Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

مری میں متوقع برفباری، ٹریفک پلان جاری کردیا گیا

SAMAA | - Posted: Jan 18, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 18, 2022 | Last Updated: 4 months ago

راول پنڈی ٹریفک پولیس نے ملکہ کوہسار مری میں متوقع برف باری کے پیش نظر ٹریفک پلان جاری کردیا ہے۔

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) راولپنڈی تیمور خان کے مطابق 8 ہزار گاڑیوں کے بعد مزید کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، شام 5بجے سے صبح 5 بجے تک سیاحوں کے داخلے پر پابندی ہو گی۔

سی ٹی او کا کہنا ہے کہ مری میں تقریباً 3500 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہے، ٹریفک پولیس کے 268 اہلکار ڈیوٹی دیں گے۔

ترجمان ٹریفک پولیس نے مزید کہا کہ مری میں روڈ پر گاڑی کھڑی کرکے سیلفیاں بنانے سے گریز کیا جائے۔

واضح رہے کہ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ افغانستان اور ایران سے آج بلوچستان میں داخل ہوگا، یہ سلسلہ شمالی و وسطی بلوچستان میں بارش و برفباری کا باعث بنے گا، 20 جنوری تک یہ سلسلہ ملک کے شمالی حصے پر بھی اثرانداز ہوگا۔

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ مری میں برفباری کا امکان ہے مگر یہ حالیہ برفباری جیسی نہیں ہوگی، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور شمالی بلوچستان میں بھی برفباری اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مری اور گلیات میں شدید برف باری کے باعث بیشتر سڑکیں بند ہونے سے 21 افراد سختی سردی کے باعث گاڑیوں میں ہی انتقال کرگئے تھے۔ مری کی بڑی شاہراہوں پر شدید برف باری کی وجہ سے 20 سے 25 بڑے درخت گرے تھے جس کی وجہ سے راستے بلاک ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں جان سے جانے والوں میں 10 بچے بھی شامل ہیں جب کہ ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد اس واقعے میں زندگی کی بازی بھی ہار گئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ زیادہ تر افراد کی موت ہائپو تھرمیا کی وجہ سے ہوئی۔ ایک پولیس افسر عتیق احمد کے مطابق مرنے والوں میں ایک پولیس افسر اور ان کے خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔ اسسٹننٹ کمشنر مری عمر مقبول کے مطابق مری میں اس دوران درجہ حرارت منفی آٹھ ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے مری کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی جب کہ حکام نے امدادی کاموں کے لیے فوج اور خصوصی ملٹری ماؤنٹین یونٹ کو بھی طلب کر لیا تھا۔

فوج نے آرمی کے زیرِ انتظام چلنے والے اسکولوں کو ریلیف کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سیاحوں کو پناہ اور خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر فلاحی اداروں کی جانب سے بھی امدادی کام جاری ہیں۔

ادھر سوشل میڈیا پر مری کے نام سے ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈ اور لوگ حکومت پر تنقید کرنے کے ساتھ واقعے پر افسوس کا اظہار بھی کر تے رہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube