Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

آئی ایم ایف کی شرائط:منی بجٹ30دسمبر کوپیش کیےجانےکاامکان

SAMAA | - Posted: Dec 29, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 29, 2021 | Last Updated: 5 months ago

عالمی ادارہ مالیات (آئی ایم ایف) کی شرائط کے پیش نظر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا منی بجٹ 30 دسمبر بروز جمعرات کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

سماء ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو منی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس بل کی منظوری دی جائے گی۔

ٹیکس چھوٹ کن اشیا پر ختم کیے جانے کا امکان ہے؟

آئی ایم ایف شرائط کے تحت 350 ارب روپے سے زائد ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز منی بجٹ میں شامل ہے، جس کے بعد موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا امکان ہے۔

منی بجٹ میں 1700 سے زائد اشیا پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھیں گی، تمام درآمدی اور لگژری اشیا پر ٹیکسز بڑھائے جانے کا امکان ہے، پرتعیش اشیا پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں اضافہ ہوگا، بچوں کے لیے امپورٹڈ اور ڈایئپرز مہنگے ہوں گے، خواتین کے لیے میک اپ کا سامان مہنگا ہوگا، امپورٹڈ اور مقامی گاڑیوں پر ٹیکسز میں اضافہ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے 350 ارب روپے کی اضافی آمدن ہوگی، سیلز ٹیکس کی شرح کو 17 فیصد کیے جانے کا امکان ہے، مختلف اقسام کی اشیا پر ٹیکس شرح 5 سے 7 فیصد بڑھ سکتی ہے، گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 2.5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ ٹریکٹر پر عائد سیلز ٹیکس میں 5 فیصد اضافے کا امکان ہے، درآمدی کپڑوں، جوتوں اور پرفیومز پر کسٹم ڈیوٹی بڑھائے جانے کا امکان ہے، مقامی تیار کردہ اشیا پر سیلز ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔

 منی بجٹ میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ زیرو ریٹڈ سیکٹر سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ مکمل ختم کئے جانے کا امکان ہے، مختلف اشیا پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

جبکہ کھانے پینے کی ضروری اشیا اور ادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔ لگژری اشیا کی درآمدات پر ٹیکس بڑھایا جائے گا۔

مزید برآں 959 ارب روپے کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 200 ارب روپے کی کٹوتی کا امکان ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق موجودہ مالی سال ٹیکس وصولی کا ہدف 5829 ارب روپے سے بڑھا کر 6100 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔

 دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس ریفائنری اسٹیج پر لاگو ہوگا، پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں پہلے ہی ماہانہ 4 روپے اضافے پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط کے تحت بجلی ٹیرف میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔

اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ایک سینئر وفاقی وزیر نے سماء ٹی وی کو بتایا کہ وفاقی کابینہ جمعرات کو ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2021 اور اسٹیٹ بینک ترمیمی بل 2021  کی منظوری دے گی اور غالبا اسی روز دونوں بل پارلیمنٹ میں پیش کئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ آج بدھ کیلئے جاری قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں دونوں بلز شامل نہیں ہیں بلکہ آج پرائیویٹ ممبرز ڈے ہے۔

آج قومی اسمبلی اجلاس کا 148 نکاتی ایجنڈہ جاری کر دیا گیا ہے، حکام وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط کے تحت ٹیکس ترمیمی بل کے ذریعے 350 ارب روپے سے زیادہ کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے۔

ٹیکس ترمیمی فنانس بل 2021 کے تحت شیڈول 6 مکمل ختم یا اس میں ترامیم ہوں گی، آٹھویں اور نویں شیڈول میں دی گئی ٹیکس چھوٹ میں بھی ترامیم کا امکان ہے۔

اپوزیشن کی منی بجٹ پر تنقید

حکومت کی جانب سے منی بجٹ پیش کرنے پر تنقید کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی ميں اپوزيشن ليڈر شہباز شريف نے اس خدشے کا اظہار کيا ہے کہ منی بجٹ سے ملکی حالات بہتر ہونے کی بجائے بدترین ہو جائیں گے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ مني بجٹ آنے سے نيا سال قوم کيلئے بدترين سال بن جائے گا لہذا حکومت ناکامی کااعتراف کرتے ہوئے قوم کی جان چھوڑ دے۔

شہبازشريف نے منی بجٹ کو پارلیمنٹ کی خودمختاری پر حملہ قرار ديتے ہوئے کہا عوام کی اکثریت حکومت سے مکمل بیزار اور مایوس ہو چکی ہے۔

حکومت کا منی بجٹ آرڈیننس کے ذریعے لانے کا معاملہ

یاد رہے کچھ روز قبل وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول اور 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت منی بجٹ پارلیمنٹ کے بجائے آرڈیننس کے ذریعے لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزارت خزانہ کے حکام کا اُس وقت کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ڈیڈ لائن پوری کرنے کیلئے منی بجٹ آرڈیننس کے ذریعے لایا جا سکتا ہے۔

مزید برآں آئی ایم ایف نے 12 جنوری 2022 تک منی بجٹ پر عملدرآمد کی شرط عائد کی ہے، اتنے کم وقت میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی مشکل ہو جائے گی لہذا اس حوالے سے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

علاوہ ازیں آئی ایم ایف نے نومبر میں اسٹاف لیول مذاکرات کے دوران آرڈیننس کی تجویز مسترد کر چکا ہے، اسی کے پیش نظر اب حکومت نے ٹیکس قوانین کا ترمیمی بل اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا چھٹا جائزے کا اجلاس 12 جنوری کو ہوگا، آئی ایم ایف کے اجلاس میں منظور شدہ منی بجٹ کا بل پیش کرنا لازمی ہے، اجلاس میں ایک ارب ڈالر کی منظوری دی جائے گی۔

خیال رہے آئی ایم نے 2019 میں 6 ارب ڈالر کے قرض پیکج کی منظوری دی تھی، پاکستان اب تک دو ارب ڈالر کا قرض موصول کرچکا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube