Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

سیاح مری نہ جائیں تو کہاں جائیں؟

SAMAA | - Posted: Jan 15, 2022 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 15, 2022 | Last Updated: 4 months ago

آسمان پر چمکتی دھوپ، برستی بارش یا چاند کی چاندنی تو ہر کوئی دیکھتا رہتا ہے لیکن آسمان سے گرتی برف دیکھنا بیشتر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے، گرم میدانی علاقوں میں بسنے والے بیشتر لوگ زندگی میں ایک نہ ایک بار برفباری دیکھنے کی خواہش ضرور رکھتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے قدرت نے تمام موسموں کے حسن سے آراستہ کیا ہے، یہاں بعض علاقوں میں جہاں غضب کی گرمی ہوتی ہے تو وہیں بعض علاقوں میں انتہاء کی سردی ہوتی ہے جبکہ کچھ بالائی علاقے تو ایسے ہیں جہاں کے مقامی بھی ٹھٹھرتی ہوئی سردی کا مقابلہ کرنے سے گریز کرتے ہیں، جیسے مشہور سیاحتی علاقے ناران، فیری میڈوز، دیوسائی اور اس طرح کے کئی علاقوں کے لوگ سخت سردی اور برفباری کے باعث نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ 

ملک کے ایسے بہت سے مقامات ہیں جہاں ملکی اور غیر ملکی سیاح سرد موسم سے لطف اندوز ہونے کیلئے وہاں کا رُخ کرتے ہیں، زیادہ تر سرد علاقوں کی سیر سال کے صرف چند ماہ یعنی اپریل سے لیکر اکتوبر کے درمیان ہی کی جاتی ہے کیوں کہ اس کے بعد جیسے ہی ان علاقوں میں برف باری کا آغاز ہوتا ہے، سیاحوں کا جانا دشوار ہوجاتا ہے یا یوں کہیں کہ ان مہینوں کے بعد وہاں جانا پریشانی مول لینے کے مترادف ہوسکتا ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں، جیسے کہ ان علاقوں کے راستے بند ہوجاتے ہیں، یہاں کے رہائشی نقل مکانی کرکے جاچکے ہوتے ہیں، دکان اور ہوٹلز بھی میسر نہیں ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں برفباری دیکھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کیلئے سب سے پہلا اور آسان آپشن ہوتا ہے۔ مری۔

اگر دیکھا جائے تو سرد علاقوں میں مری واحد ایسی جگہ ہے جہاں برفباری ہوتے ہوئے دیکھنے جانا نہایت آسان ہے، کیونکہ مری اور گلیات کے علاقوں کے برعکس دوسرے مقام پر برفباری سے محظوظ ہونے جانا مشکل، مہنگا اور وقت طلب ہوتا ہے۔ اسلام آباد سے آپ مری تقریباً 3 گھنٹے کے سفر کے بعد بآسانی پہنچ جاتے ہیں، زیادہ تر افراد کے مری جانے کی سب سے اہم وجہ یہی ہے کہ بنسبت دوسرے مقام کے مری کا راستہ نہایت ہموار ہے۔ مری اور گلیات کے علاقوں میں مہنگی ہی سہی لیکن روز مرہ اشیاء تک رسائی بھی آسانی سے ہوجاتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے مری میں کاروبار کرنیوالے افراد اس بات کا فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ لوگ کہیں جائیں نہ جائیں مری ضرور آئیں گے۔ مری میں رش، راستوں کے جام ہونے کی خبریں معمول کی بات ہے اور ایسا تو ہر سال ہی ہوتا تھا لیکن جو گزشتہ ہفتے ہوا وہ میرے لئے اور سب کیلئے حیرانی تھی۔

جمعہ 7جنوری 2022ء کی شب یہ خبریں نشر ہوئیں کہ شدید برفباری اور عوام کے رش کے باعث حکومت نے مری جانے کے راستوں کو بند کردیا ہے، یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن علی الصبح یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ شدید برفباری کے باعث ہلاکتیں ہوئی ہیں جو کہ انتہائی حیران کن تھا کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مری میں ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا تھا، خیر اس حوالے سے طرح طرح کی خبریں بھی سامنے آئیں، بعض لوگوں نے اس کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا تو کچھ حکومتی عہدیداروں نے اس کا ملبہ دار عوام پر ہی ڈال دیا۔

سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے یہ بھی کہا گیا سانحہ مری کے دوران مجبور لوگوں کی جيبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا، 500 روپے کا اُبلا ہوا انڈہ، 200 روپے کا گرم پانی، 50 ہزار روپے کمرے کا کرايہ اور زيورات گروی رکھوانے سے متعلق خبريں سامنے آئیں لیکن ہوٹل ايسوسی ايشن نے یہ سارے الزامات مسترد کرديے جبکہ انجمن تاجران مری کے عہديدار راجہ ياسر نے اپنی پريس کانفرنس ميں دعویٰ کيا کہ کسی کے پاس ثبوت ہو تو ہميں فراہم کرے تاکہ ذمہ دار ہوٹل انتظاميہ کيخلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے مری ميں طوفان والے دن جمعہ کو ايک لاکھ سے زيادہ گاڑياں داخل ہونے کی بھی ترديد کردی۔ ان کے مطابق واقعہ مری سے 10 کلومیٹر پہلے کا ہے، وہاں جنگل ہے، کوئی ہوٹل نہیں ہے بلکہ ہوٹلز تو اس دن رہائش اور کھانا فری ميں دے رہے تھے۔

لیکن مری ميں دگنے کرائے وصول کرنے والے ہوٹل مالکان کیخلاف انتظاميہ نے ايکشن لیتے ہوئے 3 ہوٹل سيل کئے جبکہ سياحوں سے رقم بٹورنے والا ايک ملزم بھی گرفتار کیا، بھوربن کے قریب راستے ميں برف پھينک کر جان بوجھ کر راستہ بند کرنے والوں کیخلاف بھی ايف آئی آر درج ہوئی، یہ خبر بھی سامنے آئی کہ چند مقامی لوگ راستہ بند کرکے سياحوں سے پيسے بٹور رہے تھے، ملزمان 4 سے 5 ہزار روپے وصول کرتے تھے۔

راجہ یاسر نے دعویٰ کيا کے اموات کی وجہ برفباری نہيں بلکہ انتظامیہ کی نااہلی تھی، 18 سے 20 گھنٹے تک کوئی ریسکیو سرگرمیاں شروع نہیں کی گئی کيونکہ انتظامیہ کے پاس مشنیری چلانے کیلئے ڈیزل نہیں تھا۔ انہوں نے 50 ہزار روپے تک ہوٹل کے کرائے لينے کی باتوں کو بھی مسترد کرديا حالانکہ ناصرف سياح منافع خوری کی کہانياں سُنا چکے ہيں بلکہ پاکستان کے اسٹارز بھی اپنے تجربات بتارہے تھے، جس سے حقيقت اور فسانے ميں فرق واضح ہے۔

سن کے حیرانی اس وقت ہوئی جب اداکارہ و میزبان فضا علی نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو میں پنڈورا باکس کھولتے ہوئے بتایا کہ وہ شوٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد گئی تھیں، جہاں انہوں نے برفباری دیکھنے کیلئے مری جانے کا پلان بنایا۔ مری جانے سے پہلے ہوٹل کے کمرے آن لائن دیکھے مگر وہاں پہنچنے پر ہوٹل کے کمرے دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی۔

 اپنا تلخ تجربہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اروما کیفے نامی ایک ہوٹل میں 3 کپ چائے کے 2 ہزار روپے ادا کرنے پڑے، جبکہ چائے بھی عام ہوٹل جیسی تھی۔

اداکارہ نے بتایا کہ ہوٹل انتظامیہ نے ایک رات کا کرایہ 20 ہزار روپے ایڈوانس میں وصول کیا مگر ہوٹل میں پانی ہی دستیاب نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ 4 گھنٹے گزارنے کے بعد وہاں سے چلی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہوٹل انتظامیہ سے پانی کی عدم فراہمی پر بار بار شکایت بھی کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا اور انہیں بتایا گیا کہ پانی اگلے روز دوپہر تک آئے گا۔

انہوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ جو لوگ مری گئے تھے اور جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہوٹل انتظامیہ نے ان سے 40 سے 50 چاس ہزار روپے کرایہ وصول کیا وہ ایسے ہوٹلوں کے نام بتائیں۔

 اداکارہ کے اس بیان سے میں بھی 100 فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ جو لوگ مری میں ان کے ساتھ ہوئے غیر انسانی سلوک کی کہانیاں سنا رہے وہ جرأت کرتے ہوئے ان ہوٹلوں کے نام بھی ظاہر کریں تاکہ جو تکلیف انہوں نے برداشت کی وہ کسی اور کو نہ جھیلنی پڑے اور ان لوگوں کا منہ بھی بند ہوجائے جو اس سانحہ کا ذمہ دار سیاحوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔

یہ پہلا واقع نہیں جب مری کی مہمان نوازی ہر سوال اٹھے ہوں، 2 برس قبل بھی مری کے دکانداروں کی سیاحوں کے ساتھ بدتمیزی کی کئی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس کے سوشل میڈیا پر مری جانے کیخلاف ایک مہم چلائی گئی جس سے مری کے کاروباری حضرات کو نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

گزشتہ 10 برس کے دوران تقریباً 5 سے 6 بار سردیوں کے موسم میں میرا مری جانے کا اتفاق ہوا اور ہر بار جو ایک چیز سننے کو ملی وہ یہ تھی کے مری کیلئے سامان سارا اسلام آباد سے لیکر جائیں کیونکہ مری میں اشیاً مہنگی ملیں گی، اب سفر کی ضروری اشیاء تو آپ کہیں سے بھی لے کر جائیں لیکن رہائش، ٹرانسپورٹ اور کھانا تو آپ کو وہیں سے لینا ہوگا۔ ہر بار ڈرائیور حضرات کا یہ مشورہ ہوتا ہے کہ مری ضرور جائیں لیکن رات کو قیام نزدیکی علاقوں نتھیا گلی، ایوبیا یا خانس پور میں کریں۔ جب بھی ہم نے اس کی وجہ دریافت کی تو تقریباً ہر مرتبہ یہی سننے کو ملا کہ مری میں ہوٹلز مہنگے اور اچھی سہولت کے ساتھ نہیں ملیں گے۔ پھر بھی کئی بار مری میں قیام کیا، جہاں تک مری کے بازار کی بات ہے تو یقیناً وہاں کے دکانداروں کے لہجے میں تلخی اور اکھڑ پن نظر آیا۔ اسی وجہ سے جب کسی نے سیر کی غرض سے مشورہ مانگا تو مری کے بجائے سوات یا ہنزہ ویلی کی طرف جانے کا مشورہ دیا لیکن جو لوگ طویل سفر نہیں کرنا چاہتے انہیں مری کا مشورہ دیا کیونکہ وہ کم ازکم کہیں نہ جانے سے تو بہتر ہی ہے۔

سانحہ مری کا اصل ذمہ دار تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کون ہے لیکن خواہ مری ہو یا کوئی بھی سیاحتی علاقہ وہاں کے مقامی افراد کا روزگار سیاحوں کی آمد و رفت سے چلتا ہے، اگر وہ سیاحوں کا استقبال کھلے دل سے نہیں کریں گے تو غیرمقامی افراد نہ تو خود وہاں دوبارہ آئیں گے اور نہ ہی کسی کو وہاں جانے کا مشورہ دیں گے، کیوں کہ سیاح تو ہمیشہ کسی مقام کی تصویر دیکھ کر یا اس کے بارے میں سن کر ہی سفر کرتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube