سابر شیخ نے توقع ظاہر کی کہ اگلے تین ماہ میں موٹر سائیکلوں کی فروخت میں مزید کمی آئے گی۔

شیخ نے کہا کہ سوزوکی کو موٹرسائیکلوں کی مکمل طور پر ناکڈ ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس کی قلت کا سامنا ہے کیونکہ جاپان میں کورونا کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور حکومت پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ تاہم بین الاقوامی مارکیٹ میں کنٹینرز کی قیمت جو بڑھ کر آٹھ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی اُس میں تھوڑی کمی آئی ہے اور فی کنٹینر کی لاگت اب چھ ہزار ڈالر ہے۔

ان کے مطابق  گاڑیوں  کی قیمتوں میں اضافے کے باعث  گزشتہ دو ماہ میں بڑی کمپنیوں جیسے ہونڈا، سوزوکی اور یاماہا کی موٹر سائیکلوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ لوگ چینی موٹر سائیکلوں کو ان کے کم معیار کی وجہ سے خریدنے کو ترجیح نہیں دیتے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اگرچہ موٹرسائیکل مینوفیکچررز صارفین کو موٹرسائیکلوں پر چھ ماہ کی وارنٹی فراہم کرتے ہیں، لیکن جب لوگ وارنٹی کا کلیم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کرتے ہیں تو مینوفیکچررز موٹر سائیکلوں کی مرمت سے انکار کرتے ہیں۔ موٹرسائیکل مینوفیکچررز کو کار مینوفیکچررز کی طرح بھاری مارجن نہیں ملتا اس لیے وہ کسی خرابی کی صورت میں موٹر سائیکلوں کی مرمت نہیں کر سکتے۔ تاہم ایک موٹر سائیکل ڈیلر نے کہا کہ وہ انجن اور موٹرسائیکل کے دیگر پرزوں کی وارنٹی دیتے ہیں۔

ہونڈا اور سوزوکی کی موٹرسائیکل کی قیمتوں میں اضافہ

اٹلس ہونڈ نے 3 نومبر کو موٹر سائیکلوں کی قیمت میں ساتویں بار چھ ہزار 500 روپے کا اضافہ کیا تھا۔

جبکہ یکم دسمبر کو سوزوکی جی ڈی 110 ایس، جی ایس 150 سی سی اور جی ایس 150 ایس ای کی قیمتوں میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ یہ تینوں قسمیں اب ایک لاکھ 99 ہزار روپے، دو لاکھ 15 ہزار روپے، اور دو لاکھ 32 ہزار روپے میں دستیاب ہیں۔

 قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے اُس وقت موٹر سائیکل ڈیلرز کا کہنا تھا کہ خام مال جیسے کہ  اسٹیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت بڑھ گئی ہے اور امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے سے درآمدی بل پر بھی دباؤ پڑا ہے تاہم اُن کو موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
Honda, Suzuki Motorcycles, ہونڈا، سوزوکی موٹر سائیکل
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube