Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

لیبیا: نصابی کتب کی کمی پر وزیر تعلیم گرفتار

SAMAA | - Posted: Dec 22, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 22, 2021 | Last Updated: 5 months ago

لیبیا میں اسکول کی کتابوں کی کمی پر کی جانے والی تحقیقات کے تحت ملک کے وزیر تعلیم کو گرفتار کر لیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کی پروسیکیوشن سروس نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر تعلیم موسیٰ المقریف کو پیر کو گرفتار کیا گیا اور انہیں (ممکنہ) لاپرواہی پر تحقیقات کے تحت حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پبلک پروسیکیوشن نے نصابی کتب کی طباعت کے معاہدے کے طریقہ کار، اس حوالے سے موجود صورتحال اور کتب کی کمی کی وجوہات کے تعین کے لیے انکوائری کا آغاز کردیا ہے۔

اس میں مزید کہا گہا کہ اس کیس میں وزیر برائے منصوبہ بندی سمیت متعدد دیگر افسران بھی پوچھ گچھ کے لیے مطلوب ہیں۔

واضح رہے کہ سابق صدر معمر قذافی کے دور سے لیبیا کے حکام ستمبر میں تعلیمی سال کے آغاز پر ہر طالب علم کو مفت نصابی کتب فراہم کرنے کے لیے بجٹ مختص کرتے ہیں۔

تاہم ابھی تک اس سال کی بہت سی کتابوں کی فراہمی باقی ہے جس کی وجہ سے طلبا فی کلاس میں دی جانے والی چند کتابوں کی فوٹو کاپیاں کروانے پر مجبور ہیں، کئی طلبا کو دسمبر کے وسط تک بھی  نصابی کتب فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

طرابلس کے ایک طبی کلینک کی سیکریٹری ذکیہ عبدالصمد کا کہنا ہے کہ ’میرے 3 بچے پرائمری اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور ہر کلاس کے لیے کتابوں کی کاپی کروانے کے لیے سیکڑوں دینار کے اخراجات آرہے ہیں، یہ نقد کی کمی کے شکار لوگوں کے لیے یہ ایک بڑا خرچہ ہے۔

دوسری جانب لیبیا میں کئی اسٹیشنری اور دفتری سامان کی دکانوں نے مذکورہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کتابوں کی زیادہ قیمت والی کاپیاں فروخت کی ہیں۔

موسیٰ المقریف کی گرفتاری سے قبل وزارت تعلیم نے 2014 میں مشرق و مغرب کی کلیدی فرقہ بندی کے مختلف ورژن تیار کرنے کے بعد لیبیا کے نصاب کو دوبارہ متحد کرنے کے پیچیدہ عمل  کو تاخیر کا موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube