Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

پڑھائی گھر: شرافی گوٹھ کا منفرد تعلیمی ادارہ

SAMAA | - Posted: Dec 31, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 31, 2021 | Last Updated: 5 months ago

تحریر: فائزہ محمد دین

صفیان بلوچ ایک طالبعلم ہیں اور لیاری یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں گریجویشن کرنے کے ساتھ شرافی گوٹھ کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ سن 2019 میں اپنے گاؤں کے پانچ بچوں کو پڑھانے سے شروع ہونے والا یہ سفر آج 100 سے زائد بچوں کوتعلیم کی روشنی پہنچا رہاہے۔ شروع میں صفیان بلوچ نے اکیلے ہی پڑھانا شروع کیا تھا اب ان کے ساتھ گاؤں کی تین لڑکیاں بھی شامل ہوگئی ہیں جو ان بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے میں صفیان کا ساتھ دے رہی ہیں۔

صفیان اپنی کہانی سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے گاؤں کی زیادہ تر آبادی بلوچ خاندانوں پر مشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ گاؤں کے واحد سندھی میڈیم اسکول میں پڑھنا بچوں کے لیے مشکل تھا اور وہ سارا وقت کھیل کود میں گزار دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے ہم عمر لڑکوں کو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہوتے دیکھا جو بعد محنت مزدوری میں لگے یا پھر سارا دن ادھر ادھر بیٹھ کر وقت گزارتے۔

صفیان کے مطابق انہیں خیال آیا کیوں نہ میں وہ ایسے بچوں کو پڑھانا شروع کریں جو اسکول نہیں جاتے بس یہی سوچ کر انہوں نے اپنے گھر میں تعلیمی سلسلہ شروع کیا اور بچوں کو پڑھائی کی ترغیب دینے کے لیے اسٹیشنری اور کاپیاں کتابیں بھی فراہم کیں ۔

انہوں نے کہا کہ جب ان کے پاس طالبعلموں کی تعداد بڑھنے لگی تو مجھے جگہ کا مسئلہ درپیش آیا جس پر انہوں نے گاؤں کے معززین سے بات کر کے گاؤں کا کمیونٹی سینٹر استعمال کرنا شروع کردیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدا میں کافی لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ وہ یہ کام مستقل مزاجی سے نہیں کرسکیں گے، کچھ نے کہا کہ شہرت کے لیے کر رہا ہے اور کچھ نے اسے جگہ پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ تاہم کافی جدوجہد کے انہیں کمیونٹی سینٹر تین گھنٹہ استعمال کرنے کی اجازت ملک گئی۔

صفیان نے کہا کہ مسائل اس کے بعد بھی ختم نہیں ہوئے، گاؤں کے چند شرپسند عناصر اس پڑھائی گھر کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا کرتے رہتے سب سے پہلے تو جو لوگ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف تھے انہوں نے گاؤں والوں کو ورغلایا کہ لڑکیوں کو پڑھنے نہ بھیجیں اس سے بے حیائی پھیلے گی کیوں کہ لڑکے لڑکیاں ساتھ بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا انہوں نے ایک حل نکالتے ہوئے گاؤں کی پڑھی لکھی لڑکیوں کو قائل کیا کہ وہ ان کے ساتھ بچوں کو پڑھانے کے لیے کچھ وقت نکالیں جس پر دو لڑکیاں راضی ہوگئیں اور پڑھانے کی حامی بھر لی اورپڑھائی گھر آنا شروع کردیا۔

صفیان نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے مسجد کے پیش امام سے ملاقات کی اور گاؤں والوں سے ان کے گھروں پر جا کر ملے اور انہیں سمجھایا کہ بچوں کو دیگر زبانیں جیسے اردو اور انگریزی آنا بھی ضروری ہے لہٰذا آپ گاؤں کے دیگر لوگوں کو سمجھائیں کہ بچیوں کو پڑھنے کے لیے بھیجیں اس پر امام صاحب نے مدرسہ کے بعد بچیوں کو “پڑھائی گھر ” بھیجنا شروع کردیا جس سے ہمارے پاس طالب علموں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی مسائل کم نہیں ہوئے اور تعلیم مخالف عناصر نے پڑھانے آنے والی تین لڑکیوں کے گھر والوں کو بہکایا کہ وہ ایک لڑکے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں جو کہ ٹھیک نہیں۔ ان لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں، ڈرایا، دھمکایا مگر اللہ کا شکر ہے کہ ہم ان سب مسائل کے باوجود تین سال سے یہ “پڑھائی گھر ” چلارہے ہیں اور گاؤں کے بچے اب لکھنے اور پڑھنے کے بھی قابل ہورہے ہیں۔

صفیان نے بتایا کہ ہمارے گاؤں میں ایک اسکول ہے مگر وہاں نہ ہی اساتذہ ہیں اور نہ ہی کوئی سہولت جس کی وجہ سے وہاں جانے والے طلبا و طالبات بھی ہمارے پاس آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم چاروں اپنی پاکٹ منی سے یہ “پڑھائی گھر “چلارہے تھے لیکن اب گاؤں کے کچھ معززین بھی کبھی کبھار ہمیں کاپیاں اور اسٹیشنری لاکردیتے ہیں۔ گزشتہ ماہ ہم نے تین سال پورے ہونے کی خوشی میں ایک کیک کاٹا اور بچوں کے لیے ایک پروگرام بھی ترتیب دیا جس میں ہم نے مختلف مقابلے کروائے تھے، اس موقع پر گاؤں کے وہی لوگ جو تنقید کیا کرتے تھے سب نے آکر مبارکباد دی۔

صفیان جیسے لوگ ہمارے معاشرہ کا وہ رخ ہیں جواکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتےہیں ۔ ہمارے اردگرد ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنی مصروفیات میں وقت نکال کر دوسروں کو آگے لانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ صفیان جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ شرافی گوٹھ جیسے دیگر علاقوں کے نوجوان بھی اپنے گاؤں کے بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور تعلیم یافتہ ہونے کا فرض ادا کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube