Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

کیا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے چین سے آزاد تجارتی معاہدے کا غلط فائدہ اٹھایا؟

SAMAA | - Posted: Jan 17, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 17, 2022 | Last Updated: 4 months ago
[caption id="attachment_2278609" align="alignnone" width="800"] فوٹو: اے ایف پی[/caption]

وزارت پیٹرولیم نے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل سے چین سے ڈیوٹی فری پیٹرول کی درآمد کا دو سال کا ڈیٹا مانگ لیا ہے۔

وزارت توانائی سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کو خط لکھ کر جنوری 2020 سے جنوری 2022 تک کا ڈیٹا 20 جنوری تک جمع کروانے کو کہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خط میں کہا گیا کہ کمپنیوں نے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت چین سے ڈیوٹی فری پیٹرول درآمد کیا، عام طور پر کمپنیاں مشرق وسطیٰ سے 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی پر پیٹرول درآمد کرتی ہیں۔ کمپنیوں نے پیٹرول کس پورٹ سے منگوایا، کس پر اتارا اور تیل کی مقدار سے متعلق سوالات پوچھے گئے ہیں۔

انڈسٹری ذرائع کے مطابق 2021 میں چین سے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت 2020 کی نسبت 16 فیصد زیادہ پیٹرول درآمد کیا گیا اور بغیر ڈیوٹی پیٹرول کی درآمد سے آئل کمپنیز کے مارجن میں اضافہ ہوا، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول کی خوردہ قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube