Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

ایف بی آرکے 4افسران 12کروڑ کے جعلی ٹیکس ریفنڈزمیں ملوث

SAMAA | - Posted: Dec 25, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 25, 2021 | Last Updated: 5 months ago

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 4 سینئر افسران کے 12 کروڑ روپے سے زائد کے جعلی ٹیکس ریفنڈز میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے ان افسران کو فوری طور پر موجودہ عہدوں سے ہٹانے، ان کیخلاف فوجداری اور تادیبی کارروائی کی سفارش کردی

وفاقی ٹیکس محتسب کے سوموٹو نوٹس کے ذریعے کی گئی تحقیقات کے مطابق ایف بی آر کے چار سینئر افسران چوہدری محمد طارق، سید ندیم حسین رضوی، ڈاکٹر سرمد قریشی اور اشفاق احمد 12 کروڑ روپے سے زائد کے جعلی ٹیکس ریفنڈ اسکینڈل میں ملوث ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرپشن کے وقت ایف بی آر کے ان لینڈ ریونیو کے گریڈ 21 کے افسر اور چیف کمشنر کارپوریٹ ٹیکس آفس لاہور چوہدری محمد طارق ایڈیشنل کمشنر آئی آر تعینات تھے، گریڈ 21 کے ممبر بے نامی ایڈجیوکیٹنگ اتھارٹی سید ندیم حسین رضوی چیف کمشنر سی آر ٹی او لاہور تعینات تھے، کمشنر سی آر ٹی او لاہور گریڈ 21 کے افسر ڈاکٹر سرمد قریشی اور ڈپٹی کمشنر آئی آر اشفاق احمد مجموعی طور پر 12 کروڑ 33  لاکھ 64 ہزار روپے کے جعلی ٹیکس ریفنڈز میں ملوث پائے گئے ہیں۔

وفاقی ٹیکس محتسب کی تحقیقات کے مطابق میسرز چائنا نیشنل الیکٹرک وائر اینڈ کیبل امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن جو کہ ایسوسی ایشن آف پرسنز کے طور پر رجسٹرڈ کمپنی ہے، جس نے سال 2012ء میں دو کروڑ 61 لاکھ 19 ہزار روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈ کا کیس دائر کیا تھا، نان ریذیڈنٹ کمپنی ہونے کے ناطے سال 2012ء کیلئے اس کا انکم ٹیکس ریفنڈز کا کلیم ناقابل قبول ہونا چاہئے تھا۔

پوسٹ آڈٹ رپورٹ سے معلوم ہوا کہ مذکورہ کمپنی نے ٹیکس سال 2007، 2008، 2009 اور 2011ء میں ٹیکس ریفنڈز کلیمز دائر کئے جو کہ بالترتیب دو کروڑ 67 لاکھ 78 ہزار روپے، 2 کروڑ 52 لاکھ 64 ہزار روپے، 7 کروڑ 11 لاکھ 51 ہزار روپے اور ایک لاکھ 70 ہزار روپے کے ریفنڈز کے کیس ہیں، پر ڈائریکٹر آئی اینڈ آئی لاہور چیف کمشنر آئی آر، آر ٹی او لاہور کو تحقیقاتی رپورٹ جاری کی کیونکہ ایف بی آر کا محکمہ پہلے ہی مجموعی طور پر 12 کروڑ 33 لاکھ 64 ہزار روپے کے ٹیکس ریفنڈز مذکورہ کمپنی کو جاری کرچکا تھا حالانکہ یہ کمپنی ٹیکس ریفنڈز کی مجاز ہی نہیں تھی۔

جس پر ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس و انویسٹی گیشن نے ٹیکس سال 2007ء سے 2011ء کے دوران جاری ہونیوالے ٹیکس ریفنڈز سے ریونیو نقصان پر کارروائی کی سفارش کی لیکن اس پر کوئی خاص کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

وفاقی ٹیکس محتسب کی تحقیقات کے مطابق ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس و انویسٹی گیشن نے ریفنڈز کے ایسے کیسوں کیخلاف ریڈ الرٹ جاری کیا تھا، لیکن ایف بی آر کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی متعلقہ بینک برانچوں کی مینجمنٹ کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube