Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

اسحاق ڈارنااہلی کیس سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتےسماعت کیلئےمقرر

SAMAA | - Posted: Dec 16, 2021 | Last Updated: 5 months ago
Posted: Dec 16, 2021 | Last Updated: 5 months ago
[caption id="attachment_1743012" align="alignnone" width="640"] فوٹو: اے ایف پی[/caption]

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے اسحاق ڈار کی سینیٹ نشست خالی قرار دینے کی استدعا کردی۔ عدالت عظمیٰ نے اسحاق ڈار نااہلی کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لئے مقرر کردیا۔

جمعرات کو جسٹس اعجاز الاحسن کے روبرو نااہلی کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے اراکین پارلیمنٹ کے حلف کے حوالے سے نیا قانون بنایا ہے،جس کے تحت 60 روز تک حلف نہ اٹھانے والے رکن پارلیمنٹ کی نشست خالی تصور ہوگی۔ مسلم لیگ ن نے اس قانون سازی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چینلج کیا مگر وہ خارج ہوگئی تاہم اب انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مسلم لیگ ن کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کررکھا ہے۔ سپریم کورٹ نے بار بار اسحاق ڈار کو طلب کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اور وہاں کہتے ہیں کہ نوٹیفکیشن معطل ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکتے،لہذا اس کیس کی سماعت مقرر کی جائے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔

اسحاق ڈارکی نااہلی کیلئےریفرنس چیئرمین سینیٹ کو بھجوادیا 

چھ نومبر کو اسحاق ڈار کی نااہلی کے لیے ریفرنس چیئرمین سینیٹ کو بھجوا دیا گیا۔ریفرنس جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق کی جانب سے سینیٹر آئین کے آرٹیکل 63 کی شق نمبر 2 کے تحت بھجوایا۔

ریفرنس کے متن کے مطابق اسحاق ڈار آئین کے آرٹیکل 63 او کے تحت ڈیفالٹر ہیں، 3کروڑ 83لاکھ 73ہزار498 روپے عطاءالحق قاسمی کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے جرمانہ کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق 50 فیصد عطاءالحق قاسمی جبکہ 20 فیصد پرویز رشید اور اسحاق ڈار دینا تھا لیکن اسحاق ڈار نے ابھی تک رقم قومی خزانے میں جمع نہیں کروائی۔متن میں استدعا کی گئی کہ چیئرمین سینٹ 30 دنوں میں فیصلہ کر کے ریفرنس نااہلی کے لیے الیکشن کمشن کو بھجوائے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر اسحاق ڈار نے اب تک حلف نہیں اٹھایا۔ اس متعلق اسحاق ڈار نے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا تھا۔ خط میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ 40 دنوں میں حلف لینے کا اطلاق مجھ پر نہیں ہوتا۔

سابق وزیر خزانہ نے اپنے خط میں واضح کیا تھا کہ میرے نوٹیفکیشن کو 8مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے معطل کیا تھا۔ میرا مقدمہ زیر التوا ہے، جس کے تحت میرا نوٹیفکیشن معطل ہے، جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا میں سینیٹ کی رکنیت کا حلف نہیں لے سکتا۔اسحاق ڈار نے اپنے خط میں یکم ستمبر کے صدارتی آرڈیننس کا بھی حوالہ دیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube